باربروس: بحیرۂ روم کی تلوار، ایک تاریخی ڈراما، قسط 8

0 71

‏’باربروس: بحیرۂ روم کی تلوار’ ترکی کی ایک نئی ٹیلی وژن سیریز ہے جو 16 ویں صدی کے چار مشہور بھائیوں خضر، عروج، الیاس اور اسحاق کی داستان ہے۔

آٹھویں قسط نشر کرنے میں دو ہفتے کی تاخیر ہوئی جس کے مختلف اسباب بتائے جاتے ہیں۔ بہرحال سبب جو بھی ہو لیکن ساتویں قسط سے کہانی میں کچھ تیزی نظر آئی بلکہ آٹھویں قسط میں تو ہمیں کئی لحاظ سے بہتریاں بھی نظر آئی ہیں مثلاً منظر کشی اور کیمروں کے زاویوں میں بھی بڑا فرق نظر آیا ہے۔

بہرحال، آٹھویں قسط سے ہدایت کار طوغان امید قراجا نہیں بلکہ بیرات اوزطوغان ہیں جبکہ اب ڈراما تحریر کرنے والے بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ البتہ اداکار تمام وہی ہیں، مثلاً ارطغرل غازی کے کردار سے مشہور ہونے والے اینجن آلتن دوزیاتن نے اس میں عروج کا کردار ادا کیا ہے جبکہ خضر یعنی خیر الدین باربروس کے کردار کو اولاش تونا آس تپہ نے نبھایا ہے۔

اب تک ناظرین کی عام شکایت یہی تھی کہ کہانی بہت سست روی سے آگے بڑھ رہی ہے اور بہت سے کردار ایسے ہیں جن کی اتنی اہمیت نہیں جتنا ان کے کردار کو طول دیا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ آٹھویں قسط سے ان کی یہ شکایت بھی دُور ہوجائے گی۔ آئیے دیکھتے ہیں اس قسط میں کیا کچھ ہوا:


تو یہ قسط شروع ہوتی ہے کلیمنوس سے، جہاں گزشتہ قسط کے اختتام پر عروج اور اس کے چند ساتھی رادکو اور ان کے کارندوں کے نرغے میں نظر آتے ہیں۔ لڑائی کے دوران جب حریف کی مزید کمک پہنچ جاتی ہے تو عروج کے ساتھ ایسے گولے پھینک کر فرار ہو جاتے ہیں جن کے پھٹتے ہی رادکو اور انتوان کا پورا لشکر کھانس کھانس کے بے حال ہو جاتا ہے۔ یہ ایک طرح کی آنسو گیس ہوتی ہے۔

کچھ یہی خضر کرتا ہے جو کتاب حاصل کر کے نکل ہی رہا ہوتا ہے کہ پیٹرو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ لڑائی کے دوران پیٹرو جیووانی کو قتل کر دیتا ہے جبکہ اس کا ایک وار نیکو کو بھی لگ جاتا ہے جو شدید زخمی ہو جاتا ہے۔ اس صورت حال میں خضر بھی وہی گولا پھینکتا ہے جس سے پورے کمرے میں دھواں پھیل جاتا ہے اور وہ پیٹرو کے ساتھیوں کو کھانستا ہوا بے حال چھوڑ کر کمرے سے نکل جاتا ہے۔ نیکو اسے اپنی جان بچانے کا کہتا ہے اور یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ کتاب وہیں رہ گئی ہے، جس پر خضر کہتا ہے کہ اس وقت سب سے اہم کام ہے تمہاری جان بچانا، کتاب بعد میں بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

گزشتہ قسط کے آخر میں جو تیسرا سنسنی خیز لمحہ چھوڑا گیا تھا، وہ اسکندریہ میں یورگو اور اسحاق آغا کا سامنا ہونا تھا۔ اسحاق آغا اس مرتبہ یورگو کا گلا گھونٹ کر اسے مارنے ہی والے ہوتے ہیں کہ پیچھے سے کوئی ان کے سر پر کوئی بھاری چیز مار دیتا ہے۔ جی ہاں! یہ دسپینا ہی ہوتی ہے جو اپنے باپ کی جان بچا لیتی ہے لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ قریب ہی کھڑی ایزابیل یہ منظر دیکھ رہی ہے۔ وہ حیران ہو جاتی ہے کہ آخر دسپینا نے کس کی جان بچانے کے لیے اسحاق آغا کے ساتھ ایسا کیا؟ اسے معلوم نہیں تھا کہ بچایا جانے والا شخص دراصل دسپینا کا باپ ہے۔

