اے بیت المقدس! ہمارا انتظار کرنا

0 3,878

علی شاہین، ترکی میں سب سے بڑے پاکستانی ہیں، انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے عالمی تعلقات میں بیچلر اور ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ترک پارلیمنٹ کے واحد رکن ہیں جنہیں اردو زبان پر بھی عبور حاصل ہے۔ پاک ترک دوستی پارلیمانی گروپ کے چئیرمین کے علاوہ نائب وزیر برائے یورپی یونین معاملات بھی ہیں۔ آر ٹی ای اردو پر گاہے بگاہے وہ اردو قارئین کے لیے لکھتے رہیں گے۔
——————————————————————————————————————————–

جبل زیتون سے حرم شریف کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ گہرا احساس ہو رہا تھا کہ میں دنیا کی سب سے مقدس سیرگاہ کی ہوا اپنے جسم و روح میں اتار رہا ہوں۔ تل ابیب کے ساحل پر، مسجد بحر کو بالکل اپنے سامنے لاتے ہوئے، بحیرہ روم کے اوپر غروب آفتاب دیکھنے کا درد ابھی بھی میرے دل کی دیواروں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے، ابھی بھی اس پرانے وقتوں کی پس مردگی گہرے نقوش کے ساتھ کندہ ہے۔

ہر گلی، ہر اک پتھر، انگ انگ سے اسلام کی خوشبو سے مزین بیت المقدس پر قدم رکھتے ہوئے میں اپنی آزمائش کے سفر پر آگے بڑھتا گیا۔ مجھے یاد ہے جب میں نے خود کو ایک درویش جیسا محسوس کیا، جس کے سر کے بال ریت اور گرد سے اٹے ہوں، جو بکھرا بکھرا، اداس اور عاجز سا ہو۔

اور اس پر چلتے ہوئے میں خیالوں میں کھو گیا ہوں، اے میرے قبلہ اوّل، میرے فخر، میرے حرم شریف! پاؤں رکھنے کی جگہ سے لپٹنا، گلے لگنا، اور صدیوں اپنے محبوب کے وصال کے لیے تڑپنے والے عاشق کی طرح آنسو بہا کر رونا چاہتا ہوں۔

روئے زمین پر کئی شہروں میں رہا، کئی فضاؤں میں سانس لیا لیکن بیت المقدس جتنا اداس، بیت المقدس جتنا پُرتکلیف، لیکن اس قدر پُرغرور اور عاجز شہر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔

2008ء کے ایک مبارک جمعہ کے دن، قبلہ اوّل مسجد اقصیٰ سے بیت اللہ کی جانب گھوما اور دیواروں، صحن کے پتھروں اور گرد و غبار سے اٹے فرش کو چھوتے ہوئے حرم شریف سے ایک دعاء کی طرح یوں ملا، مناجات کی:

اے بیت المقدس! تاریخ کے کسی عہد میں، کبھی بھی صلاح الدین ایوبی کی کمی اتنی محسوس نہیں ہوئی جتنی آج ہو رہی ہے۔ اے بیت المقدس! نظریں افق پر جمائے، سالوں قبل سفر پر بھیجے گئے اپنے بچے کا امید کے ساتھ انتظار کرنے والی ماں کی طرح، صلاح الدین ایوبی کی راہ تکتے میرے بیت المقدس۔۔۔! اے امت کے رستے ہوئے زخم، توقیر اور امید بیت المقدس۔۔۔!

جان لو، درپیش مقدس آزمائش، ہمارے اندر مظفر فتوحات کی باد گرد بنا رہی ہے۔ اور اے مسجد اقصیٰ، تیرے مبارک صحن میں گرنے والا امت کا ہر قطرہِ خون، آج ہمارے دلوں میں پھٹتا ہوا آتش فشاں بن رہا ہے۔

اللہ کا وعدہ سچا اور قطعی ہے۔ تم مومنوں کے دلوں میں بستی ہو مسجد اقصیٰ! شریانوں سے دل میں داخل ہوتے خون کی طرح، بیت المقدس کے 7 پُرشکوہ دروازوں سے داخل ہونے والے اسلامی لشکر گلیوں سے سیلاب کی طرح گزرتے ہوئے تیرے صحن میں اتریں گے۔

مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک روئے زمین کے کسی بھی جغرافیے میں جہاں کہیں بھی ہو، مومن کا دل صبر سے لبالب، مُکہ سخت سے سخت، شہداء قطار در قطار، اے بیت المقدس تم ایک وعدہ کی گئی فتح ہو۔

تم ایک مدینہ الاسلام اور بلدالاحترام ہو کہ جس پر شعر لکھے گئے، نصرت کے ترانے پڑھے گئے، فتح کی قسمیں اٹھائی گئیں۔ صدیوں سے آباد اور قائم کئے گئے معبد خانوں کے ساتھ تمہیں، وہ عظیم اور بہادر خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دنوں والی رواداری کی صدی میں تبدیل کرنا، امت کے رب کو دیا گیا وعدہ ہے۔

اے رخِ اوّل، امت کی روحیں شیطان کو بیچنے والے، غلام بنائے گئے اور گھٹنے ٹیک دینے والے، متکبر اور رسوا رہنما تیری طرف کمر پھیر بھی چکے ہوں بھی تو ہر چاشت کے وقت اپنے آنسو صاف کر کے تجھے چاہنے والے صلاح الدین جیسے دلیر لیڈر روئے زمین پر موجود نہیں۔۔۔

ہمیں معاف کرنا اے بیت المقدس، اے مسجد اقصیٰ اور تم اے گنبد صخرا۔ ذلت میں گر کر تیرے وصال سے برتی گئی ہماری غفلت پر، پیغمبروں کے مبارک قدموں سے شرف بخشے گئے تیری صحن کو ظالم بوٹوں سے پراگندہ کروانے پر ہمارے خلاف رب کے حضور مدعی نہ بننا۔

ہم اللہ کی رسی کے بجائے ظالموں کی رسی میں جکڑے گئے ہیں، ستم زدہ بنے ہیں، مغلوب ہوئے ہیں، اداس ہوئے ہیں۔

ہم میں گھر کرنے والی آخری روح تم ہو اے مسجد اقصیٰ۔ ہم نے تمہیں چھوڑ دیا، تم ہمیں مت چھوڑ دینا۔ ترکی میں تمہارے لیے دھڑکنے والے دل، ایک نئی نوجوان نسل، ایک نئی ملت، تم پر فدا ہونے والی ایک امت پیدا ہو رہی ہے۔۔۔

امت کی مائیں، کشمیر سے بوسنیا تک ہر مسلم جغرافیہ میں آنسوؤں میں بھیگی ہوئی ہیں- اور وہ مقدس آنسو کی لڑیاں ہمارے اندر فتح کی امید بھر رہی ہیں، مضبوط قیادتیں پروان چڑھا رہی ہیں-

ہم تمہاری طرف واپس لوٹیں گے اے بیت المقدس! جس طرح مکہ مکرمہ کی طرف لوٹے اسی طرح تیری طرف لوٹیں گے- طویل مہمات کے بعد اپنی انتظار کرتی ماؤں، عورتوں اور بچوں کی طرف (لوٹیں گے)، مسجد اقصیٰ کی طرف، گنبدِ صخرا کی جانب قطار در قطار واپس مڑیں گے اور پُرجوش طریقے سے گلے لگائیں گے-

اے بیت المقدس ہمارا انتظار کر، جس طرح مائیں اپنے بچوں کا انتظار کرتی ہیں، جیسے بندرگاہیں آنے والے بحری جہازوں کی راہ تکتی ہیں- جیسے جنگل بارشوں کا انتظار کرتے ہیں- اللہ کی قسم ہم واپس لوٹیں گے-

تبصرے
Loading...