باربروس: بحیرۂ روم کی تلوار، ایک تاریخی ڈراما، قسط 9

0 41

‏’باربروس: بحیرۂ روم کی تلوار’ ترکی کی ایک نئی ٹیلی وژن سیریز ہے جو 16 ویں صدی کے چار مشہور بھائیوں خضر، عروج، الیاس اور اسحاق کی داستان بیان کرتی ہے کہ جن کی بہادری اور شجاعت نے صدیوں تک بحیرۂ روم میں سلطنتِ عثمانیہ کی دھاک بٹھائے رکھی۔

آٹھویں قسط کی طرح ڈرامے کی نویں قسط میں بھی کہانی بہت تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی نظر آئی ہے۔ نویں قسط سے کئی نئے کردار ڈرامے میں داخل ہوئے ہیں اور کئی کرداروں کا خاتمہ بھی ہوا ہے۔ مثلاً اس قسط سے دو نئے ولن بھی سیریز میں داخل ہو گئے ہیں مثلاً اسکندریہ کے نئے مملوک امیر قرا بے کی آمد ہوئی ہے جبکہ قلیچ بے کا ایک اور بیٹا اور شاہین بے کا بھائی شہباز بھی ڈرامے میں نیا رنگ لایا ہے۔ اس قسط کے اختتام پر ہمیں غالباً اصلی ایستر کی آمد بھی نظر آتی ہے، جس کی تصدیق بہرحال اگلی قسط ہی میں ہوگی۔ اس کے علاوہ عروج کی بیوی دسپینا کی موت کے ساتھ اس کا کردار بھی نویں قسط ہی میں اختتام کو پہنچ گیا ہے اور غالباً ایسا لگتا ہے کہ زینب کی داستان بھی تمام ہوئی ہے لیکن فی الحال یہ محض ایک اندازہ ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ کہانی میں دوبارہ داخل ہو جائے۔ ڈرامے میں ایک نیا موڑ شہباز کا اپنے والد یعنی قلیچ بے کو زہر دے کر قتل کرنا بھی ہے۔

یوں ہمیں پچھلی دو اقساط میں کافی کردار ختم ہوتے نظر آئے ہیں اور لگتا ہے ڈرامے کی کہانی میں اب بہت تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، جو ایک خوش آئند بات ہے اور یقیناً ناظرین کی دلچسپی بھی اس سے بڑھے گی۔


بہرحال، نویں قسط کا آغاز اسکندریہ کی بندرگاہ پر ہوتا ہے جہاں عروج اور براق رئیس اپنی کامیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندیوں پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔ یہیں پر ابو محمد کو خیرہ بے کے حوالے بھی کیا جاتا ہے، لیکن یہاں پر اچانک ایک نئے کردار کا داخلہ ہوتا ہے، مملوک سلطنت کی طرف سے اسکندریہ کا امیر قرا بے!

یہ ایک بد مزاج اور سخت گیر امیر ہوتا ہے جو عروج اور براق رئیس کو اسکندریہ میں داخل ہونے سے روک دیتا ہے اور براق رئیس سے کہتا ہے کہ آپ کی اسکندریہ میں یوں آزادانہ طور پر داخل ہونے کی ہمت کیسے ہوئی؟ یہ عثمانی سرزمین نہیں، ایک مملوک علاقہ ہے، اس لیے یہاں سے فوراً چلے جائیں۔

سخت جملوں کے تبادلوں کے بعد دونوں لشکر ایک دوسرے پر ہتھیار تان لیتے ہیں، جبکہ براق رئیس کہتا ہے کہ ہم سے بات کرنے کے لیے قرا بے کو اپنے گھوڑے سے نیچے اتر کر برابری کی سطح پر بات کرنا ہوگی۔ صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے قرا بے بالآخر گھوڑے سے اتر آتا ہے لیکن پھر وہی مطالبہ دہراتا ہے کہ اسکندریہ سے نکل جائیں، جس پر براق کہتا ہے کہ رئیس عثمانی اور مملوک ریاستوں کے مابین معاہدے کے تحت ہم یہاں قیام کریں گے۔

