آسٹریا مسجدیں بند کر کے امام ڈی پورٹ کرے گا تو ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں رہیں گے، ایردوان

0 2,338

آسٹریا میں حال ہی میں مساجد بند کرنے اور امام مساجد کو ڈی پورٹ کرنے پر بات کرتے ہوئے ترک صدر ایردوان نے زور دیا کہ آسٹرین چانسلر کی جانب سے اٹھائے جانے والے یہ اقدامات دنیا کو ایک بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں جس میں صلیب اور چاند آمنے سامنے ہوں گے۔

صدر ایردوان نے کہا، "ورنہ یہ معاملے کسی دوسرے طریقے سے بھی حل کئے جا سکتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے اماموں کو آسٹریا سے نکال دیں گے۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ ایسا کریں گے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھیں رہیں گے؟، ہم بھی اقدامات اٹھائیں گے”۔

آسٹریا کہ دائیں بازو کی کٹر پارٹی نے 7 مساجد بند کر کے کہا ہے کہ وہ پیش اماموں کو ڈی پورٹ کر دیں گے۔ اقدامات کا مقصد انتہا پسند اسلام کے پھیلاؤ کو روکنا اور مساجد اور اماموں کو ترکی کی طرف سے کی جانے والی فنڈنگ کو روکنا ہے۔

آسٹرین حکومت نے 2015ء میں "اسلام پر قانون سازی” کی تھی جس کے ذریعے آسٹریا میں موجود مذہبی گروہوں کو ملنے والی غیر ملکی فنڈنگ کو روکنا اور مسلمانوں تنظیم کو (آسٹرین) ریاست اور معاشرے سے ہم آہنگ کرنا تھا۔

صدر ایردوان نے فوری ردعمل دیتے ہوئے آسٹرین حکومت کی نئی پالیسیوں کو اسلاموفوبک، امتیازی اور نسل پرستانہ قرار دیا تھا۔

زیر عتاب آنے والے پیش اماموں کا تعلق ترکش اسلامک یونین فار کلچرل اینڈ سوشل کوآپریشن ان آسٹریا (ATIB) سے تعلق رکھتے تھے۔ جنہیں ترک حکومتی ادارے دیانت کی مدد حاصل ہے۔ تاہم تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ فنڈنگ کے ذرائع تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...