آذربائیجان میں یومِ فتحِ قرہ باخ، ترکی اور پاکستان کی مبارک باد

0 75

آذربائیجان نے سومار کو قرہ باخ کی آزادی کا پہلا جشن منایا۔ اس موقع پر ملک کی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی قفقاز کے خطے میں نئے حقائق جنم لے چکے ہیں اور آرمینیا کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ علاقائی تعاون اور غیر قانونی و بے بنیاد علاقائی دعووں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 44 روزہ جنگ قرہ باخ کا آغاز 27 ستمبر 2020ء کو ہوا تھا، جو آرمینیا کے بڑھتے ہوئے حملوں اور اشتعال انگیزیوں کے حلاف شروع ہوئی اور بالآخر آذربائیجان نے اپنی سرزمین کو قبضے سے چھڑا لیا۔ یوں تقریباً 10 لاکھ آذربائیجانی مہاجرین کے اپنے آبائی علاقوں میں رہنے کا خواب پورا ہوا۔

یہ بتاتے ہوئے کہ جنگ کے دوران 300 علاقے آزاد کروائے گئے، اور آذربائیجان، روس اور آرمینیا کے مابین 10 نومبر 2020ء کو ایک سہ فریقی معاہدہ طے پایا، جس میں آرمینیا نے اپنی شکست کو تسلیم کیا اور یہ مسئلہ عسکری و سیاسی بنیادوں پر حل ہو گیا۔

مزید کہا گیا کہ آزاد کردہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کا کام کیا گیا، علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کیا گیا اور اس کا ہدف بالآخر مہاجرین کو اپنے علاقوں میں آباد کرنا تھا کہ جن کے بنیادی حقوق دہائیوں تک متاثر ہوئے لیکن وہ اپنے آبائی علاقوں میں محفوظ اور باوقار انداز میں واپس آئے۔

اس میں زور دیا گیا ہے کہ آذربائیجان نے آرمینیا کو 30 سال کے جارحانہ اقدامات، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم پر عدالت میں گھسیٹنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اور یہ عمل ابھی جاری ہے۔

ستمبر میں آذربائیجان نے عالمی عدالت انصاف میں آرمینیا کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ نسل کشی اور ثقافت کو مٹانے کے عمل میں ملوث رہا ہے۔

اس موقع پر آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایک مارچ کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جسے "وکٹری مارچ” کا نام دیا گیا تھا۔ اس میں ملٹری ہائی اسکول کے طلبہ، بارڈر سروسزکمانڈ کے اراکین، قرہ باخ جنگ کے غازیوں اور شہریوں نے شرکت کی۔

آذربائیجان کے جاری کردہ بیان میں محض اپنے ملک کا نہیں بلکہ اس کے دوست اور برادر ممالک کے کردار کا بھی ذکر ہے۔

ترکی کی بھی کئی اعلیٰ شخصیات نے اس موقع پر خصوصی بیانات جاری کیے جن میں صدر رجب طیب ایردوان کے علاوہ نائب صدر فواد اوقتائی، ترک وزارت خارجہ، وزیر دفاع خلوصی آقار، اسپیکر پارلیمان اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے صدر ارسین تاتار بھی شامل تھے۔

استنبول میں پاکستان کے قونصل جنرل بلال خان پاشا نے بھی اس موقع پر ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے آذربائیجان کے ساتھ رہا ہے اور اس کا سبب ان کی باہمی دوستی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ترکی، آذربائیجان اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص تین ریاستیں ہیں اور پاکستان برادر ملککی حیثیت سے آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔

تبصرے
Loading...