باربروس: بحیرۂ روم کی تلوار، ایک تاریخی ڈراما، قسط 10

0 724

‏’باربروس: بحیرۂ روم کی تلوار’ ترکی کی ایک نئی ٹیلی وژن سیریز ہے جو 16 ویں صدی کے چار مشہور بھائیوں خضر، عروج، الیاس اور اسحاق کی داستان بیان کرتی ہے کہ جن کی بہادری اور شجاعت نے صدیوں تک بحیرۂ روم میں سلطنتِ عثمانیہ کی دھاک بٹھائے رکھی۔

گزشتہ چند اقساط سے کہانی میں کافی تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جو اب ہر نئی قسط میں بھی نظر آ رہی ہے۔ نئے کرداروں کی آمد کا سلسلہ اب بھی جاری و ساری ہے اور اب عروج کے ساتھیہ سیری

دسویں قسط کا آغاز اس خفیہ عقوبت خانے کے مناظر سے ہوتا ہے جہاں پچھلی قسط کے آخر میں ایزابیل اور عروج کو دکھایا جاتا ہے۔ جب عروج کو وہاں پکڑ لیا جاتا ہے تو پیٹرو سے پیچھے سے سر پر وار کرتا ہے اور اسے بے ہوش کر دیتا ہے۔


گزشتہ قسط کے اختتام پر ہمیں سیاہ جزیرے پر ہمیں اصلی ایستر کا کردار داخل ہوتا ہوا نظر آتا ہے، جس کا اصل نام مریم ہوتا ہے۔ مریم آمد کے ساتھ ہی ڈیاگو اور انتوان کے لشکر میں تہلکہ مچا دیتی ہے۔ صورت حال بدلتی دیکھ کر خضر اور نیکو بھی خوب لڑتے ہیں، جس میں زخمی خضر انتوان کے ایک تیر سے مزید گھائل ہو جاتا ہے۔ البتہ وہ کسی نہ کسی طرح حریفوں کا گھیرا توڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

مریم (دائیں) اور اس کی ساتھی

اسکندریہ میں دسپینا کے مرنے کے بعد الفیو کے ساتھی اسے بچانے آ جاتے ہیں اور وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ الیاس اور اس کے ساتھیوں کو بہت دل گرفتہ دکھایا جاتا ہے۔


عقوبت خانے میں جب ایزابیل کو ہوش آتا ہے تو اس کا سامنا پیٹرو سے ہوتا ہے جو اپنے چہرے پر ایک نقاب چڑھائے کھڑا ہوتا ہے، یعنی اس عالم میں اب بھی اس میں اپنا اصل چہرہ دکھانے کی جرات نہیں ہوتی۔ بہرحال وہ ایزابیل کو کہتا ہے کہ عروج کی مدد کر کے تم نے اونیتا کو دھوکا دیا ہے جس پر ایزابیل جواب دیتی ہے کہ اس نے صرف اپنے بھائی کو بچانے کے لیے ایسا کیا۔

جب عروج کو ہوش آتا ہے تو پیٹرو اپنی دھمکیوں کا رخ اُس کی طرف کرتا ہے اور پیشکش دیتا ہے کہ سونے کے بدلے میں وہ ان کی جان بخشی کر سکتا ہے۔ عروج اسے پہچاننے کی کوشش کرتا ہے اور پوچھا بھی ہے کہ تم ہو کون؟ جس پر پیٹرو کہتا ہے کہ وہ اونیتا کا چہرہ ہے اور یہ آواز اونیتا کی ہے۔ اب ایزابیل اور تمہاری زندہ بچنے کا انحصار سونا واپس کرنے پر ہے۔

عروج کہتا ہے میں تمہاری دھمکیوں میں آنے والا نہیں اور یہ سونا غریب غربا سے چرایا گیا تھا، اس لیے نہ یہ تمہارا تھا اور نہ ہوگا۔

یہاں پیٹرو عروج سے دسپینا کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے ابھی تک تو اسے کچھ نہیں ہوا، لیکن اگر تم سونے کی معلومات نہیں دو گے تو ضرور کچھ ہو جائے گا کیونکہ وہ اس وقت اُن کے پاس ہے اور سونا نہ ملنے کی صورت میں اس کی لاش ہی واپس ملے گی۔

عروج اس کی باتوں کا یقین نہیں کرتا، جس پر پیٹرو کہتا ہے کہ دسپینا کو بچانے کے لیے جانے والے الیاس اور دیگر ساتھی بھی مارے گئے ہوں گے۔ لیکن پھر بھی عروج کہتا ہے کہ وہ جب تک اپنی آنکھوں سے دسپینا کو نہیں دیکھے گا، یقین نہیں کرے گا۔


الیاس اور ساتھی کھائی میں اتر کر دسپینا کی لاش نکالتے ہیں۔ یہاں بہت غم ناک مناظر دکھائے جاتے ہیں اور الیاس بہت دل گرفتہ ہوتا ہے۔ گھر پہنچنے کے بعد درویش بابا اس کو حوصلہ کرنے اور ہمت دکھانے کی تاکید کرتے ہیں۔ وہ دونوں عروج کے غائب ہونے پر پریشان ہوتے ہی ہیں کہ انہیں ایک پیغام ملتا ہے کہ اگر وہ نہ ملے تو اس کی تلاش کی جائے ۔ غالباً یہ پیغام عروج زیر زمین خفیہ مقام کی طرف جانے سے پہلے چھوڑ کر گیا تھا۔ یہی انہیں یہ اطلاع بھی ملتی کہ قلیچ بے اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ یوں پریشان کن خبروں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، دسپینا کی المناک موت، عروج کا لاپتہ ہونا، خضر کا خطرناک مہم سے اب تک واپس نہ آنا اور اب قلیچ بے کے انتقال کی خبر۔ درویش بابا الیاس کو کہتے ہیں کہ سب سے پہلے عروج کا رخ کرو، جس پر الیاس اور دیگر ساتھی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔


سلویو عقوبت خانے میں آتا ہے اور دُور سے ایزابیل کو دیکھ کر کہتا ہے کہ غم اس بات کا ہے کہ اس غار کی رگوں میں میرا خون دوڑ رہا ہے۔ وہ پیٹرو سے کہتا ہے کہ میں نے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے اپنا بیٹا اونیتا کو دیا، باوجود اس کے کہ وہ بے قصور تھا۔ میں نے جن اصولوں کے ساتھ زندگی گزاری، ایزابیل نے انہی کو دھوکا دیا ہے اور اس کے لیے جو بھی سزا ہو وہ کم ہے۔


الفیو خفیہ کمین گاہ پہنچتا ہے اور پیٹرو کو بتاتا ہے کہ دسپینا مر گئی ہے۔ پیٹرو غصے میں آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور الفیو کی خوب مار لگاتا ہے اور کہتا ہے کہ سونے کی معلومات حاصل کرنے کے لیے عروج کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار وہی تھی، اب وہ اسے کس کی دھمکی دیں گے؟ اس کے بعد غصے کے عالم میں وہ عروج پر سخت تشدد کرتا ہے، لیکن عروج کہتا ہے ہم مر جاتے ہیں، لیکن زبان نہیں کھولتے۔


اُدھر سیاہ جزیرے پر خضر، نیکو، مریم اور دیگر ساتھی جنگل سے گزر کر ساحل کی جانب رواں ہوتے ہیں جبکہ ان کا پیچھا کرنے والے ڈیاگو کے کارندے مختلف پھندوں اور جالوں میں پھنس کے مرتے رہتے ہیں۔ یہاں خضر کو اپنے بازو کے زخم میں شدید تکلیف ہوتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ کوئی عام تیر نہیں لگتا۔ یہاں مریم اس کے جسم سے تیر نکالتی ہے اور بتاتی ہے کہ یہ زہریلا تیر تھا۔ جب تک اس کا علاج نہیں ہوگا، وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہ دوبارہ جزیرے کے اندرونی علاقے کی طرف بڑھتے ہیں جہاں وہ ایک غار میں پناہ لے لیتے ہیں۔


قرا بے تعزیت کے لیے شاہین اور شہباز کے گھر آتا ہے جہاں ان کے درمیان گفتگو جاری ہی ہوتی ہے کہ درویش بابا بھی پہنچ جاتے ہیں اور تعزیت کے بعد کہتے ہیں کہ قلیچ بے نے اپنی وفات سے قبل خضر کو سیاہ جزیرے پر لے جانے اور واپس لانے کے لیے ایک جہاز بھیجا تھا۔

شہباز

اس معاملے پر شہباز کی بے پروائی کو دیکھتے ہوئے درویش بابا کہتے ہیں کہ جہاز کو خضر کو واپس لانے کے لیے بھیج کر اپنے مرحوم بابا کا وعدہ پورا کریں۔ لیکن شہباز اور شاہین صاف اڑ جاتے ہیں کہ وہ اس ہولناک جزیرے پر جہاز بھیجنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ قرا بے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور درویش بابا یہ کہہ کر وہاں سے نکل جاتے ہیں کہ ہم اپنے وعدے ہمیشہ وفا کرتے ہیں، دغا نہیں دیتے۔

اس کے بعد وہ بندرگاہ پر پہنچتے ہیں جہاں شاہین اور شہباز کا ایک جہاز موجود ہوتا ہے۔ وہ عملے کو بتاتے ہیں کہ وہ قلیچ بے کا وعدہ پورا کرنے آئے ہیں، اس لیے وہ بھی اپنا فریضہ نبھائیں۔ عملہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے جو شہباز بے کہیں گے، ویسا ہی ہوگا۔ بدتمیزی پر بالآخر درویش بابا اپنی لاٹھی جہاز کے عرشے پر مارتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں مختلف حصوں سے کئی نقاب پوش نوجوان جہاز میں گھس آتے ہیں اور مار مار کر اس عملے کا بھرکس نکال دیتے ہیں۔ تمام ملاحوں کو باندھ کر جہاز سے نکال دیا جاتا ہے اور پھر وہ خضر کو لینے کے لیے سیاہ جزیرے روانہ ہو جاتا ہے۔


الیاس اور دیگر ساتھی جنگل میں تلاش کے بعد بالآخر اس خفیہ مقام تک پہنچ جاتے ہیں اور زیرِ زمین ٹھکانے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ انہیں آتا دیکھ کر پیٹرو اور الفیو نہ چاہتے ہوئے بھی خفیہ راستے سے فرار ہو جاتے ہیں جبکہ عروج اور ایزابیل رہا ہو جاتے ہیں لیکن یہ رہائی داستان میں ایک غمناک موڑ ہوتی ہے۔ عروج الیاس سے پوچھتا ہے کہ مجھے تشدد کا نشانہ بنانے والے نقاب پوش نے کہا تھا کہ دسپینا کو اغوا کر لیا گیا ہے اور وہ ان کے پاس ہے۔ دسپینا کا نام سنتے ہی الیاس کے چہرے کا رنگ اُڑ جاتا ہے، اسے سمجھ نہیں آتا کہ وہ اندوہناک خبر کیسے سنائے بلکہ یہ حوصلہ کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ سب عروج سے نظریں چرا رہے ہوتے ہیں اور عروج ان کے چہروں سے سمجھ جاتا ہے کہ دسپینا اس دنیا میں نہیں رہی۔


اُدھر سیاہ جزیرے پر مریم خضر کے زہر کا تریاق بناتی ہے اور اسے پلا دیتی ہے۔ اسے ہوش تب آتا ہے جب انتوان اور ڈیاگو کے ساتھی غار کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ وہ بمشکل ایک خفیہ راستے سے نکل کر فرار ہو پاتے ہیں۔ جلتی ہوئی آگ اور دیگر سامان دیکھ کر وہ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ ابھی ابھی غار سے نکلے ہیں اور یوں تعاقب پھر شروع ہو جاتا ہے اور جلد ہی دونوں آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ ڈیاگو لڑکی اور کتاب حوالے کرنے کا مطالبہ کرتا ہے لیکن ظاہر ہے، خضر کے لیے اس مطالبے پر عمل کیسے ممکن ہوتا ؟ ابھی لڑائی کا آغاز ہونے ہی والا ہوتا ہے کہ درویش بابا کے بھیجے گئے بندے پہنچ جاتے ہیں۔ انتہائی بے سر و سامانی کے عالم میں اس طرح مدد ملنے پر سب کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں اور پھر دشمن کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں۔ ڈیاگو اور انتوان بمشکل جان بچا کر فرار ہوتے ہیں۔


اسکندریہ میں شہباز اپنے جہاز کے عملے پر غصہ اتارتا ہے کہ آخر جہاز کیسے اغوا ہو گیا؟ شاہین بے کہتا ہے کہ اب عروج اور خضر ساری حدیں پار کر چکے ہیں اور واحد حل ان کا خاتمہ ہے۔ جس پر وہاں موجود قرا بے بھی ان کی تائید کرتا ہے۔ یہاں ایک اور نیا کردار قرا بے کی بیوی فیروز کی صورت میں داخل ہوتا ہے۔


ایزابیل رہائی کے بعد سیدھا سرائے پہنچتی ہے جہاں سلویو اسے خوب سناتا ہے اور اونیتا کے معاملات سے دُور رہنے کی ہدایت کرتا ہے۔ سلویو ایزابیل کو اپنے کمرے میں داخل ہونے سے بھی روکتا ہے اور دھمکاتا ہے کہ دوبارہ عروج کے ساتھ دیکھا تو دونوں کو مار ڈالوں گا۔


عروج اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سرائے آتا ہے اور تہہ خانے میں اسے دبوچ لیتا ہے۔ مار پیٹ کے بعد وہاں موجود اونیتا کی تمام دستاویزات کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ سلویو کی تمام تر آہ و بکا ضائع جاتی ہے بلکہ وہ عروج کو لالچ بھی دیتا ہے لیکن عروج کہتا ہے مجھے جو چاہیے، وہ میں اپنے زورِ بازو سے لے لوں گا اور تمام دستاویزات کو نذرِ آتش کر دیتا ہے۔


خضر اسکندریہ پہنچ جاتا ہے جہاں درویش بابا اس کے استقبال کے لیے آتے ہیں اور یہاں ناظرین کو پتہ چلتا ہے کہ مریم دراصل پیٹرو کی لاپتہ بہن ہے، جو بچپن میں والدین کے قتل کے بعد اس سے الگ کر دی گئی تھی۔ درویش بابا نے مریم کی ذہانت سے متاثر ہو کر اسے ایک شخص کی غلامی سے آزاد کروایا تھا۔

یہاں بہت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن شاہین بے اور شہباز امیر قرا بے کے ساتھ پہنچ جاتے ہیں اور سخت گرما گرمی کے بعد تلواریں تان لی جاتی ہیں۔ یہاں پہلے تو عروج پہنچتا ہے جو قرا بے کو خبردار کرتا ہے کہ میرے بھائی جو تلوار اٹھائے گا، اس کا سر قلم ہوگا۔ قرا بے کہتا ہے چوری اور سینہ زوری؟ اسکندریہ کے امیر کے خلاف بغاوت کا مطلب ہے مملوک ریاست پر حملہ کرنا۔

خضر کہتا ہے کہ ہم سے ایک وعدہ کیا گیا تھا، شہباز نے اس وعدے کو توڑا، ہم نے محض اس کی تکمیل کی ہے۔ لیکن معاملہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور جب مریم ایک مملوک سپاہی کی زبان درازی پر اسے تھپڑ رسید کرتی ہے تو فیروز میدان میں کود پڑتی ہے اور مریم کا گریبان پکڑ لیتی ہے۔ یہاں اچانک ایک تلوار دونوں کے درمیان حائل نظر آتی ہے اور یوں ایک نئے کردار کا داخلہ ہوتا ہے۔ ہُما نامی ایک بزرگ خاتون، جو دراصل عروج اور خضر کی خالہ ہیں۔ وہ فیروز کو دھمکاتی ہیں کہ مریم کو چھوڑ دو، ورنہ تمہاری ان حرکتوں کی اطلاع سلطنتِ عثمانیہ کو دوں گی اور اگر شکایت قاہرہ تک پہنچی تو تمہارے شوہر کا عہدہ بھی چلا جائے گا۔

قرا بے اس دھمکی سے ڈر جاتا ہے اور اپنی بیوی کو پیچھے کر لیتا ہے اور دھمکیاں دیتا ہوا چلا جاتا ہے۔

یہاں دُور کھڑے پیٹرو کی نظریں عروج اور خضر کے بعد مریم پر پڑتی ہیں، وہ حیران رہ جاتا ہے کہ یہ لڑکی کون ہے؟ اور کہتا ہے پہلی بار کسی لڑکی نے میری اتنی توجہ حاصل کی ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ زندگی بھر وہ جس بہن کو یاد کرتا رہا وہ مریم ہی ہے۔


اس کے بعد ہمیں ڈیاگو اور انتوان اپنے ساتھیوں سمیت اسکندریہ میں نظر آتے ہیں، جہاں اچانک ان پر حملہ ہو جاتا ہے۔ ابھی وہ سنبھل ہی نہیں پاتے کہ ان کے چاروں ساتھی مارے جا چکے ہوتے ہیں اور کچھ دیر بعد پیٹرو ان دونوں پر تلواریں تانے کھڑا نظر آتا ہے۔ یہاں ڈیاگو پیٹرو کو کہتا ہے کہ عروج کا خاتمہ اور کتاب کا راز سلجھانا ہمارا مشترکہ مقصد ہے، انہیں ہرانے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کی ضرورت ہے۔ لیکن پیٹرو کہتا ہے کہ میں غداروں کو اپنے ساتھ نہیں ملاتا، اس کا یہی احسان کافی ہے کہ اس مرتبہ دونوں کی جان بخش رہا ہے، لیکن ساتھ ہی دھمکاتا بھی ہے کہ اگلی بار وہ ایسا نہیں کرے گا۔

یہاں ان کے درمیان ہونے والی بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اب ڈیاگو اور پیٹرو کے راستے الگ الگ ہو چکے ہیں بلکہ ایک طرح سے اب وہ حریف ہیں۔


ہما خالہ گھر پہنچ کر بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر اور دو بیٹے سرحدی جنگوں میں شہید ہو چکے ہیں اور اب ان کا عروج اور اس کے بھائیوں کے سوا دنیا میں کوئی نہیں۔ اس لیے وہ مستقل طور پر رہنے کے لیے اسکندریہ آئی ہیں۔ یہاں عروج بتاتا ہے کہ جہاز نہ خرید پانے پر اس نے ان پیسوں سے ایک حویلی خرید لی ہے اور اب سب ایک خاندان کی طرح اس گھر میں رہیں گے، جس کی ماں ہما خالہ ہوں گی۔


پیٹرو شہباز سے ملتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ عروج سے سونا واپس لینے میں اس کی مدد کرے اور اس معاملے میں قرا بے کو استعمال کرے۔ وہ سازش تیار کرتے ہیں کہ قرا بے کو بتایا جائے گا کہ عروج نے ایک خفیہ مقصد کے لیے سونا چھپا رکھا ہے جو مملوک علاقوں سے چُرا کر عثمانیوں کو بھیجنے کی کوشش کی جائے گی۔ شہباز کہتا ہے کہ قرا بے کو اگر سونے کا پتہ چل گیا تو وہ اس پر قبضہ کر لے گا، لیکن پیٹرو کہتا ہے کہ اس کے پہنچنے سے پہلے ہی ہم سونا اپنی تحویل میں لے لیں گے۔


عروج اور ایزابیل ایک دوسرے سے ملتے ہیں، جس میں ایزابیل کہتی ہے کہ اب اس کے لیے کسی قسم کی خفیہ معلومات دینا مشکل ہوگا۔ ان کے درمیان گفتگو چل ہی رہی ہوتی ہے کہ ان کے پیچھے دو نقاب پوش آتے ہیں اور ابھی ان پر گولی چلانے ہی والے ہوتے ہیں کہ کوئی شخص پیچھے سے آ کر انہیں قتل کر دیتا ہے۔ یہ پیٹرو ہوتا ہے، جو اب بغیر نقاب کے آتا ہے اور ان کے سامنے یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دونوں افراد تمہیں قتل کرنے والے تھے اور میں نے تم لوگوں کی جان بچائی ہے۔


سرائے میں جعفر سلویو کو اطلاع پہنچاتا ہے کہ میرے دو آدمی عروج اور ایزابیل کا خاتمہ کرنے ہی والے تھے کہ کسی نے ان کو قتل کر دیا۔ ابھی ان کی گفتگو جاری ہی تھی کہ پیٹرو آ جاتا ہے جو آتے ہی سب سے پہلے جعفر کو مار کر بے ہوش کر دیتا ہے۔ پھر سلویو کو کہتا ہے کہ تمہارے بندوں کو میں نے مارا ہے اور یوں تمہارے ہاتھوں ایک حماقت سرزد ہونے سے رہ گئی۔ عروج مر گیا تو سونے کا پتہ نہیں چلے گا، اس لیے سلویو فی الحال اپنے جذبات پر قابو رکھے۔


اُدھر شہباز قرا بے سے ملاقات میں اسے عروج کے پاس موجود سونے کے بارے میں بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سونا اسکندریہ کے آس پاس ہی کہیں چھپایا گیا ہے، آپ اپنے سپاہیوں کا استعمال کرتے ہوئے اس خفیہ ٹھکانے کا پتہ چلائیں۔ قرا بے کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں، وہ کہتا ہے کہ میں اس کا پتہ چلا کر رہوں گا اور انہیں عبرت کا نشان بنا دوں گا۔


بازار میں الفیو کو پیٹرو کے ساتھ دیکھ کر عروج کے چند ساتھی پہچان لیتے ہیں اور اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ دونوں الگ الگ سمت میں بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک گلی میں بھاگتے ہوئے پیٹرو کی ٹکر مریم سے ہو جاتی ہے، دونوں ایک دوسرے پر خنجر تان لیتے ہیں لیکن انہیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں مانوسیت نظر آتی ہے۔ ابھی وہ کوئی بات نہیں کر پاتے کہ خضر آ جاتا ہے جسے دیکھ کر پیٹرو پھر بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ خضر اس کا پیچھا کرتا ہے لیکن وہ بھاگ جاتا ہے۔ شہباز اسے اطلاع دیتا ہے کہ مملوک سپاہیوں نے سونے کے ٹھکانے کا پتہ چلا لیا ہے۔


واپسی پر مریم خضر کو بتاتی ہے کہ اس شخص کی آنکھیں اور چہرہ مجھے عجیب سا لگا۔ اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا لیکن پھر بھی وہ مانوس سا لگتا تھا۔ اس وقت بھی اس کے ذہن میں اپنے بھائی کی یادیں چل رہی ہوتی ہیں اور وہ خضر کو بتاتی بھی ہے کہ اسے اپنا بھائی یاد آ گیا ہے جو والدین کے قتل کے بعد اس سے جدا ہو گیا تھا۔ وہ مزید کہتی ہے کہ راز کی تلاش کی وجہ سے اس نے کبھی اپنے بھائی کو ڈھونڈا ہی نہیں، لیکن ایک روز اسے تلاش کر لے گی۔


پیٹرو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ الیاس، عروج اور ان کے ساتھیوں کی آمد کا انتظار کرتا ہے اور جب الیاس آتا ہے تو الفیو اس کے سامنے آ کر اسے للکارتا ہے۔ الیاس یاریلی کو کہتا ہے کہ وہ عروج کو اطلاع دے اور باقی ساتھیوں کو لے کر الفیو کے تعاقب میں نکل پڑتا ہے۔ یہاں پیٹرو کہتا ہے کہ الیاس نے دانہ چُگ لیا ہے، چلو اب تہہ خانے سے سونا نکالتے ہیں۔


یاریلی کو عروج راستے ہی میں مل جاتا ہے اور وہ بتاتا ہے کہ خفیہ کمین گاہ کے پاس اونیتا کے لوگوں کو دیکھا گیا ہے اور دسپینا کو قتل کرنے والا بھی وہیں موجود تھا۔ یہاں عروج بتاتا ہے کہ اسے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ مملوک سپاہی اس علاقے میں دیکھے گئے ہیں، اس لیے ہوشیار رہو، یہ کوئی جال بھی ہو سکتا ہے۔

پیٹرو تہہ خانے میں داخل ہو جاتا ہے جہاں اسے وہ مرتبان مل جاتے ہیں، وہ دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے کہ اسے سونا مل گیا۔ ابھی وہ جلد از جلد انہیں اٹھا کر باہر نکلنا ہی چاہتا ہے کہ کوئی اندر آ جاتا ہے۔ یہ عروج اور یاریلی ہوتے ہیں جو تہہ خانے میں آتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اندر کوئی موجود ہے۔ عروج یاریلی کو باقی ساتھیوں کو بلانے کے لیے بھیج دیتا ہے اور خود تہہ خانے میں اندر آ جاتا ہے۔ الیاس بالآخر الفیو تک پہنچ جاتا ہے لیکن عین موقع پر یاریلی پہنچ جاتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ وہ لوگ ہمیں دھوکا دے کر خفیہ کمین گاہ میں داخل ہو گئے ہیں، ہمیں واپس وہاں جانا ہوگا۔ ابھی وہ جانے کا ارادہ ہی کرتے ہیں کہ مختلف سمتوں سے کئی لوگ انہیں گھیر لیتے ہیں اور الفیو کہتا ہے تم ایک مرتبہ پھر ہمارے جال میں پھنس گئے ہو!


اُدھر خضر اور مریم کتاب کا راز حل کرنے کے لیے مطالعے کی خاطر کتب خانے پہنچتے ہیں جہاں ان سے پہلے ڈیاگو موجود ہوتا ہے۔ خضر دیکھتے ہی اس کی گردن پر خنجر رکھ دیتا ہے لیکن وہ کہتا ہے تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ مجھے کچھ ہوا تو درویش بھی مارا جائے گا۔ وہ خضر سے کہتا ہے کہ درویش بابا کو چھوڑنے کے لیے شرط ایک ہی ہے، کتاب اور لڑکی میرے حوالے کر دو۔

درویش بابا

تہہ خانے میں بالآخر عروج اور پیٹرو کا آمنا سامنا ہو جاتا ہے، جو اب نقاب پہنے ہوتا ہے۔ دونوں کا خوب مقابلہ ہوتا ہے اور بالآخر عروج اسے زیر کر لیتا ہے اور اس کے چہرے سے نقاب اٹھانے لگتا ہے کہ قسط سنسنی خیز انداز میں اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔


الیاس اور دیگر ساتھی الفیو کے چنگل سے کیسے بچ پائیں گے؟ خضر اور مریم درویش بابا کی رہائی کے لیے اگلا قدم کیا اٹھائیں گے اور سب سے اہم یہ کہ عروج پر پیٹرو کا راز کھل پائے گا یا نہیں؟ یہ سب جاننے کے لیے اگلی قسط کا انتظار کرنا پڑے گا۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: