باربروس: بحیرۂ روم کی تلوار، ایک تاریخی ڈراما، قسط 5

0 88

‏’باربروس: بحیرۂ روم کی تلوار’ ترکی کی ایک نئی ٹیلی وژن سیریز ہے جو 16 ویں صدی کے چار مشہور بھائیوں خضر، عروج، الیاس اور اسحاق کی داستان ہے۔

جنید آئیسان، اوزان آق سنگور اور اوغوز ایاز کی لکھی گئی اور طوغان امید قراجا اور عدیل ادیب کی ہدایت میں بنائی گئی اس سیریز میں ارطغرل غازی کے کردار سے مشہور ہونے والے اینجن آلتن دوزیاتن نے عروج کا کردار ادا کیا ہے جبکہ خضر یعنی خیر الدین باربروس کے کردار کو اولاش تونا آس تپہ نے نبھایا ہے۔

اس ڈرامے کی چار اقساط کی کہانی پہلے بیان ہو چکی ہے، آج ہم پانچویں قسط کا رخ کریں گے جس میں ہمیں سب سے پہلے جعفر اور اس کے کارندوں کی اپنے منصوبوں میں ناکامی نظر آتی ہے۔ جعفر پکڑا جاتا ہے اور جب عروج پوچھتا ہے کہ یہ منصوبہ کس کا تھا تو وہ کہتا ہے کہ میری سازش تھی۔ عروج کہتا ہے تم اتنے بہادر نہیں ہو، یہ کام کس کے کہنے پر کیا تھا، اس کا ہم پتہ چلا ہی لیں گے۔


رادکو خضر کے خلاف ناکام کاروائی کے بعد اپنے "زخمی” جہاز کو لے کر اسکندریہ آتا ہے اور اس کی مرمت کے بعد ایک مرتبہ پھر خضر کا پیچھا کرنے کا اعلان کرتا ہے۔

جبکہ خضر اسحاق آغا، زینب، نیکو اور حمزہ کے ساتھ اسکندریہ پہنچ جاتا ہے جہاں ہمیں ایستر بھی نظر آتی ہے۔ وہی جس کے بارے میں استاد سلیمان نے مرنے سے پہلے خضر کو وصیت کی تھی کہ ایستر سے ملنا۔

خضر اور نیکو کو دیکھتے ہی ایستر بھاگ کھڑی ہوتی ہے، وہ بڑی مشکل سے اسے پکڑتے ہیں کہ رادکو آ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے "خضر! چڑیا پکڑی تو تم نے ہے، لیکن اسے لے کر ہم جائیں گے۔” یہاں خضر اور نیکو اس کو ایک مرتبہ پھر ناکوں چنے چبواتے ہیں اور رادکو کے بہت سے بندے مارے جاتے ہیں لیکن اس پورے ہنگامے میں ایستر ان کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔


ادھر کلیمنوس میں پیٹرو پوسیدون کو ایک نیا ٹولا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ پوسیدون مر گیا، اب ‘کالے قزاق’ کا جنم ہوا ہے۔ وہ اسے حکم دیتا ہے کہ "ترکوں کے لیے بحیرۂ روم کو جہنم بنا دو۔”

کالے قزاق کو پہلا حکم عروج کے قتل کا ملتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ عروج اسکندریہ سے سالونیکا جا رہا ہے اور اس راستے میں قتل و غارت گری مچائی جائے۔ کالے قزاق یعنی پوسیدون کے اس سوال پر کہ اسے براہِ راست حملہ کر کے مارا کیوں نہ جائے؟ جس پر پیٹرو کہتا ہے یاد رکھو یہ میری جنگ ہے اور اس جنگ میں تم میرا ہتھیار ہو، اس لیے جو کہا جائے وہی کرو۔

بہرحال، پوسیدون قلعے سے باہر نکلتا ہے، لیکن احاطے میں ہی اس پر کئی افراد حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ وہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے اور سب کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اچانک ایک کونے سے پیٹرو نمودار ہوتا ہے اور اس کو خوب شاباش دیتا ہے۔ پوسیدون کو بتایا جاتا ہے کہ یہ سب لوگ قیدی تھے، جنہیں تمہیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ پتہ چلانا تھا کہ تم عروج سے لڑنے کے لیے تیار ہو یا نہیں۔ اگر مارے جاتے تو ظاہر ہو جاتا ہے کہ تم عروج سے لڑنے کے قابل نہیں۔

یہاں پوسیدون کہتا ہے مجھے یقین ہے کہ جب میں واپس آؤں گا تو جہاز ترکوں کی لاشوں سے بھرا ہوگا اور اس کے آگے آگےعروج کی لاش لٹک رہی ہوگی۔ یوں میں اپنے بھائی کا بدلا لوں گا۔

بعد میں پیٹرو ڈیاگو سے کہتا ہے اگر پوسیدون عروج کو نہیں مار پایا تو خود مارا جائے گا، اس کے پاس کامیابی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔


اُدھر عروج ساتھیوں کو اپنے حقیقی منصوبے سے آگاہ کرتا ہے کہ ان کا مشن دراصل اونیتا کا مٹانا ہے کیونکہ اس اتحاد کا ‘چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر’ ہے اور اگر انہوں سے اسے بے نقاب نہ کیا تو اس سمندر میں بحری جہاز مسلمانوں کے خون میں چلتے نظر آئیں گے۔ اپنی تقریر میں عروج کہتا ہے "بھیڑیوں کی دنیا میں ہم میمنے بن کر نہیں رہ سکتے۔ آج سے عروج کے جہاز صرف کافروں کو سمندروں میں ڈبونے کے لیے ہی چلیں گے۔ آج سے ہم ‘بحیرۂ روم کی تلوار’ ہیں۔

یعنی ڈرامے کا نام اسی تقریر سے لیا گیا ہے، ‘باربروس، بحیرۂ روم کی تلوار۔


سرائے میں سلویو اپنی بیٹی ایزابیل کو کمرے میں قید کر دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے اس کے منہ پر اپنے بھائی کی رہائی کی بات کرتی ہے۔

بعد ازاں سلویو کو اونیتا کے ایک نمائندے سے باتیں کرتے دکھایا گیا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ ہم اپنے حتمی مقصد کے حصول کے لیے بڑی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ایزابیل چھپ کر یہ سب سن لیتی ہے اور عروج کی باتیں یاد کر کے اس کے شک و شبہات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

ایزابیل اپنے ساتھی غلام کو کچھ معلومات حاصل کرنے کا کہتی ہے اور اسے پتہ چل جاتا ہے کہ اس کا بھائی کہاں قید ہے۔


بعد ازاں اسحاق آغا اور خضر کو عروج کے گھر پر دکھایا جاتا ہے جہاں دسپینا ان کا استقبال کرتی ہے۔ یہاں باتوں باتوں میں اسحاق آغا دسپینا سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے بابا کہاں ہیں؟ جس پر وہ کہتی ہے کہ میرا ان سے برسوں سے رابطہ نہیں ہوا، بلکہ میں تو آپ لوگوں سے ان کے بارے میں پوچھنا چاہ رہی تھی۔

آسیہ کو اسحاق آغا کے اسکندریہ پہنچنے کا پتہ چل جاتا ہے اور وہ یورگو کو بتاتی ہے کہ اسحاق یہیں پر ہے۔ یہ سن کر تو یورگو کے ہوش اڑ جاتے ہیں اور کہتا ہے کہ "یہ شخص میرے ٹکڑے کر دے گا، میں ایک لمحے کے لیے بھی اب یہاں نہیں ٹھیر سکتا۔” آسیہ بڑی مکار ہوتی ہے، وہ اپنے شیطانی ذہن سے ایک سازش تیار کرتی ہے اور یورگو کو کہتی ہے کہ یہ بھاگنے کا نہیں بلکہ دسپینا کو دکھانے کا موقع ہے۔ اگر اسحاق آغا اس کے سامنے تم پر حملہ کریں گے تو دسپینا دیکھ لے گی اور تمہاری سب باتوں پر اسے یقین آ جائے گا۔

یوں وہ بدلا لینے کی ٹھان لیتے ہیں اور یورگو کہتا ہے کہ اب میں یہیں پر ہوں۔ دیکھتے ہیں کون زیادہ طاقتور ہے اور کس کا ہتھیار زیادہ تیز ہے۔


ادھر اسکندریہ میں سلویو رادکو کو بتاتا ہے کہ اس نے خضر کے ٹھکانے کا پتہ چلا لیا ہے۔ یہ دونوں عروج کے گھر پر ہیں۔ جس پر رادکو کہتا ہے کہ میرا ہدف اس گھر میں موجود ہر شخص کو ختم کرنا ہے۔ ان دونوں کی گفتگو ایزابیلا چھپ کر سن رہی ہوتی ہے اور یہ سنتے ہی اس کے ہاتھ میں موجود برتن گر جاتا ہے۔ سلویو سمجھ جاتا ہے کہ باہر کوئی موجود ہے۔ وہ جیسے ہی باہر نکل کر دیکھتا ہے تو ایزابیلا جا چکی ہوتی ہے لیکن وہ نیچے پڑا پانی دیکھ کر سمجھ جاتا ہے کہ کوئی ہماری گفتگو سن رہا تھا۔

بعد ازاں سلویو رادکو سے کہتا ہے کہ اگر اس گھر سے کوئی بھی زندہ نکلا تو وہ عروج کو جا کر بتا دے گا اور وہ میرے پیچھے پڑ جائے گا، اس لیے سب کا خاتمہ یقینی بنانا ضروری ہے۔


سالونیکا جاتے ہوئے راستے میں عروج کے جہاز پر بحری قزاقوں کا حملہ ہو جاتا ہے۔ پہلے حملے کے حلاف کامیاب دفاع کر کے عروج کہتا ہے کہ ایسا لگتا ہے یہ مرنے کے لیے ہی آ رہے ہیں۔ یہ کوئی جال ہے، اس لیے سب محتاط رہیں۔ عین اسی موقع پر پیچھے سے کئی قزاق جہاز میں گھس جاتے ہیں۔ سخت لڑائی کے بعد تمام قزاقوں کا صفایا ہو جاتا ہے۔ عروج ایک قزاق سے سوال کرتا ہے کہ یہ جانتے بوجھتے کہ تم سب مارے جاؤ گے، پھر بھی تم نے یہ حملہ کیوں کیا؟ جس پر وہ کہتا ہے اس بات کو چھوڑ دو۔ ہمیں مارنے کے بعد جب تم یہ سمجھ رہے ہو گے کہ تم نے فتح حاصل کر لی ہے، تب تک ہم مسلمانوں کے ہر گاؤں کو نذر آتش کر چکے ہوں گے۔ تم میں سے کوئی یہاں سے زندہ نہیں نکل پائے گا۔

یہ کہنے کے بعد الیاس اس سے تفصیلات لے ہی رہا ہوتا ہے کہ عروج اسے قتل کر دیتا ہے۔ الیاس پوچھتا ہے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو عروج نے کہتا کہ ایک شخص جو مرنے والا ہو، اس کے الفاظ بہت خطرناک ہوتے ہیں، تلوار اور تیر سے بھی زیادہ خطرناک!

پھر عروج کہتا ہے کہ اس قزاق کے مطابق وہ مسلمانوں کے دیہات کا صفایا کر دیں گے، ہمیں ان مظلوموں کی مدد کرنی چاہیے۔ جس پر الیاس کہتا ہے کہ جہاز اُن کا نہیں ہے جس پر عروج الیاس کو سختی سے ڈانٹتا ہے اور کہتا ہے کہ مسلمانوں پر جہاں بھی ظلم ہوگا، ہمارا جہاز وہاں لنگر انداز ہوگا۔


کلمینوس میں پیٹرو پوسیدون کو عروج کے خاتمے کے لیے بھیجنے کے بعد اپنے دست راست ڈیاگو کو کہتا ہے کہ اسے گھات لگا کر خاموشی سے قتل کرنا پسند نہیں۔ وہ سرِ عام دی جانے والی اور عبرت انگیز موت کو پسند کرتا ہے۔ عروج کی موت کا ڈھنڈورا خوب پیٹا جانا چاہیے تاکہ جو بھی اس کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتا ہے، اپنے ارادوں سے باز آ جائے۔

پھر وہ ڈیاگو سے سوال کرتا ہے کہ عروج کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟ ڈیاگو جواب دیتا ہے اس کے بھائی الیاس کی رحمدلی۔ اسی وجہ سے وہ پوسیدون کے خلاف بھی پھنس گئے تھے۔ جس پر پیٹرو کہتا ہے تو ہم اب ان کے دل میں رحم دلی کے جذبات جگائیں گے اور انہیں غلطیاں کرنے پر مجبور کریں گے۔ "عروج سے نمٹنے کے بعد ہم خضر سے بھی نمٹ لیں گے۔”


عروج کے گھر پر قاتلانہ حملے کی خبر سننے کے بعد ایزابیلا اپنے محافظ کو بے ہوش کر کے خفیہ طور پر سرائے سے نکل جاتی ہے اور سب کو اس سازش کی اطلاع کر دیتی ہے کہ گھر پر حملہ ہونے والا ہے۔

کچھ دیر بعد چند لوگ گھر پر حملہ آور ہوتے ہیں لیکن گھر کو خالی پا کر نکلنے ہی والے ہوتے ہیں کہ خضر اور نیکو انہیں پکڑ کر ان کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

لیکن اسحاق آغا، دسپینا اور ایزابیلا کو یتیم خانے کے جاتے ہوئے راستے میں کچھ لوگ گھیر لیتے ہیں۔ وہ ایزابیلا کو حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اسحاق آغا انکار کر دیتے ہیں۔ لڑائی میں تینوں حملہ آور اسحاق آغا کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں اور وہ یتیم خانے پہنچ جاتے ہیں۔

ایزابیل کے یوں گھر سے بھاگ جانے اور اس کی کوئی اطلاع نہ ملنے پر سلویو غصے سے پاگل ہو جاتا ہے۔


یتیم خانے میں دسپینا اور ایزابیلا کے درمیان سخت کشیدگی دکھائی جاتی ہے۔ معاملہ ایک دوسرے پر خنجر تاننے تک پہنچ جاتا ہے۔ دسپینا دھمکی دیتی ہے کہ اگر وہ عروج کے گرد منڈلاتی رہی تو وہ اسے قتل کر دے گا جس پر ایزابیلا کہتی ہے کہ اس نے دوبارہ اگر اس کی بے عزتی کی، وہ اسے مار ڈالے گی۔


اُدھر پوپ کا نمائندہ کارڈینل لوکس کلمینوس پہنچتا ہے اور پیٹرو سے مل کر اس سے ابو محمد اور کتاب کے بارے میں پوچھتا ہے۔ دونوں کے حوالے سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر وہ غصے میں پیٹرو کو خوب کھری کھری سناتا ہے۔ اس کی گفتگو کے دوران بالآخر پیٹرو کا غصہ بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ کارڈینل کو قتل کر دیتا ہے۔

یہ صورت حال دیکھ کر ڈیاگو پریشان ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ پوپ کے بعد دوسرا اہم ترین آدمی تھا، یہ کیا کر ڈالا؟ جس پر پیٹرو کہتا ہے کہ ہم پوپ کو یہی بتائیں گے کہ کارڈینل لوکس ترکوں کے حملے میں مارے گئے۔


اسکندریہ میں قلیچ بے اپنے بیٹے شاہین کو طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اسے ایک آخری موقع دینا چاہتے ہیں۔ شاہین کہتا ہے کہ آپ کا ایک ہی بیٹا ہے اور اس کا نام عروج ہے۔ جس پر قلیچ بے کہتے ہیں کہ عروج سے حسد کی وجہ سے ہی تم آج اس مقام تک پہنچے ہو، اس سے نفرت چھوڑ دو۔ بعد ازاں، وہ اسے ایک جزیرے کی حکمرانی دینے پر آمادہ کرتے ہیں بشرطیکہ وہ ان کے کہنے پر چلے۔ جس پر شاہین بے وعدہ کرتا ہے کہ وہ ان کا ہر حکم مانے گا اور ان کا سب سے لائق بیٹا بن کر دکھائے گا۔


درویش بابا یتیم خانے آتے ہیں اور جب خضر آتا ہے تو انہیں وہاں بیٹھا دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ بعد ازاں تنہائی میں وہ درویش سے کہتا ہے کہ آپ سے ملنے کے بعد میری زندگی مشکل ہو گئی ہے۔ سلیمان استاد شہید ہو گئے، آپ نے راز کے حل کے لیے لکھی گئی تحریر بھی لے لی۔ آخر آپ ہیں کون؟ یہ راز کیسے حل ہوگا؟ جس پر درویش کہتے ہیں کہ جب تلوار اور قلم اکٹھے ہوں گے تو راز کھل جائیں گے۔ تو خضر کہتا ہے قلم کون ہے؟ تلوار کون ہے؟ مجھے مزید مت الجھائیں۔ جس پر درویش جواب دیتے ہیں کہ قلم تم ہو، پہلے قلم کا کام پورا کرو، پھر تلوار تمہارے پاس آ جائے گا۔ اس میں تمہاری مدد ایستر کرے گی۔ جب خضر پوچھتا ہے کہ آپ ایستر کو جانتے ہیں؟ جس پر وہ کہتے ہیں کہ میں ایک عام سا رہنما ہوں، صرف نشانات کو جانتا ہوں۔ ایستر منزل کے نشانات تک پہنچنے والے راستے کو روشن کرنے والوں میں سے ایک ہے۔ گم ہونے سے بچنا چاہتے ہو تو روشنی کو تلاش کرو۔


سرائے میں رادکو سلویو کو بتاتا ہے کہ اسے ایزابیل کے معاملے کا علم ہے، وہ یتیم خانے میں ہے اور جب معاملات ٹھنڈے ہو جائیں گے تو وہ اس سے بھی نمٹ لیں گے۔


ادھر عروج کا جہاز ایک جزیرے پر پہنچتا ہے جہاں مسلمانوں کا ایک گاؤں جلتا ہوا نظر آتا ہے۔ جہاز کا کپتان جزیرے پر جانے سے انکار کر دیتا ہے لیکن عروج کی دھمکی کے بعد وہ راضی ہو جاتا ہے۔ پھر وہ جزیرے پر پہنچتے ہیں اور حملہ آوروں کو مار بھگاتے ہیں۔ سب کے خاتمے کے بعد عروج کہتا ہے کہ یہ لڑائی میری توقعات سے زیادہ آسان تھی اور یہ بہت خطرناک بات ہے۔ بہرحال، گاؤں کے لوگ عروج اور اس کے ساتھیوں کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں اور انہیں ٹھیرنے کا کہتے ہیں لیکن وہ جانے پر اصرار کرتے ہیں۔ گاؤں سے نکلتے ہوئے عروج الیاس کو کہتا ہے کہ "ہمارے تو جعفر کو ہرانے میں ہی پسینے چھوٹ گئے تھے لیکن اگر بغیر خون پسینہ بہائے کوئی کامیابی مل جائے تو ضرور اس میں کچھ پوشیدہ ہے۔ ہم اس طرح دو بار جیت چکے ہیں۔” یعنی کامیابی کے بعد بھی عروج کی چھٹی حس اور دُور اندیشی اسے کسی خطرے سے خبردار کر رہی ہوتی ہے۔


دوسری جانب پیٹرو کو دکھایا جاتا ہے جو کہتا ہے کہ عروج ایک گاؤں کے مسلمانوں کو بچانے کی کوشش میں مارا جائے گا اور پھر کوئی مسلمان ملّاح کسی جلتے گاؤں کو بچانے کی ہمت نہیں کرے گا۔


اسکندریہ میں تلاش کے دوران خضر کو ایک جگہ ایستر نظر آ جاتی ہے۔ وہ اس کے پیچھے جاتے ہیں اور بڑی مشکل سے اس کے پاس پہنچ کر اسے بتاتے ہیں کہ انہیں سلیمان استاد نے بھیجا ہے۔ وہ یقین نہیں کرتی جس پر خضر وہ کتاب دکھاتا ہے۔ وہ اسے لے کر یتیم خانے کی طرف نکلتے ہیں لیکن انہیں علم نہیں ہوتا کہ وہ سلویو اور ان کے ساتھیوں کا حملہ ہونے والا ہے جبکہ رادکو بھی ان کے تعاقب میں ہے۔


اس قسط کا اختتام اس طرح ہوتا ہے ک پوسیدون کا جہاز توپیں تانے عروج کے جہاز کا نشانہ لیے کھڑا ہے اور بالآخر اس پر ایک گولا داغ دیتا ہے۔ دوسری جانب سلویو کے کارندے یتیم خانے میں گھس کر سب پر بندوق تانے ہوئے ہیں جبکہ رادکو اور اس کے گھر سوار سپاہی خضر، نیکو اور ایستر پر گولی چلا چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...