اوروچ رئیس کی موت: کیا اینگن آلتان کا کردار ختم ہو رہا ہے

بارباروس ڈرامہ میں اوروچ رئیس کے کردار کا خاتمہ، ترک میڈیا کی نظر سے

0 1,568

سلطان فاتح کے سپاہی یعقوب آغا کے چار بیٹو اسحاق، اوروچ، خضر اور الیاس کی کہانی بیان کرنے والا ڈرامہ بارباروس، اپنی 17 ویں قسط اگلے ہفتے سکرین پر پیش کرنے جا رہا ہے۔ بارباروس کے نئے ٹریلر میں ہما خاتون کہتی نظر آتی ہیں کہ، "جس زمین کو میں نے دو بیٹے دئیے، اب تیسرا اوروچ دے رہی ہوں۔ جس طرح ہم اوروچ کو زمین کے نیچے دفن کرنے جا رہے ہیں۔ اسی طرح یہ ہمارا فرض ہے کہ اپنے اندر کے درد کو بھی زمین میں دفن کر دیں”۔ اس ٹریلر کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پوچھا جا رہا ہے کہ کیا واقعی اوروچ رئیس مر چکا ہے؟۔

بارباروس ڈرامہ کے اورچ رئیس کی موت کیسے ہوئی؟

 

بارباروس کی گذشتہ ہفتے کی قسط میں اینگن آلتان دوزیاتان کا کردار اوروچ رئیس پیٹرو کے جال میں پھنس گیا تھا اور اس پر تیر اور تلوار کے بھاری وار کئے گئے تھے۔ جس کے بعد زمین پر گر گیا تھا۔ تاہم نئی قسط کے ٹریلر میں اوروچ رئیس کا الوداع دکھایا جا رہا ہے اور ان کی میت پر دعاء مانگی جا رہی ہیں۔

حقیقی اوروچ رئیس کی موت کب اور کہاں ہوئی تھی؟

الجزائر کے مشرق میں واقع ہسپانوی حاکمیت کے تحت محصور علاقہ طیلمسان پر واگزار کروانے والے اوروچ رئیس نے طیلمسان کے امیر جو ہسپانوی حکومت سے بھی مرد حاصل کر رہا تھا۔ شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔ انہوں نے 7 ماہ تک اس سرزمین کا دفاع کیا۔ تاہم مقامی لوگوں نے انہیں دھوکہ دیتے ہوئے الجزائر کو واپس ظالموں کے ہاتھ میں دینے کیلئے دشمن کے محاصرے میں ان کی مدد کی۔

اوروچ رئیس نے نے دشمن کے محاصرے کو پھر بھی توڑ ڈالا اور اپنے چند بہادر سپاہیوں کے ساتھ دریا عبور کیا۔ تاہم ان کے بیس کے قریب سپاہی دشمن کے گھیرے میں آ گئے۔ اوروچ رئیس یہ جانتے ہوئے بھی کہ انہیں دشنوں کے گھیرے سے نکالنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن وہ واپس چلے گئے کیونکہ وہ اپنے وفادار سپاہیوں سے بے وفائی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ دریا کو عبور کرنے کی کوشش کے دوران، اس کے زیادہ تر سپاہی شہید ہو گئے۔ اوروچ رئیس کے ساتھ موجود آخری سپاہی بھی شہید ہو گیا تو دشمن نے ان پر تیزوں کی پوچھاڑ کر دی جس سے وہ نیچے گر گئے اور وہیں شہید ہو گئے۔

وہ ہسپانوی جو اسپین کے بادشاہ کو اوروچ رئیس کی موت دکھانا چاہتے تھے انہوں نے ان کا سر کاٹ کر شہد سے بھرے تھیلے میں ڈال کر اسپین بھیجا۔ ایسا کرنے کی وجہ تاریخ میں یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ہسپانیوں کی جانب سے بادشاہ کو کئی بار خبر بھیجی گئی تھی کہ اوروچ رئیس کو مار دیا گیا ہے لیکن ہر بار وہ خبر جھوٹی نکلتی تھی۔

اوروچ رئیس کی سر کٹی لاش بعد میں مسلمان سپاہیوں نے اٹھائی اور الجزائر لے گئے۔ وہاں انہیں الجزائر کے معروف نیک ہستی سیدی عبد الرحمن کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا۔ آج بھی الجزائر کے اس قصبہ میں یہ مقبرہ موجود ہے جہاں اوروچ رئیس اور سیدی عبد الرحمان ایک ساتھ لیٹے ہیں۔ تاہم اب وہاں عربی سیکھنے والے بچوں کیلئے بھی وہاں ایک اسکول بنایا گیا ہے۔

ایک تاریخی اندازے کے مطابق اوروچ رئیس نے جب شہادت پائی تب ان کی عمر اڑتالیس سال تھی۔ ان کی شہادت 1518ء میں ہوئی تھی۔

ترکی کا بحری جہاز عروج رئیس نئی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے مشرقی بحیرہ روم میں موجود

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: