باربروس: بحیرۂ روم کی تلوار، ایک تاریخی ڈراما، قسط 3

0 247

‏’باربروس: بحیرۂ روم کی تلوار’ ترکی کی ایک نئی ٹیلی وژن سیریز ہے جو 16 ویں صدی کے چار مشہور بھائیوں خضر، عروج، الیاس اور اسحاق کی داستان ہے۔

جنید آئیسان، اوزان آق سنگور اور اوغوز ایاز کی لکھی گئی اور طوغان امید قراجا اور عدیل ادیب کی ہدایت میں بنائی گئی اس سیریز میں ارطغرل غازی کے کردار سے مشہور ہونے والے اینجن آلتن دوزیاتن نے عروج کا کردار ادا کیا ہے جبکہ خضر یعنی خیر الدین باربروس کے کردار کو اولاش تونا آس تپہ نے نبھایا ہے۔

آج ہم آپ کو اس سیریز کی تیسری قسط کی کہانی بتانے جا رہے ہیں جس میں ہمیں سب سے پہلے پوسیدون کے خاتمے کے بعد چاروں بھائیوں کے درمیان سخت تلخ کلامی نظر آتی ہے۔ عروج، الیاس اور خضر کہتے ہیں کہ اسحاق بے کو زخمی ہونے کی وجہ سے اسکندریہ لے جانا چاہیے لیکن اسحاق بضد ہوتے ہیں کہ وہ ہر صورت مدلّی واپس جائیں گے۔

عروج کے اصرار پر کہ ان کا بحری جہاز کسی کی امانت ہے، جو انہوں نے اسکندریہ میں واپس کرنا ہے اور پھر وہاں دسپینا بھی ہے۔ یہ سنتے ہی اسحاق کا لہجہ مزید تلخ ہو جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ دسپینا سے شادی اور انہی جہازوں کی وجہ سے تو ان کے خاندان پر مصیبتیں نازل ہوئی ہیں اور کہا کہ "تم کبھی ہمارے بھائی تھے ہی نہیں بلکہ سات سمندروں کے قزاقوں کے ‘بابا’ ہو۔ سب تمہیں ‘بابا عروج’ کے نام سے جانتے ہیں۔ جو ہمارے گھر کو چھوڑ کر سمندر کو ترجیح دے، وہ میرا خاندان نہیں ہو سکتا۔”

چاروں بھائیوں کی یہ ملاقات انتہائی افسوس ناک انداز میں اختتام کو پہنچتی ہے۔ اسحاق بے خضر اور نیکو کی کشتی میں مدلّی روانہ ہو جاتے ہیں جبکہ عروج اور الیاس ٹوٹے دل کے ساتھ واپس اسکندریہ آ جاتے ہیں۔

راستے میں اسحاق بے خضر کو بتاتے ہیں کہ مدلّی میں غدار موجود رہے ہیں۔ خضر کے پوچھنے پر وہ یورگو کا نام لیتے ہیں۔

یورگو دراصل عروج کا سسر ہے۔ اس کی بیٹی دسپینا والد کی مخالفت کے باوجود عروج سے شادی کر لیتی ہے جس پر وہ اس خاندان ہی کا مخالف بن جاتا ہے۔ پوسیدون کو مدلّی بلانے اور اس کے لیے تمام تر جاسوسی کا کام بھی وہی کرتا ہے۔


پیٹرو اپنے ساتھی ڈیاگو کے ہمراہ یتیم خانے پہنچتا ہے، جہاں اسے زینب اور ‘مقدس راز’ کے محافظ ایوب کا چھوٹا بیٹا دونوں ایک بزرگ کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، جس پر وہ خوش ہو جاتا ہے کہ دونوں شکار ایک ہی جگہ نظر آ گئے۔ وہ ان پر دُور سے بندوق تانتا ہی ہے کہ زینب اور حمزہ کے ساتھ موجود درویش پیچھے دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا چہرہ دیکھتے ہی پیٹرو کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ وہ بندوق نیچے کر کے کہتا ہے "ہر گز نہیں، ایسا کیسے ممکن ہے؟” یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے فرار ہو جاتا ہے اور سرائے پہنچتا ہے۔ جہاں وہ ایزابیل کے والد سلویو کو حکم دیتا ہے کہ وہ یتیم خانے پر کڑی نظر رکھے۔ ڈیاگو کے پوچھنے پر کہ یہ وہ شخص کون تھا؟ پیٹرو کہتا ہے کہ درویش صورت وہ شخص اس وقت دنیا کا خطرناک ترین آدمی ہے۔