بہرحال، وہ اسحاق آغا کو بے ہوشی کے عالم میں اٹھوا کر ایک شفا خانے پہنچاتی ہے جہاں وہ ہوش میں آنے کے بعد ایزابیل سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ کتا مر گیا؟ وہ پوچھتی ہے کون؟ جس پر اسحاق آغا اسے بتاتے ہیں کہ جس شخص کو وہ مارنے کی کوشش کر رہے تھے، وہ ان کے خاندان کا ایک پرانا دشمن ہے اور جب سے دسپینا ہمارے خاندان کی بہو بنی ہے تب سے اس کی دشمنی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ وہ میری بیوی اور میرے بچوں کے قتل میں بھی ملوث تھا۔ ایزابیل یہ سب تفصیلات سن کر حیران رہ جاتی ہے لیکن اسحاق آغا کو یہی کہتی ہے کہ جس نے آپ کے سر پر کچھ مارا، میں اسے اندھیرے میں پہچان نہیں پائی، حالانکہ وہ دسپینا کو ایسا کرتے دیکھ چکی تھی۔

اگلے روز دسپینا کو اس حرکت پر بہت پشیمان دکھایا جاتا ہے۔ وہ آسیہ کے گھر پر اپنے والد ہی کو مورد الزام ٹھیراتی ہے اور کہتی ہے کہ میرے کہنے کے باوجود آپ کیوں نہیں گئے؟ یہاں اس پر یہ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ جو زیورات اس نے اپنے باپ کو دیے تھے وہ بھی جوئے میں گنوا بیٹھا ہے۔


کلیمنوس میں پیٹرو کے قلعے سے نکلنے کے بعد خضر اور نیکو کو چند صلیبی گھیر لیتے ہیں، لیکن عین موقع پر عروج اور اس کے باقی ماندہ ساتھی وہاں پہنچ جاتے ہیں اور خضر اور نیکو کو بچا کر جہاز پر پہنچاتے ہیں جبکہ پیٹرو ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔

جہاز پر خضر کے اصرار کے باوجود عروج کہتا ہے کہ فی الحال وہ اسکندریہ واپس جائیں گے اور نئے حملے کے لیے نئی منصوبہ بندی کریں گے کیونکہ کلیمنوس میں اس وقت سب ہوشیار اور خبردار ہیں، اس وقت دوبارہ حملہ کرنا خطرے سے خالی نہیں۔

پیٹرو کہتا ہے کہ اگر یہ خبر پھیل گئی کہ کوئی اس کے قلعے میں یوں گھسا تھا اور کار روائی کے بعد کامیابی سے فرار بھی ہو گیا تو اس کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچے گا، اس لیے وہ یہ کتاب فوراً پاپائے روم کے حوالے کرے گا، اسے حل کرنے کا کام رومی خود کریں۔ جس پر ڈیاگو اسے یاد دلاتا ہے کہ پاپائے روم نے صرف کتاب ہی نہیں بلکہ ابو محمد کو بھی طلب کیا تھا، جس پر پیٹرو کہتا ہے کہ اسے پکڑنے کے لیے وہ خود کار روائی کرے گا اور وہ انتوان اور ڈیاگو کو کلیمنوس میں چھوڑ کر رادکو کے ہمراہ اسکندریہ کا رخ کرتا ہے۔


ایزابیل اور دسپینا کا سامنا ہوتا ہے اور وہ اسے کہتی ہے کہ مجھے سب پتہ چل گیا ہے کہ تم اپنے باپ کو اسحاق آغا سے چھپا رہی ہو حالانکہ وہ ان کے بیوی بچوں کے قتل میں ملوث ہے۔ دسپینا اس الزام کو جھوٹ قرار دیتی ہے اور الٹا ایزابیل کو اس کے باپ کا طعنہ مارتی ہے۔ بہرحال، ایزابیل یہ کہہ کر چلی جاتی ہے کہ اپنے باپ کو جلد از جلد یہاں سے نکالو ورنہ اسحاق آغا اس کا خاتمہ کر دیں گے۔


جب عروج اسکندریہ پہنچنے کے بعد جہاز قلیچ بے کو واپس کرتا ہے تو شاہین کہتا ہے کہ ہماری دوستی کا جواب دشمنی سے کیوں؟ ہمارا جہاز کلیمنوس پر حملے میں استعمال کیا اور اب وہ ہمارے دشمن بن جائیں گے۔ قلیچ بے بھی یہاں شاہین کی بات کی تائید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حملہ غیر ضروری تھا۔ جس پر عروج انہیں یقین دلاتا ہے کہ ان کی دشمنی صرف ہمارے ساتھ ہے، آپ کے جہازوں سے نہیں۔ یہاں شاہین بے کہتا ہے کہ جہاز لینے سے پہلے اپنے ارادے ظاہر کرنے چاہے تھے، ہمیں پتہ ہوتا کہ یہ کار روائی ہوگی تو ہم تمہیں جہاز نہیں دیتے۔ جس پر عروج جواب دیتا ہے کہ میں اپنے خفیہ معاملات کسی کو نہیں بتاتا۔


اُدھر یتیم خانے کے باہر سے حمزہ کو اغوا کرنے کی ایک ناکام کوشش ہوتی ہے جبکہ درویش بابا عروج کے گھر آ کر چاروں بھائیوں سے ملتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ گو کہ راز اب بھی دشمن کے ہاتھ میں ہے لیکن جب تک وہ اسے حل نہیں کرتے، ان کے کسی کام کا نہیں۔ تب تک ہم راز حل کرنے والی چابی سے مل لیتے ہیں۔ یہ سن کر خضر درویش بابا کو ایستر سے ملاتے ہیں، جسے دیکھتے ہی وہ کہتے ہیں کہ یہ لڑکی گرہ نہیں کھول سکتی۔ خضر حیران ہو کر کہتا ہے کہ کیا یہ لڑکی راز کی چابی نہیں ہے؟ جس پر درویش بابا کہتے ہیں کہ راز کی چابی ایستر ہی ہے، لیکن یہ وہ ایستر نہیں ہے۔ اس پر ایستر غصے میں آ جاتی ہے اور خضر کی طرف اشارہ کر کے کہتی ہے کہ میں نے اسے کئی مرتبہ کہا لیکن اس نے میری ایک نہ سنی۔ خضر کہتا ہے کہ اسے بچانے کے لیے ہم نے اپنی جانیں داؤ پر لگا دیں اور یہ وہ ایستر نہیں؟ کیا سلیمان استادغلط تھے؟ جس پر درویش کہتے ہیں کہ وہ غلط نہیں تھے، لیکن اصل ایستر نے خود کو چھپانے کے لیے اس لڑکی کو آگے کیا ہے۔ جس پر خضر کہتا ہے ایک گرہ کھلنے کے بعد دوسری گرہ آ جاتی ہے، آخر یہ کون سا کھیل ہے؟ درویش بابا اسے سمجھاتے ہیں کہ یہ کھیل نہیں، ایک پیچیدہ راز ہے جس میں کئی گرہیں چھپی ہوئی ہیں۔


عروج کی واپسی پر اسحاق آغا اسے بتاتے ہیں کہ مجھے یہاں اسکندریہ میں یورگو ملا تھا، میں اسے مارنے ہی والا تھا کہ کسی نے مجھے پیچھے سے سر پر ضرب لگائی اور میں بے ہوش ہو گیا۔ پتہ نہیں چلا وہ کون تھا لیکن مجھے شک ہے کہ وہ دسپینا تھی اور میرے خیال میں وہ اپنے باپ سے ملتی جلتی بھی ہے۔ عروج کہتا ہے کہ دسپینا مجھ سے کچھ نہیں چھپاتی اور میں اس معاملے پر اس سے پوچھوں گا۔ اس کے بعد وہ دسپینا سے پوچھتا ہے تو وہ صاف مکر جاتی ہے۔ عروج پھر کہتا ہے کہ اگر ملاقات ہوئی بھی ہے تو بتا دو، میں اسحاق آغا کو نہیں بتاؤں گا لیکن اگر یہ بات بعد میں ثابت ہوئی تو اچھا نہیں ہوگا۔ اس پر بھی دسپینا کہتی ہے کہ میری اپنے باپ سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔


پیٹرو اسکندریہ پہنچ جاتا ہے اور سرائے میں سلویو سے کہتا ہے کہ انہیں ابو محمد کے مسئلے سے نمٹنا ہے، جس پر وہ اسے بتاتا ہے کہ ابو محمد مملوک سلطنت کی مستقل حفاظت میں ہے اور اگر انہیں پتہ چل گیا کہ میں اس کی تلاش کر رہا ہوں تو ۔۔۔۔ یہاں پیٹرو سلویو کی بات کاٹتے ہوئے کہتا ہے کہ تو وہ تمہارا سر قلم کر دیں گے؟ یہ کہہ کر وہ اپنا خنجر نکال کر سلویو کی گردن پر رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے اگر تم واقعی اتنے بے وقوف ہو جتنا خود کو ظاہر کرتے ہو، تو میں خود تمہارا سر کاٹ دیتا ہے۔ وہ دھمکی دیتا ہے کہ اونیتا تمہیں اتنا دولت مند بنا سکتا ہے تو یہ سب چھین بھی سکتا ہے۔ تب سلویو ابو محمد کو جلد از جلد پکڑنے میں مدد دینے کا وعدہ کرتا ہے۔


ادھر عروج پر ایزابیل کے بلانے پر سرائے پہنچ جاتا ہے اور ابھی ان کے درمیان بات چیت جاری ہی ہوتی ہے کہ انہیں پیٹرو سرائے سے باہر جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ عروج اسے الفانسو کے نام بلاتا ہے، کیونکہ اس نے اپنا یہی تعارف کروایا تھا۔ جب عروج پوچھتا ہے کہ آپ اسکندریہ کیا خریدنے آئے ہیں؟ تو وہ کہتا ہے اس مرتبہ میں جانیں لینے آیا ہوں۔ پھر ایسا ظاہر کرتا ہے کہ گویا اس نے یہ مذاق کیا تھا اور کہتا ہے دراصل جانوروں کی تجارت کرنا چاہ رہا ہوں۔ پھر وہ عروج کے قریب آ کر آہستہ سے کہتا ہے کہ سنا ہے آپ نے کلیمنوس پر حملہ کیا تھا؟ وہ بڑے خطرناک لوگ ہیں، آپ کو محتاط رہنا چاہیے۔ وہ بہت خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ آپ کے سامنے کھڑے ہوں، آپ کی آنکھوں میں دیکھ رہے ہوں لیکن آپ کو پتہ بھی نہ ہو۔ جس پر عروج کہتا ہے کہ اگر وہ ہماری آنکھوں میں دیکھ رہے ہیں تو ہم بھی ان کی آنکھوں میں دیکھ رہے ہیں۔

اس موقع پر عروج کے چہرے پر ایسے تاثرات دکھائے جاتے ہیں گویا وہ پیٹرو کو اچھی طرح جانتا پہچانتا ہے بلکہ اس کی آنکھوں کے ذریعے اس کی روح کے اندر جھانک رہا ہے۔

بہرحال، پیٹرو بعد میں سلویو سے کہتا ہے کہ تمہاری بیٹی ایزابیل عروج کے بہت قریب ہے۔ اونیتا کے لیے کام کرنے والے کسی بھی فرد کے لیے یہ ٹھیک نہیں کہ وہ اس کے کسی دشمن کے اتنا قریب ہو۔ ساتھ ہی وہ دھمکی بھی دیتا ہے کہ اونیتا صرف اپنے اراکین پر بھروسا کرتا ہے، ان کے بچوں پر نہیں۔ یہیں اسے ابو محمد کے ٹھکانے کا بھی پتہ چلتا ہے۔

عروج، خضر اور درویش بابا کتاب اور ایستر کے معاملے پر بات کرتے ہیں، جس کے دوران درویش بابا کہتے ہیں کہ اصل ایستر سے ملنے کے لیے ہمیں ابو محمد کا رخ کرنا چاہیے جبکہ اب تو رومیوں کا رخ بھی اسی طرف ہوگا۔ وہ ابو محمد کے ٹھکانے کا معلوم کرتے ہیں جو مملوکوں کی ایک پرانی رصد گاہ میں خیرہ بے کے ساتھ ہوتا ہے۔

ادھر پیٹرو، رادکو اور ان کے کارندے بھی ابو محمد کی تلاش میں اسی علاقے کی طرف رواں ہوتے ہیں۔ ان کے حملے سے پہلے ہی عروج کے دو ساتھی وہاں پہنچ جاتے ہیں اور انہیں آنے والے خطرے کی اطلاع دیتے ہیں لیکن ابھی وہ علاقے سے نکل ہی نہیں پاتے کہ حملہ ہو جاتا ہے۔

اُدھر عروج اور دیگر ساتھی بہت تیزی سے ٹھکانے کی طرف آ رہے ہوتے ہیں کہ راستے میں عروج کا گھوڑا گر جاتا ہے اور وہ منہ کے بل زمین پر گر کر بے ہوش ہو جاتا ہے۔ عین اسی موقع پر اطراف کے جنگل سے کئی لوگ نکل پر ان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پیٹرو نے اپنے آدھے ساتھیوں کو عروج کے راستے میں جال بچھانے اور انہیں مارنے پر لگایا اور باقی کو رادکو کے ساتھ ابو محمد کے ٹھکانے کی طرف بھیجا۔ بہرحال، دونوں جگہ سخت لڑائی ہوتی ہے، جس کے دوران پیٹرو خیرہ بے کو گولی مار دیتا ہے جو اس کے بائیں کندھے پر جا لگتی ہے اور ابو محمد پکڑا جاتا ہے۔ پیٹرو کے کارندے جاتے جاتے عروج کے دو ساتھیوں کو شہید بھی کر جاتے ہیں۔

عروج، خضر، الیاس اور دیگر سب دشمنوں کو ٹھکانے لگا دیتے ہیں لیکن وہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ گھات اس لیے لگائی گئی تھی تاکہ ہم ابو محمد تک بر وقت نہ پہنچ سکے۔ بہرحال، وہ جب خیرہ بے کے ٹھکانے پر پہنچتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ کار روائی پہلے ہی ہو چکی ہے اور نہ صرف ابو محمد اغوا ہو چکا ہے بلکہ ان کے دو ساتھی بھی شہید ہو چکے ہیں۔ زخمی خیرہ بے عروج کو بتاتا ہے کہ حملہ آور کلیمنوس کے تھے۔

یہاں خضر کہتا ہے کہ اس منصوبہ بندی کا علم صرف ہمیں تھا تو کسی کو کیسے پتہ چلا کہ ہم خیرہ بے کے ٹھکانے پر آنے والے ہیں اور اس نے راستے میں گھات لگائی؟ یہاں منجم بتاتا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ حرکت جعفر کی ہو کیونکہ جب وہ اسکندریہ میں مملوک سپاہیوں سے بات کر رہا تھا تو اس کے بعد اسے جعفر ملا تھا، جس نے پوچھا کہ تم مملوک سپاہیوں سے کیا بات کر رہے تھے؟ جس پر میں نے اسے کہا کہ مجھے جلدی ہے، میں نے کہیں جانا ہے۔ اس عروج پر منجم پر سخت غصہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہاری معمولی سی گفتگو نے بھی اس کو شک میں ڈال دیا اور اپنا نتیجہ نکال لیا اور یہ معمولی سی غفلت دو ساتھیوں کی شہادت کا سبب بنی۔ یہاں سب کے چہرے پر غم و غصے کی شدید کیفیت نظر آتی ہے۔ عروج قسم اٹھاتا ہے کہ ہم کتاب اور ابو محمد کو یوں نہیں چھوڑ سکتے، انہوں نے اپنا بدلہ لے لیا ہے، اب ہم لیں گے۔


پیٹرو ابو محمد اور کتاب کو پاپائے روم کے نمائندوں کے حوالے کرنے کے لیے اونیتا کے جہاز طلب کرتا ہے اور ان کی منزل قیرپہ جزیرے کو بناتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اونیتا کے جہاز کلیمنوس میں داخل ہوں۔


اُدھر عروج اپنے ساتھیوں کے جنازے پر قسم کھاتا ہے کہ وہ ان کا انتقام لے گا۔ تجہیز و تکفین کے بعد وہ سیدھا سرائے پہنچتا ہے اور جعفر کو پکڑ لیتا ہے، جو اس وقت جوا کھیلنے میں مصروف تھا۔ یہاں میز پر موجود زیورات بھی عروج کو نظر آتے ہیں، جنہیں دیکھتے ہی اسے شک ہو جاتا ہے۔ بہرحال، ابھی وہ جعفر سے تفتیش کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ سلویو آ جاتا ہے اور انہیں روکتا ہے۔ جس پر عروج بتاتا ہے کہ اس نے ہماری جاسوسی کی ہے اور ہمارے بندے مارے گئے ہیں۔

یہاں دکھایا جاتا ہے کہ جعفر منجم کی بات سلویو کو بتاتا ہے کہ عروج کے ساتھی کسی جلدی میں ہیں اور وہ مملوک سپاہیوں سے بات کر رہے تھے۔ سلویو سمجھ جاتا ہے کہ پیٹرو کی طرح عروج بھی ابو محمد تک پہنچنا چاہتا ہے اور پھر وہ اسی لحاظ سے ان کے خلاف جال بچھاتے ہیں۔

سلویو کے دھمکانے کے باوجود عروج کہتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب جعفر کا کیا دھرا ہے اور جانے سے پہلے اس کی ایک انگلی کاٹ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اب ہر سازش پر اس کی ایک انگلی کاٹے گا اور وقت آنے پر اس کے مالکوں کے سر بھی۔


سرائے سے نکلنے کے بعد عروج حوروزجو کو کہتا ہے کہ میں نے جوئے کی میز پر کچھ زیورات دیکھے تھے، جو جانے پہچانے لگ رہے تھے۔ معلوم کرو کہ جعفر کے پاس یہ سونا کہاں سے آیا۔ حوروزجو اور منجم ایک روز جعفر کو ایک ویران گلی میں پکڑ لیتے ہیں اور اس سے زیورات کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ سخت پٹائی کے بعد وہ بتاتا ہے کہ یہ زیورات ایک آدمی سے جوا کھیلتے ہوئے جیتے تھے، جس کا نام یورگو تھا۔


سرائے میں ایزابیل کے ہاتھ ایک دستاویز لگتی ہے جس کے مطابق اونیتا کے جنگی جہاز کسی مہم پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ حیران رہ جاتی ہے کہ جنگی جہاز کبھی اتنی جلدی کسی مہم پر نہیں جاتے اور انہیں با آسانی کسی کے حوالے نہیں کیا جاتا، تو یہ آخر کہاں جا رہے ہیں؟ وہ معاملے کا کھوج لگاتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ یہ جہاز قیرپہ جزیرے پر جا رہے ہیں اور وہاں سے روم روانہ ہوں گے۔ وہ سمجھ جاتی ہے کہ یہ کلیمنوس والوں کا منصوبہ ہے اور سلویو اس میں ان کا شریک ہے۔


عروج خیرہ بے کی عیادت کے لیے جاتا ہے جہاں وہ بتاتا ہے کہ ابو محمد کے اغوا پر مملوک سلطنت سخت غصے میں ہے اور اس واقعے کے تمام کرداروں پر کڑی نگاہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ عروج کہتا ہے کہ اب اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے، وہ ہے کلیمنوس پر ایک بھرپور حملہ۔ میں قلیچ بے سے جہازنہیں لے سکتا، اگر مملوک سلطنت اپنے بحری جہاز دے تو میں ابو محمد کو واپس لا سکتا ہوں۔ جس پر خیرہ بے کہتا ہے کہ اس وقت سلطنت تمہیں مشکوک سمجھ رہی ہے، وہ تمہیں دھیلا نہیں دے گی، جہاز تو دُور کی بات ہے۔ جس پر عروج کہتا ہے تو یہ کام مملوک سلطنت کو خود کرنا چاہیے، ٹھکانہ تو انہیں ہے ہی۔ خیرہ بے کہتا ہے کہ کلیمنوس کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ جوابی حملہ ہوگا، اس لیے وہ کسی صورت ابو محمد کو کلیمنوس نہیں لے جائیں گے۔ اس لیے اگر ہم وہاں گئے بھی تو خالی ہاتھ آئیں گے اور ساتھ ہی پوپ اور کلیمنوس دونوں دشمن بھی بن جائیں گے۔ مملوک سلطنت یہ خطرہ مول نہیں لے گی۔ اب صرف ایک راستہ بچا ہے، وہ ہے اپنی مدد آپ کا۔ ابو محمد کو واپس لاؤ ورنہ مملوک تلواریں ہمارے سر پر ہوں گی۔


اس خطرناک صورت حال کا انکشاف ہونے کے بعد عروج جیسے ہی وہاں سے نکلتا ہے، حوروزجو اسے بتاتا ہے کہ زیورات کے بارے میں پتہ چل گیا ہے، یہ یورگو نامی کسی شخص کے تھے۔ یہ نام سنتے ہی عروج کو پورا معاملہ سمجھ آ جاتا ہے۔ وہ گھر کا رخ کرتا ہے اور دسپینا کو بتاتا ہے کہ تم نے تو کہا تھا کہ تمہاری اپنے باپ سے ملاقات نہیں ہوئی؟ میں نے آج سرائے میں تمہارے زیورات دیکھے ہیں کہ جہاں تمہارا باپ انہیں جوئے میں ہارا تھا۔ تم نے سچ بتانے کا موقع ضائع کیا اور جھوٹ بولا۔ اور یہ سوال بھی کرتا ہے کہ کیا اس رات اسحاق آغا کو سر پر ضرب لگا کر بے ہوش کرنے والی تم تھیں؟ یہ سننے کے بعد دسپینا کے تو ہوش اڑ جاتے ہیں، وہ بہت وضاحتیں کرتی ہے کہ وہ اپنی نظروں کے سامنے اپنے باپ کو مرتے نہیں دیکھ سکتی تھی اور اس نے یہ سب اپنے خاندان کو بچانے کے لیے کیا۔ لیکن عروج کہتا ہے میں سب سے زیادہ تم پر اعتماد کرتا تھا، لیکن تم نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھوٹ بولا، میں اپنے ہونے والے بچے کی خاطر اسحاق آغا کو تو کچھ نہیں بتاؤں گا لیکن تم پر اعتماد اب نہیں رہا۔


عروج کو ایزابیل سے ایک پیغام موصول ہوتا ہے کہ کلیمنوس کے حوالے سے ایک اہم معلومات اس کے ہاتھ لگی ہے۔ وہ صبح بازار کی پچھلی گلی میں ملاقات کرتے ہیں، جس میں ایزابیل بتاتی ہے کہ اونیتا کے کچھ جنگی جہاز قیرپہ جزیرے سے ہوتے ہوئے روم جا رہے ہیں اور غالباً ابو محمد کو انہی جہازوں سے لے جایا جائے گا۔

ان دونوں کو گفتگو کرتے ہوئے یورگو دیکھ لیتا ہے لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس سے نئی سازشیں پیدا کرتا، اسحاق آغا اسے گردن سے پکڑ لیتے ہیں۔ اس مرتبہ وہ زیادہ بات کیے بغیر خنجر کے کئی وار کر کے اس کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

بہرحال، اتنی اہم معلومات حاصل ہونے کے بعد عروج پھر قلیچ بے کے پاس پہنچ جاتا ہے اور ان سے تین بحری جہاز طلب کرتا ہے۔ اس مرتبہ عروج کا لہجہ، انداز اور طریقہ بالکل مختلف نظر آتا ہے اور وہ پورے اعتماد کے ساتھ بات کرتا ہے۔ ابھی وہ قلیچ بے کے حتمی جواب کا منتظر ہی ہوتا ہے کہ خادم دروازہ کھولتا ہے اور درویش بابا کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر قلیچ بے احتراماً کھڑا ہو جاتا ہے اور کچھ ہی دیر میں درویش بابا کی باتیں اسے مسحور کر دیتی ہیں۔ درویش بابا کہتے ہیں تم اپنے جہاز سونے کی تجارت کے لیے تو دیتے ہو لیکن دین کی دعوت کا کام کرنے والے بہادروں کو نہیں دیتے؟ قلیچ بے وضاحت کرتے ہیں کہ عروج نے کلیمنوس پر حملہ کیا تھا، میں ان کی دشمنی مول نہیں لینا چاہتا۔ جس پر درویش بابا کہتے ہیں کہ تم تمہیں قلیچ (تلوار) کیوں کہتے ہیں؟ اس لیے کیونکہ تم نے کفار کے خلاف تلوار اٹھائی تھی۔ یہ جہاز تمہارے پاس کفار سے لڑائی کے ذریعے ہی آئے۔ تم ہماری دعوت کے سپاہی تھے، لیکن اب امیر آدمی بن گئے ہو تو دعوت ہی سے رُو گردانی کر رہے ہو؟ اس کے بعد درویش بابا کہتے ہیں کہ عروج کو ایک ایسے مسئلے کے لیے جہاز درکار ہیں جو تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے، اس لیے جہاز اس کے حوالے کرو۔


اُدھر آسیہ کی آمد پر دسپینا اسے دھکے دے کر نکال دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ عروج کو سب پتہ چل چکا ہے۔ لیکن آسیہ کہتی ہے کہ میں تمہارے باپ کی ایک خبر لے کر آئی ہوں، شاید اس کا قتل ہو گیا ہے۔ یہ سن کر دسپینا دیوانہ وار دوڑتی ہے اور مردہ خانے میں یورگو کی لاش دیکھنے کے بعد کہتی ہے مجھے پتہ ہے آپ کی مخبری کس نے کی ہے، میں آپ کا بدلہ لوں گی اور ایزابیل کو قتل کر دوں گی۔

اس کے بعد وہ سیدھا سرائے پہنچتی ہے اور ایزابیل سے لڑ پڑتی ہے، جس کی تمام تر وضاحتیں بیکار جاتی ہیں اور جب وہ گلا گھونٹ کر اسے مارنے کی کوشش کرتی ہے تو مزاحمت کے دوران دسپینا سیڑھیوں سے نیچے گر جاتی ہے اور بے ہوش ہو جاتی ہے۔


دوسری جانب عروج کو ایک جہاز پر اپنے ساتھیوں کے حوصلے بلند کرتے دکھایا جاتا ہے اور اسحاق آغا بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ اب میں تمہارا آغا نہیں بلکہ ایک سپاہی ہوں۔


پیٹرو ابو محمد اور کتاب کے ساتھ قیرپہ جزیرے پر پہنچ جاتا ہے جہاں رومی وفد پہلے سے موجود ہوتا ہے لیکن انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ جزیرے کی دوسری سمت عروج اور اس کے ساتھی بھی پہنچ چکے ہیں۔

مسیحی لشکر بہت بڑا ہوتا ہے، لیکن عروج ایک جذباتی خطاب کرتا ہے کہ آج آج حق کے لیے لڑنے والا ہر سپاہی علیؓ اور ہر تلوار ذوالفقار ہے، اگر مرے تو شہید، زندہ رہے تو غازی!

پہلے تیروں سے حملہ کیا جاتا ہے اور پھر عام حملہ شروع ہو جاتا ہے۔ عروج کے ساتھی بہت بے جگری سے لڑتے ہیں، لیکن اس ٹڈی دل کے گھیرے میں آ جاتے ہیں اور جب محسوس ہوتا ہے کہ سب مارے جائیں گے، تب نامعلوم سمت سے چند تیر آتے ہیں اور کئی دشمنوں کا صفایا ہو جاتا ہے اور ہمیں ایک سمت سے گھڑ سوار دستہ آتا نظر آتا ہے جس کے ہاتھوں میں عثمانی پرچم ہوتے ہیں۔

یہاں دکھایا جاتا ہے کہ عروج اور خضر اس مہم کے حوالے سے آپس میں منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس میں عروج بتاتا ہے کہ عثمانی بحریہ کے براق رئیس قیرپہ جزیرے کے قریب ہی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، ان کو اطلاع کر دی گئی ہے اور مدد طلب کی گئی ہے، امید ہے کہ وہ مدد کریں گے۔

اتنی بڑی کمک ملنے کے بعد عروج کے ساتھی ایک زبردست حملہ کرتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں رومی لشکر کا تقریباً خاتمہ ہو جاتا ہے۔ شکست قریب دیکھتے ہوئے پیٹرو کتاب اور ابو محمد کو لے کر فرار ہو جاتا ہے لیکن خضر انہیں بھاگتے ہوئے دیکھ لیتا ہے اور پیچھا کرتے ہوئے ان کے جہاز تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں دوبدو مقابلے میں خضر پیٹرو کی شمشیر زنی کی تمام تر مہارت کی قلعی کھول دیتا ہے اور بالآخر اس کا خاتمہ کردیتا ہے۔

اُدھر عروج رادکو کو اپنے انجام تک پہنچاتا ہے۔ آخر میں خضر کتاب اور ابو محمد کے ساتھ قیرپہ جزیرے پر واپس پہنچ جاتا ہے جہاں وہ براق رئیس کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور قسط اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔

یہ باربروس کے اِس سیزن کی پہلی قسط ہے، جس کا اختتام کسی سنسنی خیز مرحلے کے بجائے خوش کن لمحات کے ساتھ ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کہانی میں اتنی تیزی سے ہونے والی پیش رفت کے بعد اب اگلی قسط سے اسے کون سا رخ دیا جائے گا۔

تبصرے
Loading...