صدرایردوان کی زیر قیادت قومی سلامتی کونسل کا اجلاس، ایجنڈے میں آذربائیجان-آرمینیا کشیدگی اور لیبیا سرفہرست

0 1,018

صدر رجب طیب ایردوان کی زیر قیادت بدھ کو قومی سلامتی کونسل (MGK) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے اہم موضوعات آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ زدہ لیبیا میں ہونے والی تازہ پیش رفت تھی۔

اجلاس میں قبرص میں امن کی کوششوں کے ساتھ ساتھ مشرقی بحیرۂ روم میں ڈرلنگ کی سرگرمیاں اور وطنِ عزیز میں اور بیرونِ ملک ، خاص طور پر شام و عراق میں ، دہشت گردی کےخلاف جنگ جیسے اہم موضوعات بھی موضوع رہے۔

اجلاس نے لیبیا کی بین الاقوامی طور پر منظور شدہ حکومت کی بھرپور مدد کا اعادہ کیا۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گيا ہے کہ "ترکی لیبیا کی قانونی GNA حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔” تمام ممالک سے اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) کی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے اجلاس نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری جنگجو خلیفہ حفتر کی حمایت سے باز رہے۔

لیبیا 2011ء میں سابق آمر معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے خانہ جنگی کی زد میں ہے۔ ملک کی نئی حکومت چار سال بعد 2015ء میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کے ایک معاہدے کے ذریعے قائم ہوئی تھی، لیکن طویل المیعاد سیاسی حل کے لیے کوششیں باغی جنرل خلیفہ حفتر کی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے اب تک ناکام ہیں۔

حفتر کی افواج کو متحدہ عرب امارات، مصر اور روس کی پشت پناہی حاصل ہے جبکہ اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کا حامی ترکی ہے۔ لیبیا کی حکومت نے حال ہی میں حفتر کے خلاف زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں اور انہیں طرابلس سے مار بھگایا ہے اور ترہونہ کے اہم قصبے کو بھی آزاد کرا لیا ہے۔

ان اجلاسوں کا مستقل موضوع بدقسمتی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی ہے جو ترکی کئی دہائیوں سے لڑ رہا ہے اور دن بدن دہشت گردی کثیر پہلو ہوتی جا رہی ہے۔ ملک 40 سال سے زیادہ عرصے سے ‏PKK سے لڑ رہا ہے اور گولن دہشت گرد گروپ سے بھی خطرات کا سامنا ہے کہ جس نے 15 جولائی 2016 کو ملک کی جمہوری طور پر منتخب شدہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ ملک شمالی شام میں ‏PKK کی شامی شاخ ‏PYD/YPG اور داعش کا بھی مقابلہ کر رہا ہے۔

اجلاس میں زور دیا گیا کہ ترکی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے قدم پیچھے نہیں ہٹائے گا۔ شام میں YPG/PYD اور داعش کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور ترکی شمالی عراق میں PKK کو محفوظ ٹھکانے نہیں بنانے دے گا۔

کونسل نے FETO دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بھی گفتگو کی اور ملک میں اور بیرونِ ملک اس گروپ سے درپیش خطرات سے اپنے شہریوں کو بچانے کا عزم ظاہر کیا۔

اجلاس میں آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین کشیدگی کے موضوع پر بھی گفتگو کی گئی جس میں برادر ملک آذربائیجان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ "ترکی آرمینیا کی امن مخالف جارحیت کی مذمت کرتا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ترکی ایک مرتبہ پھر زور دیتا ہے کہ وہ آذربائیجان کے ہر جائز فیصلے کی حمایت کرے گا۔ آرمینیا کو اپنا جارحانہ رویہ ترک کرنے اور غیر قانونی طور پر ہتھیائے گئے آذربائیجانی علاقے واپس کرنے کی ضرورت ہے۔”

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب آرمینیا کی فوج نے شمال مغربی تووز سرحدی ضلع میں آذربائیجانی پوزیشنوں پر گولاباری کیے اور جواب میں آذربائیجانی فوج کے حملے کے نتیجے میں جانی نقصان سہنے کے بعد علاقہ چھوڑ دیا۔ اس دورران 12 آذربائیجانی فوجی جان سے گئے کہ جن میں ایک میجر جنرل اور ایک کرنل بھی شامل تھا۔ بین الاقوامی مطالبات کے باوجود آرمینیا کے فوجیوں نے قریبی رہائشی علاقوں پر بھی فائرکھولا۔ جس سے ایک 76 سالہ بزرگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا تھا کہ ترکی آرمینیا کی حالیہ جارحیت کے مقابلے میں آذربائیجان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

اجلاس میں مسئلہ قبرص کے پرامن حل کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا گیا کہ ترکی کسی بھی ملک کو امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ترکی بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اجلاس میں ترکی اور یونان کے مابین حالیہ کشیدگی سے پیدا ہونے والی صورت حال پر بھی غور کیا گیا۔ مشرقی بحیرۂ روم میں قدرتی وسائل کی تلاش کے لیے ترکی کی جاری سرگرمیوں پر یونانی وزارت خارجہ نے تنقید کی ہے جس پر ترک وزارت خارجہ نے بھی کرارا جواب دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یونان کے دعوے بین الاقوامی قوانین، قانونی ترجیحات اور عدالتی فیصلوں کے خلاف ہیں۔ وزارت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "یونان کا 40,000 کلومیٹرز کے براعظمی کنارے کا دعویٰ ایک ایسے جزیرے کی بنیاد پر ہے جو اناطولیہ سے صرف 2 کلومیٹرز دور اور یونان سے 580 کلومیٹرز کے فاصلے پر ہے، اس لیے یہ دعویٰ نامعقول ہے اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔”

وزارت نے مذاکرات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ترکی بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔

تبصرے
Loading...