درویش

جب پیٹرو اسکندریہ سے واپس کلیمنوس پہنچتا ہے تو اسے پوپ کا پیغام ملتا ہے کہ ایک انجینیئر ابو محمد کو پکڑ کر فوراً ان کے پاس لایا جائے۔


عروج اور الیاس اسکندریہ پہنچتے ہیں تو پوسیدون کے خاتمے کا کارنامہ انجام دینے پر قلیچ بے خود استقبال کرنے کے لیے بندرگاہ پر آتے ہیں۔ جسے دیکھ کر قلیچ بے کا بیٹا شاہین آگ بگولا ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں اس کا سامنا بازار میں عروج اور الیاس سے ہوتا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ تم لوگوں کی وجہ سے ہمارے لوگوں پر مصیبتیں آ رہی ہیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسکندریہ سے نکل جائیں۔ جس پر عروج کہتا ہے کہ "جو پرندہ ہم پر پنجے گاڑنے کا سوچ رہا ہے، ہم ایسا کرنے سے پہلے اس کا سر قلم کر دیں گے۔” عروج کو اب تک شاہین بے پر شبہ ہی تھا، لیکن اس کے بعد اس کی دشمنی مکمل طور پر واضح ہو چکی تھی۔


مدلّی میں اسحاق آغا صحت یاب ہونے کے بعد ایک روز یورگو کو بازار میں پکڑ لیتے ہیں اور مار مار کر اپنی بیوی اور بچوں کی قبر پر لے جاتے ہیں۔ جہاں وہ کہتے ہیں کہ "تمہاری بیٹی عروج کے ساتھ بھاگ گئی تو تم نے دشمنی میں میرا خاندان مروا دیا؟” جس پر یورگو کہتا ہے کہ "تم نے مجھ سے میرا سب کچھ چھینا ہے، اس لیے میں بھی جتنا تم سے چھین سکتا تھا، چھین لیا۔” یہاں یورگو انکشاف کرتا ہے کہ اسحاق بے کے خاندان سے دشمنی کی وجہ محض عروج اور دسپینا کی شادی نہیں تھی بلکہ وہ ان کے والد یعقوب آغا کے زمانے سے ہی ان کا دشمن ہے۔ وہ جوانی میں جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا، اُس کے گھر والوں نے یورگو کا رشتہ ٹھکرا کر اپنی بیٹی کی شادی یعقوب آغا سے کر دی تھی۔

اسحاق آغا اسے گلا گھونٹ کر مارنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ ایک پتھر اٹھا کر ان کے سر پر دے مارتا ہے، جس سے وہ بے ہوش ہو جاتے ہیں اور یورگو مدلّی سے بھاگ نکلتا ہے۔

اسحاق بے

اگلے منظر میں ایک جزیرے پر ماہی گیروں کو سمندر کنارے ایک شخص پڑا ہوا ملتا ہے، جو مرنے والا ہوتا ہے۔ ٹیو نامی ایک قزاق علاج کے لیے ایک اسے مقامی عورت کے پاس لاتا ہے جو دراصل جادوگرنی ہوتی ہے۔ یہاں پتہ چلتا ہے کہ وہ شخص حقیقت میں پوسیدون ہی ہے اور وہ اسحاق بے کے حملے میں مرا نہیں تھا بلکہ زخمی ہو کر سمندر میں گر گیا تھا۔

یہیں پر کچھ لوگ ٹیو کو بہت سا سونا دے کر کہتے ہیں کہ ابو محمد کو ڈھونڈ کر ہمارے حوالے کرو۔ وہ کہتا ہے اتنے سونے پر تو میں مملوک سلطان کو بھی اغوا کر لوں۔ بعد ازاں، ٹیو کے ساتھی ایک کشتی میں سوار ابو محمد کو اغوا کر لیتے ہیں۔ مزاحمت کے دوران ابو محمد کے وار سے ایک بحری قزاق کی انگلیاں بھی کٹ جاتی ہیں لیکن وہ بھاگ نہیں پاتا اور پکڑا جاتا ہے۔ بعد میں جب اس کی خالی کشتی سمندر کنارے آ لگتی ہے تو مملوک سپاہی سمجھ جاتے ہیں کہ ابو محمد کو کسی نے اغوا کر لیا ہے۔


عروج اور الیاس دل شکستہ اپنے گھر اسکندریہ پہنچتے ہیں۔ وہ دسپینا کو کچھ نہیں بتاتے لیکن اس واقعے کا غم ان کے رویّے اور طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ دسپینا کو دائی آسیہ بتاتی ہے کہ عروج اور الیاس دراصل کسی مہم پر نہیں بلکہ اسحاق آغا کو بچانے گئے تھے۔ دسپینا عروج سے ناراض ہو جاتی ہے کہ اتنا بڑا واقعہ پیش آیا، لیکن اسے کسی نے نہیں بتایا۔ عروج صفائی پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ایسا محض اس لیے کیا کیونکہ دسپینا کو حمل کی حالت میں غمزدہ نہیں کرنا چاہتا تھا تھا۔

دسپینا

ادھر ایزابیل عروج اور الیاس کو بتاتی ہے کہ اوپر سے حکم آیا ہے جس کے تحت اب انہیں اونیتا کی جانب سے کوئی کام نہیں ملے گا بلکہ اب ان کا کام جعفر کو دیا جا رہا ہے۔ یعنی عروج اور الیاس کے لیے حالات مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔


یہاں عروج سے مملوک سالار خیرہ بے رابطہ کرتا ہے۔ پہلے سفر میں، جس میں پوسیدون کا بھائی اینریکو مارا جاتا ہے، اس میں عروج اور الیاس ہی خیرہ بے کی جان بچاتے ہیں، اسی لیے وہ ان کا بڑا قدر دان ہوتا ہے۔ وہ ابو محمد کا معاملہ عروج اور الیاس کو سونپتا ہے کہ وہ اسے اغوا کاروں سے چھڑا کر لائیں۔


پیٹرو واپس کلیمنوس پہنچ کر جیووانی کو قید خانے سے نکالتا ہے۔ ایک روز علاج کے دوران جیووانی اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر پیٹرو سے پوچھ لیتا ہے کہ زینب کو کچھ ہوا تو نہیں؟ پیٹرو یکدم بھڑک اٹھتا ہے لیکن اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے جیووانی کو کہتا ہے کہ "مجھے تمہاری آنکھوں میں اس کی محبت نظر آ رہی ہے، یاد رکھو محبت اندھا کر دیتی ہے۔ زینب کا معاملہ تمہاری سوچ سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسے بھول جاؤ۔”


اُدھر حمزہ اچانک یتیم خانے سے غائب ہو جاتا ہے۔ ۔ زینب اسے ڈھونڈنے کے لیے نکل پڑتی ہے اور دِکھایا جاتا ہے کہ حمزہ اپنے آبائی گھر کے پاس ایک کنویں سے باتیں کر رہا ہے۔ اس کے والد ایوب نے کہا تھا کہ یہ کنواں میرا راز دان ہے اور میں اپنے راز اسی کو سناتا ہوں۔ یہاں حمزہ کو اپنے والد کی ہدایات یاد آ جاتی ہیں، جن پر عمل کرتے ہوئے وہ کنویں سے ڈول باہر نکالتا ہے۔ ڈول کے نیچے ایک خط چھپا ہوا ہوتا ہے، جس میں لکھا ہوتا ہے "حمزہ! اپنے گلے میں موجود امانت مدلّی میں استاد سلیمان تک پہنچاؤ۔”


ایک طرف جہاں زینب دیوانہ وار حمزہ کو تلاش کر رہی ہوتی ہے، وہیں جعفر کو بھی سرائے میں اطلاع مل جاتی ہے کہ بچہ یتیم خانے سے نکل کر اپنے گھر گیا تھا اور اب بندرگاہ کا رخ کر رہا ہے۔ جعفر اور اس کے بندے بھی حمزہ کو پکڑنے کے لیے نکل پڑتے ہیں کیونکہ انہیں سلویو کا حکم ہوتا ہے کہ یتیم خانے پر کڑی نظر رکھنی ہے، خاص طور پر زینب اور حمزہ پر۔

حمزہ بندرگاہ پر کشتی میں سوار ہونے ہی والا ہوتا ہے اور زینب پہنچ جاتی ہے۔ ابھی وہ حمزہ سے ملتی ہی ہے کہ جعفر اور اس کے کارندے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں چھینا جھپٹی کے دوران وہ زینب سے الجھ پڑتے ہیں جو ان کی خوب خبر لیتی ہے۔ لیکن سرِ عام ایک عورت کے ساتھ جھگڑے میں پٹنے کی وجہ سے ان کی بڑی سبکی ہوتی ہے اور جعفر اپنے بندوں کو ہی وہاں سے بھگا دیتا ہے جبکہ زینب حمزہ کے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر مدلّی کی طرف نکل پڑتی ہے۔ اس پورے ہنگامے کے دوران حمزہ کے ہاتھوں سے وہ تھیلی گر جاتی ہے، جس میں اس کے بابا کا خط ہوتا ہے اور جعفر اس تھیلی کو اٹھا لیتا ہے۔


مدلّی میں درویش استاد سلیمان سے ملاقات کرتے ہیں۔ استاد سلیمان حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اُن کا استقبال کرتے ہیں۔ ملاقات میں درویش خضر کے بارے میں دریافت کرتے ہیں اور کہتے ہیں "لگتا ہے وقت آ گیا ہے، وہ امانت جو ہمارے پاس تھی اس کا اصل مالک خضر ہے اور جلد وہ یہ حقیقت جان لے گا۔”

جب درویش ملاقات کے بعد واپس جا رہے ہوتے ہیں تو خضر انہیں استاد سلیمان کو الوداع کہتے ہوئے دیکھ لیتا ہے اور حیران رہ جاتا ہے کہ یہ کون شخص ہے جس کا استاد سلیمان اتنا احترام کر رہے ہیں؟ تجسس کے مارے وہ درویش کا پیچھا کرتا ہے جو ایک غار میں داخل ہو جاتے ہیں۔

یہاں خضر درویش سے ملتا ہے اور استفسار کرتا ہے کہ وہ کون ہیں؟ درویش کہتے ہیں میں تمہارے والد کا دوست ہوں اور اب تمہارا دوست بننے آیا ہوں۔ وہ ایک انگوٹھی بھی خضر کے حوالے کرتے ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہوتا ہے کہ یہ اس کے والد کی انگوٹھی ہے۔

خضر کے دوبارہ سوال پر درویش اسے ایک کہانی سناتے ہیں، ایک جنگجو کی داستان جو ہزاروں صلیبیوں پر غالب آ جاتا ہے اور انہیں تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ اس کی جائے پناہ صرف کلمۂ حق ہے اور کسی مخالف ہوا کی پروا نہیں کرتا۔ نام پوچھنے پر درویش کہتے ہیں اس کا نام ہے خیر الدین۔ خضر حیران ہو کر کہتا ہے کہ میں نے کبھی ان کا نام نہیں سنا۔ جس پر درویش کہتے ہیں "ایک دن سنو گے، زمین پر، سمندروں میں، ہر شخص ایک دن یہ نام ضرور سنے گا۔”

جب خضر سوال کرتا ہے کہ یہ خیر الدین ہیں کہاں؟ کیا مر چکے ہیں؟ تو درویش کہتے ہیں وہ اس وقت ایک غار میں ہے۔ اگر اس نے حق کا انتخاب کیا تو نمودار ہوگا اور اگر نہیں کیا تو مر جائے گا۔ یہ کہہ کر درویش اٹھ کر جانے لگتے ہیں، خضر بھی اٹھتا ہے تو وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں، جس سے خضر بے ہوش ہو جاتا ہے۔ درویش یہ کہتے ہوئے نکل جاتے ہیں کہ "تم ابھی یہیں رہو، پیدا ہونے میں اور مرنے میں اب بھی وقت ہے۔”

جب غار میں خضر کو ہوش آتا ہے تو اسے سمجھ نہیں آتی کہ آخر اس کے ساتھ ہوا کیا؟ کہتا ہے کہیں یہ کوئی خواب تو نہیں تھا؟ لیکن ہاتھ میں انگوٹھی پا کر اسے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ واقعہ حقیقتاً پیش آیا ہے۔ یہاں سے وہ استاد سلیمان کے پاس پہنچتا ہے اور انہیں انگوٹھی دکھاتا ہے کہ یہ اسی شخص نے دی ہے جو آپ سے مل کر گیا تھا اور آپ نے اسے ایک ڈبا بھی دیا تھا۔ استاد سلیمان کہتے ہیں "کون سا شخص؟ کون سا ڈبا؟ میری دکان پر تو کوئی نہیں آیا۔” انگوٹھی کے بارے میں پوچھنے پر بھی استاد سلیمان یہی کہتے ہیں کہ "مجھے کچھ نہیں معلوم، جس تالے کی چابی میرے پاس نہیں، میں اسے کھول نہیں سکتا۔” جس پر خضر کہتا ہے کہ "تو اسے میں کھولوں گا، جلد ہی چابی بھی آ جائے گی۔ "خضر کے جانے کے بعد استاد سلیمان خود کلامی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "چابی تم ہی ہو بیٹا! جیسے ہی تمہیں یہ بات پتہ چلے گی، سب راز کھل جائیں گے۔”

