آذربائیجان کی عسکری کامیابیوں نے ہی نگورنو قاراباخ امن معاہدے کو ممکن بنایا، الہام علیف

0 137

آذربائیجان کے صدر الہام علیف نے نگورنو-قاراباخ امن معاہدے کو سراہتے ہوئے اسے اپنے ملک کی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باکو کی عسکری کامیابیوں کی وجہ سے خطے پر تین دہائیوں سے جاری قبضے کا خاتمہ ہوا ہے۔

قوم سے خطاب میں صدر علیف نے کہا کہ آذربائیجان نے نگورنو-قاراباخ تنازع کا خاتمہ کر دیا ہےا ور میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاہدہ ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے پر دستخط وڈیو کانفرنس کے ذریعے کیے گئے، لیکن آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینیان نے تقریب کے دوران دستخط سے گریز کیا۔ "ایک آہنی ہاتھ نے انہیں دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیا اور وہ دباؤ کی وجہ سے تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اور روسی صدر ولادیمر پوتن نے خود اس معاہدے پر دستخط کیے۔ پشینیان (آرمینیائی وزیر اعظم) بھی اس معاہدے پر دستخط کریں گے، لیکن کیمروں سے دُور اور بزدلی کے ساتھ۔”

اس معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے علیف نے کہا کہ یوں آذربائیجان کے علاقوں پر آرمینیا کے دہائیوں پرانے قبضے کا خاتمہ ہوا اور یہ آذربائیجانی عوام کی ایک شاندار کامیابی ہے۔

علیف نے اس فتح پر آذربائیجانی عوام کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اب کئی آذربائیجانیوں کی سالہا سال کے بعد اپنے علاقوں میں واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔ "اب وہ بحفاظت جا سکتے ہیں۔ آذربائیجان اپنی علاقائی سالمیت کی حفاظت کر رہا ہے۔ ایک قوم کے لیے اس سے زیادہ خوشی کا موقع اور کون سا ہوگا؟ دراصل آذربائیجان کی فوجی کامیابیوں نے نگورنو-قاراباخ میں سیاسی کامیابی کو ممکن بنایا۔”

آذربائیجانی صدر نے کہا کہ "ان کے عوام اپنی سرزمین پر آزادانہ طور پر رہیں گے اور اب کوئی انہیں اپنے گھروں سے نہیں نکال پائے گا۔”

ان سے قبل روسی صدر ولادیمر پوتن نے اعلان کیا تھا کہ آذربائیجان اور آرمینیا نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

دونوں سابق سوویت ریاستوں کے تعلقات نگورنو-قاراباخ کے معاملے پر 1991ء سے کشیدہ ہیں، تاہم تازہ ترین کشیدگی 27 ستمبر سے شروع ہوئی جب آرمینیا نے آذربائیجان کے شہریوں اور فوجی ٹھکانوں پر حملے شروع کیے۔ یہاں تک کہ انسانی بنیادوں پر فائر بندی کے معاہدوں کی بھی خلاف ورزیاں کیں۔

واضح رہے کہ آذربائیجان کا تقریباً 20 فیصد علاقہ لگ بھگ تین دہائیوں سے آرمینیا کے غیر قانونی قبضے میں تھا۔

تبصرے
Loading...