نیگوراکاراباغ میں پاکستان اور ترکی کی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت

0 1,674

پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کےدرمیان دوسرے سہہ فریقی مذاکرات ہوئے جسے ‘اسلام آباد ڈیکلریشن’ کا نام دیا گیا ہے۔

مذاکرات کے بعد تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، سہ فریقی مذاکرات کا آج دوسرا دور ہوا، پہلا دور باکو میں ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، عوامی روابط اور سیکیورٹی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال اور سہ فریقی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مذاکرات میں مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے، مسلم اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف مظالم، اسلاموفوبیا اور کورونا وائرس کے باعث عالمی سطح پر درپیش چیلنجز پر بات ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا، پارلیمانی تبادلے، فنکاروں اور سیاحوں کے رابطوں کے فروغ پر بھی بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں عالمی و علاقائی سلامتی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، تینوں ممالک امن و استحکام اور خطے کی ترقی چاہتے ہیں، ہم ترکی اور آذربائیجان کے جموں و کشمیر تنازع پر حمایت پر شکر گزار ہیں اور انہیں مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم اور آبادیاتی تناسب میں تبدیلیوں کے بھارتی منصوبوں سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں ریاستی دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے بھارتی منصوبوں سے دونوں وزرائے خارجہ کو آگاہ کیا جبکہ جعلی میڈیا ہاؤسز کے ذریعے پاکستان مخالف ایجنڈے کے حوالے سے ‘ای یو ڈس انفو لیب’ کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ گلوبل اور علاقائی ایشوز، عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل ہونے چاہئیں جبکہ نیگورنو۔کاراباخ کے معاملے کا بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاک ۔ ترک تعلقات بہت خاص ہیں اور ہم ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کرتے ہیں، ہماری تجارت صرف 80 کروڑ ڈالرز ہے جس میں اضافے کی گنجائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے بھی تفصیلی بات ہوئی، عمران خان اور ترک صدر اردگان کے درمیان تجارت بڑھانے پر جو روڈمیپ تیار کیا گیا اس پر عملدرآمد کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، پاکستان کے ساتھ دفاعی پیداوار کے شعبے میں تعلقات خاص طور پر ہیلی کاپٹرز اور مشاق طیاروں پر بھی بات ہوئی۔

میولود چاوش اولو نے کہا کہ سہ فریقی مذاکرات میں تینوں ممالک نے سیکیورٹی استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، باہمی روابط، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی جبکہ سہ فریقی اجلاس زیادہ باقاعدگی سے بلایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزارتی کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد پر زور دیا گیا، کشمیری بھائی بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور پرامن طریقے سے تنازعات کے حل پر زور دیتے ہیں۔

اس موقع پر آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے دوسری کاراباخ جنگ کے دوران ٹھوس حمایت پر شکر گزار ہیں، پاکستان اور ترکی نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا آذربائیجان کی سالمیت پر منصفانہ موقف اپنایا، جبکہ آذری عوام نے بھرپور طور پر پاکستان اور ترکی کے جھنڈے لہرا کر ان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک ریاستوں کی خودمختار پالیسیوں کے حامی ہیں، ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مسترد کرتے ہیں، ہم معیشت اور تجارت کے شعبے میں تعلقات بڑھانے کے حامی ہیں اور عوام کے مفاد میں مل کر کام کرنے کے لے پرعزم ہیں۔

جیہون بیراموف کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسیاں ہمارے اپنے مفادات کے تحت ہیں، تینوں ممالک مین تعاون کے فروغ کی بے حد گنجائش موجود ہے، پرانے تجارتی روٹس کی بحالی سے تینون ممالک. خوشحالی کی جانب بڑھیں گے۔

انہوں نے نیگورنو کاراباخ کے آزاد کرائے گئے علاقوں میں پاکستان اور ترکی کی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

تبصرے
Loading...