خضر

کلیمنوس میں پیٹرو کے سپاہی ریڈکو کو پیغام پہنچتا ہے کہ سلیمان کتب فروش کا پتہ مل گیا ہے اور وہ مدلّی میں ہے۔ اس کا پتہ حمزہ کے ہاتھوں سے گرنے والے تھیلے سے چلا کیونکہ اس میں لکھا تھا کہ مدلّی میں سلیمان کتب فروش کو امانت پہنچائی جائے۔ ریڈکو "مدلّی کو راکھ کا ڈھیر” بنانے کے لیے نکل پڑتا ہے جبکہ دوسری جانب ابو محمد کے پکڑے جانے کی اطلاع پر پیٹرو بھی قزاقوں سے ملنے اور ابو محمد کو جلد از جلد پاپائے روم کے پاس پہنچانے کے لیے نکل پڑتا ہے۔


عروج اور الیاس بھی ابو محمد کو بازیاب کرانے کی مہم کی تیاریاں کر رہے ہوتے ہیں اور ایزابیل کی جاسوسی کی بنیاد پر انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ ابو محمد دراصل قزاق ٹیو کے پاس ہے۔ اب سب کی منزل سمندر میں وہ خفیہ مقام ہوتی ہے جہاں ٹیو ابو محمد کو پیٹرو کے حوالے کرنے کے لیے لے جا رہا ہے۔

عروج کو یہ بات پتہ ہوتی ہے کہ ابو محمد نے اغوا کے خلاف مزاحمت میں ایک ڈاکو کی چند انگلیاں کٹی تھیں۔ اس لیے وہ شہر کے ان مقامات پر نظر رکھتا ہے جہاں کسی ہاتھ کٹے آدمی کو لایا گیا ہو۔ وہ اسی جادوگرنی کے پاس پہنچ جاتے ہیں جہاں پوسیدون زیرِ علاج ہوتا ہے۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ دروازے کے پیچھے کون ہے؟ وہ دروازہ کھولنے ہی والے ہوتے ہیں کہ وہ ہاتھ کٹا قزاق وہاں پہنچ جاتا ہے اور عروج اور تمام ساتھی اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ سخت مقابلے کے بعد اس قزاق کو پکڑ لیا جاتا ہے اور پھر سب اس کے بتائے گئے مقام پر حلیہ بدل کر اور پیٹرو سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں وہ ابو محمد کو قزاقوں سے چھڑاتے ہیں اور عروج ٹیو کو یہ کہہ کر قتل کر دیتا ہے کہ "ہر مرتبہ ایسا نہیں ہوگا۔ اسحاق بے نے پوسیدون کو سمندر میں پھینک دیا تھا، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مرا بھی تھا یا نہیں۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔”

اس سے بابا عروج کی دُور اندیشی کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پوسیدون اب بھی زندہ ہو سکتا ہے اور در حقیقت وہ زندہ تھا بھی۔

بابا عروج

مدلّی میں اسحاق بے خضر کو بتاتے ہیں کہ یورگو سے ہماری دشمنی محض اس بنا پر نہیں تھی کہ اس کی بیٹی نے عروج سے شادی کر لی تھی بلکہ اس نے مجھ سے لڑتے ہوئے خود اعتراف کیا تھا کہ میں والد یعقوب آغا کے زمانے سے ان کے خاندان کا دشمن ہو۔


زینب اور حمزہ مدلّی میں خضر کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ استاد سلیمان خضر کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ زینب اور حمزہ کو لے کر جزیرے سے دُور نکل جائے لیکن خضر کو استاد کی دکان سے نکلتے ہوئے ریڈکو دیکھ لیتا ہے اور تعاقب کر کے ان کے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔


اُدھر یورگو مدلّی سے فرار ہو کر اسکندریہ میں اپنی بیٹی اور عروج کی بیوی دسپینا کے پاس پہنچ جاتا ہے جبکہ عروج قزاقوں کو شکست دے کر جب اپنے جہاز پر واپس آتا ہے تو شاہین بے اس پر قبضہ کر کے اس کے دیگر ساتھیوں اور ابو محمد کو اغوا کر چکا ہوتا ہے۔ وہ عروج کو چیلنج کرتا ہے اور یہیں قسط اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: