آذربائیجان نے مقبوضہ نگورنو-قاراباخ کے چند علاقے واپس لے لیے

0 173

آرمینیا کے قابض رہنما آرائیک ہاروتیونیان نے کہا ہے کہ تازہ جھڑپوں میں انہوں نے مقبوضہ نگورنو-قاراباخ کے علاقے کے چند مقامات آذربائیجان کی فوج کے ہاتھوں کھوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عام شہری اور فوجی اہلکاروں کی اموات بھی ہوئی ہیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

دریں اثناء، خبروں کے مطابق آذربائیجان کی فوج نے آرمینیا کے قبضے میں موجود نگورنو-قاراباخ میں آپریشنز کا دوسرا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

اتوار کو آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین 2016ء کے بعد سخت ترین جھڑپیں ہوئیں کہ جن میں کم از کم 16 فوجی اور متعدد شہری مارے گئے ہیں، جس سے جنوبی قفقاز کے علاقے کے امن و استحکام کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ جہاں سے کئی عالمی مارکیٹوں کو جانے والے تیل اور گیس کی پائپ لائنز گزرتی ہیں۔

آرمینیا کی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے پیر کو علی الصبح تصدیق کی کہ "شدید لڑائی” میں 15 مزید افراد جان سے گئے ہیں اور رات بھر کی لڑائی کے بعد یوں مرنے والے فوجیوں کی تعداد 32 تک جا پہنچی ہے۔

آذربائیجان نے کہا ہے کہ اس نے قاراباخ میں اہم پہاڑی چوٹی پر قبضہ کر لیا ہے جس سے یریوان اور محصور علاقے (enclave)کے درمیان نقل و حمل پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔

آذربائیجانی مسلح افواج نے جوابی حملے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو اپنے دفاع کا حق اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق قرار دیا ہے، جس کے ذریعے وہ آرمینیا کی عسکری جارحیت کے خاتمے اور انتہائی گنجان آباد شہری علاقوں کو تحفظ دے رہا ہے۔

مقبوضہ نگورنو-قاراباخ اور اردگرد کے آذربائیجانی علاقوں میں آرمینیا کی فوج کی غیر قانونی موجودگی کو علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے وزارت نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ آذربائیجان کے خلاف آرمینیا کی جارحانہ پالیسی اور اشتعال انگیز سرگرمیوں کی سختی سے مذمت کرے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیف نے ملک کے کچھ علاقوں میں مارشل لاء اور بڑے شہروں میں کرفیو لگانے کا اعلان کیا ہے۔

قوم سے خطاب میں الہام علیف نے کہا کہ "آرمینیا کی بمباری سے آذربائیجانی فوج اور شہری آبادی کا نقصان ہوا ہے۔” لیکن انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دشمن کے کئی عسکری ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔”

جنوبی قفقاز میں آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین کشیدگی اتوار کو پیدا ہوئی جس میں آرمینیا کا کہنا ہے کہ آذربائیجان افواج نے نگورنو-قاراباخ کے علاقے میں گولا باری کی جبکہ آذربائیجان نے آرمینیا کی افواج پر آذربائیجانی فوجی و شہری علاقوں پر گولاباری کا الزام لگایا ہے۔

تبصرے
Loading...