ادلب پر حملے شامی مہاجرین کی یورپ آمد کا نیا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں: ترک وزیر خارجہ

0 1,683

شمال مغربی شام کے علاقے ادلب میں شامی حکومت کی جانب سے مسلسل حملے یورپ میں شامی مہاجرین کی آمد کا نیا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں، ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے کہا۔

ناروے کے دو روزہ سرکاری دورے پر آمد کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چاؤش اوغلو نے کہا کہ روس نے ترکی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بشار الاسد کی حکومت ادلب میں ترکی چوکیوں پر حملہ نہیں کرے گی۔

وزیر نے یہ بھی کہا کہ ترک فوج سیاسی حل ہونے پر شام چھوڑ جائے گی لیکن اس وقت شامی حکومت کسی ایسے حل پر یقین نہیں رکھتی۔

حزب اختلاف کے آخری گڑھ ادلب کے لیے شامی حکومت کی جارحیت اپریل کے اواخر میں شروع ہوئی اور اموات اور لوگوں کے بے گھر ہونے کا سبب بنی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ مارک لوکوک نے کہا کہ جارحیت کے آغاز سے بعد سے 500 سے زیادہ شہری مارے گئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے صحت و بچوں کے حوالے سے اداروں کا کہنا ہے کہ صحت کی 43 تنصیبات، 87 تعلیمی ادارے، 29 واٹر اسٹیشن اور سات مارکیٹیں اس لڑائی میں متاثر ہوئی ہیں۔

‘ایرانی ٹینکر لبنان جا رہا ہے، ترکی نہیں’

چاؤش اوغلو نے ان دعووں کو بھی رد کیا کہ ایرانی آئل ٹینکر، جو واشنگٹن اور تہران کے مابین تنازع کا سبب ہے اور اس وقت ترکی کے جنوبی پانیوں میں ہے، کی منزل ترکی تھا۔

"ایڈرین دریا لبنان جا رہا ہے، ترکی نہیں،” انہوں نے کہا۔

ٹریکنگ سائٹ مرین ٹریفک نے جمعے کی صبح ظاہر کیا تھا کہ ایڈرین دریا، جس کا پرانا نام گرین 1 تھا، ایک مرتبہ پھر اپنا راستہ بدلتے ہوئے جنوب مشرقی ترک بندرگاہ اسکندرون کی جانب رواں تھا۔

اس جہاز پر شبہ تھا کہ یہ خام تیل شام لے کر جا رہا ہے جو ملک پر عائد یورپی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے اور امریکا نے اس کو ضبط کرنے کا کہا۔

چاؤش اوغلو نے واضح نہیں کیا کہ ٹینکر کی حتمی منزل لبنان تھی یا نہیں، البتہ انہوں نے کہا کہ ترکی اس بحری جہاز کی پیش رفت کو "بہت قریب سے” دیکھ رہا ہے۔

برطانیہ میں ایک عدالت نے 15 اگست کو اس ٹینکر کوچھوڑنے کا فیصلہ دیا حالانکہ آخری منٹ پر امریکا نے اس کو ضبط کرنے کی بات بھی کی۔

ایڈرین دریا 1 تین دن بعد مشرقی بحیرۂ روم کی جانب روانہ ہوا، 21 لاکھ بیرل تیل کے ساتھ جس کی مالیت 140 ملین ڈالرز ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے تیل فروخت کیا ہے، لیکن خریدار کا نام ظاہر نہیں کیا۔

تبصرے
Loading...