دال نہ گلنے پر قرا بے عروج کا رخ کر کے کہتا ہے کہ آپ اسکندریہ میں ہی رہتے ہیں، اپنی روزی روٹی یہیں سے کماتے ہیں لیکن ساتھ عثمانیوں کا دیتے ہیں؟ کیا عثمانی یوں نمک حرامی بھی سکھاتے ہیں؟

اس پر عروج قرا بے کو کرارا جواب دیتا ہے کہ آپ نے تو مشکل وقت میں ہمیں جہاز تک نہیں دیا، لیکن عثمانی کڑی صورت حال میں ہماری مدد کو آئے۔

قرا بے دونوں کو دھمکاتے ہوئے وہاں سے چلا جاتا ہے اور یوں نئے کردار کا سازشی ذہن بڑی حد تک ظاہر ہو جاتا ہے۔

بندرگاہ ہی پر عروج کو دسپینا کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع ملتے ہی ہے اور گھر پہنچ کر اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی متوقع اولاد اب نہیں رہی۔ دسپینا بتاتی ہے کہ وہ اپنا سب کچھ کھو چکی ہے، بچہ بھی اور باپ بھی۔ وہ عروج کو بتاتی ہے کہ یورگو کو اسحاق آغا سے قتل کیا۔ میں اس پر بات کرنے کے لیے ایزابیل کے پاس گئی تھی، لیکن وہ مجھ سے لڑ پڑی اور مجھے سیڑھیوں سے نیچے گرا دیا، جس سے میرا بچہ ضائع ہو گیا۔


اُدھر سرائے میں سلویو عروج اور عثمانیوں کے اتحاد اور قیرپہ میں بھیانک شکست پر سخت غصے میں دکھائی دیتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ قصور وار پیٹرو بھی ہے، میں نے اسے منع کیا تھا کہ اونیتا کے جنگی جہاز نہ لے جائے۔ یہاں اونیتا کا نمائندہ کہتا ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ اب لازماً کلیمنوس کی طرف قدم بڑھائے گی اور اسے فتح کرنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہوں گی، اس لیے ہمیں کلیمنوس کی دفاعی طاقت بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔


یہاں کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے کیونکہ اگلے منظر میں دکھایا جاتا ہے کہ خضر کے وار سے سمندر میں گرنے کے بعد پیٹرو دراصل مرا نہیں تھا۔ اسے ایک کشتی پر زخمی حالت میں دکھایا جاتا ہے، جو بحری قزاقوں کا جہاز ہوتا ہے۔ جب پیٹرو انہیں بتاتا ہے کہ وہ کلیمنوس کے قلعے کا کمانڈر ہے تو وہ اس کی باتیں مذاق میں اڑا دیتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ تمہیں اسکندریہ میں غلاموں کے بازار میں بیچ دیں گے۔


عروج اسحاق آغا سے پوچھتا ہے کہ یورگو کو آپ نے مارا ہے؟ جس پر وہ جواب دیتے ہیں کہ میں نے اپنا انتقام لیا ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ البتہ وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات میں عروج کے بچے کی جان چلی گئی۔ عروج غم کی کیفیت کے باوجود اسحاق آغا سے یہی کہتا ہے کہ آپ کا اس میں کوئی قصور نہیں، تقدیرِ الٰہی یہی تھی۔

یہاں خضر عروج سے کہتا ہے کہ اس وقت مملوک ہم سے کافی ناراض دکھائی دیتے ہیں اور انہیں اگر پتہ چلا کہ ہمارے ایک بھائی نے اس طرح قتل کیا ہے تو وہ نقصان پہنچانے کے لیے کچھ بھی کر گزریں گے۔ جس پر عروج کہتا ہے کہ یورگو کا قتل اب راز ہی رہنا چاہیے۔

لیکن یہ زیادہ دیر تک راز نہیں رہتا کیونکہ جعفر راستے میں آسیہ کو پکڑ کر کہتا ہے کہ میں نے عروج کے بارے میں معلومات دینے کے لیے تمہیں سونا دیا تھا لیکن تم نے بتایا کچھ نہیں۔ وہ جان چھڑانا چاہتی ہے لیکن جعفر اس پر خنجر تان لیتا ہے اور دسپینا اور ایزابیل کی لڑائی اور اس کی وجہ کے بارے میں پوچھتا ہے، جس پر بالآخر آسیہ اسے بتا دیتی ہے دسپینا کے باپ کا قتل ہوا اور وہ سمجھتی ہے کہ اسحاق آغا کو یورگو کی موجودگی کے بارے میں ایزابیل نے بتایا ہو۔ جعفر یہ سن کر حیران رہ جاتا ہے اور اس کی آنکھوں میں ایک نئی سازش چمکنے لگتی ہے۔ وہ زیر لب کہتا ہے کہ تو عروج کا بڑا بھائی اسحاق ایک قاتل ہے؟ یہ معلومات تو واقعی سونے میں تولنے کے قابل ہے۔


اُدھر بحری قزاقوں کے جہاز پر پیٹرو کسی طرح اپنے ہاتھ کھول کر ایک محافظ کو ٹھکانے لگا دیتا ہے اور جہاز کے عرشے پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ کپتان کارلوس قزاق کو بھی مار دیتا ہے۔ پھر اعلان کرتا ہے کہ یہ جہاز اب میرا ہے اور اسے کلیمنوس لے جایا جائے۔ اگر اس منظر کو اس قسط بلکہ پورے سیزن کا سب سے ہلکا منظر کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ انتہائی بے جان سا منظر تھا، پیٹرو جیسے ولن کی واپسی کا منظر کہیں زیادہ جاندار ہونا چاہیے تھا۔


بہرحال، عروج ایک اہم معلومات کے حصول کے لیے ایزابیل سے ملتا ہے، جہاں سب سے پہلے تو ایزابیل دسپینا والے معاملے پر اپنی وضاحت پیش کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ غلطی سے مجھے اپنے باپ کے قتل کا ذمہ دار سمجھ رہی ہے۔ اس نے میرا گلا دبا کر مجھے مارنے کی کوشش کی، جس کے دوران وہ سیڑھیوں سے گر گئی اور یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ عروج اسے بھی یہی کہتا ہے کہ تقدیرِ الٰہی یہی تھی۔

بہرحال، ایزابیل اسے ایک خفیہ خط کے بارے میں بتاتی ہے جو اونیتا کی جانب سے اس کے باپ کے پاس آیا ہے۔ وہ اس کی نقل عروج کو کے حوالے کرتی ہے جو اسے ڈی کوڈ کرنے کے لیے خضر کا رخ کرتا ہے۔


خضر کتاب لے کر درویش بابا سے ملتا ہے اور انہیں کتاب دکھاتا ہے لیکن اس دوران انکشاف ہوتا ہے کہ کتاب میں چند صفحات موجود نہیں ہیں اور غور کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ کتاب کے کچھ صفحے پھاڑے جا چکے ہیں۔ وہ سخت غصے میں آ جاتا ہے لیکن درویش بابا کہتے ہیں کہ اگر کتاب کی چابی یعنی وہ لڑکی مل گئی تو یہ معاملہ حل ہو سکتا ہے۔


اُدھر پیٹرو کلیمنوس پہنچ جاتا ہے لیکن اسے قلعے میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی قزاقوں پر تلواریں تان لی جاتی ہیں۔ جب اس کے کہنے کے باوجود تلواریں نیچے نہیں ہوتیں تو وہ غصے کے عالم میں ایک سپاہی کو گھونسا مارتے ہوئے کہتا ہے کہ میرا حکم نہ ماننے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟ یہاں انتوان آ جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کیونکہ اس قلعے میں اب تمہارا حکم نہیں چلتا۔ پیٹرو کہتا ہے میں مرا تو نہیں ہوں جو میرا حکم نہیں چلے گا؟ جس پر انتوان کہتا ہے کہ جسمانی طور پر تو تم ٹھیک ہی ہو گے، لیکن تمہاری ساکھ وہاں سمندر کی گہرائیوں میں پڑی ہے۔ اس لیے اس قلعے میں نئے کمانڈر کے احکامات لاگو ہوتے ہیں۔

کچھ دیر بعد پیٹرو کو پتہ چلتا ہے کہ قلعے کا نیا کمانڈر دراصل ڈیاگو ہے۔ وہ پہلے تو حیران رہ جاتا ہے لیکن پھر خوش ہو کر کہتا ہے کہ شکر ہے تم بنے، اب میں اپنا عہدہ اور تاج تو واپس لے لوں گا۔ لیکن ڈیاگو کہتا ہے اب یہ تاج، تخت اور قلعہ تمہارے نہیں رہے۔ تم جنگ ہار گئے، کتاب تمہارے ہاتھ سے نکل گئی، اونیتا کے جہاز تم نے کھو دیے، اس لیے پوپ اور اونیتا نے تم پر سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ میں نے اس قلعے کی کمان اس لیے سنبھالی تاکہ تمہیں ان کے غضب سے بچاؤں۔

لیکن پیٹرو غصے سے بے قابو ہو جاتا ہے اور کہتا ہے تم نے تو بروٹس والا کردار ادا کیا ہے لیکن اسے سمجھاتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ میں نے کتاب میں سے کچھ صفحے پھاڑ لیے تھے تاکہ مل جانے پر بھی خضر کتاب کو حل نہ کر پائے۔ میں تم سے زیادہ سمجھداری سے سوچتا ہوں، اس لیے تخت پر ہوں اور میری یہ ذہانت ہی تمہیں مرنے سے بچائے گی۔ عثمانی کلیمنوس کو فتح کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں، اونیتا ان کے خلاف دفاع کرنے کے لیے ہمیں سرمایہ دے گا، تم میرے ساتھ رہو گے تو میں تمہاری حفاظت کر سکوں گا اور ہم مسلمانوں کو بحیرۂ روم سے نکال پائیں گے اور عروج اور خضر سے اپنا بدلہ لے سکیں گے۔

لیکن ان تمام باتوں کا پیٹرو پر کوئی اثر نہیں ہوتا، وہ کہتا ہے کہ میں غداروں کے ماتحت کام نہیں کر سکتا اور اپنے تمام دشمنوں سے تنہا بدلے لوں گا۔ وہ ڈیاگو کو کہتا ہے کہ قیصرِ روم کو چھرا گھونپنے کے بعد بروٹس ملعون ہو گیا تھا، تم بھی بروٹس ہو، اس لیے تم پر بھی لعنت نازل ہوگی۔ یہ کہہ کر وہ قلعے سے نکل جاتا ہے۔


ادھر اسکندریہ میں قرا بے کہتا ہے کہ میں سرِعام تذلیل پر عروج اور براق رئیس سے پورا بدلہ لوں گا اور خیرہ بے کو بھی کہتا ہے کہ وہ عروج کے قریب بھی نظر نہ آئے۔ یہاں جعفر قرا بے کے پاس پہنچ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں عروج کے بارے میں معلومات لے کر آیا ہوں، ایسی خبر جس کے ذریعے آپ اپنی تذلیل کی بھاری قیمت لے سکیں گے۔ وہ اسحاق آغا اوریورگو کا پورا معاملہ اس کے گوش گزار کرتا ہے اور کچھ ہی دیر بعد مملوک سپاہی اسحاق آغا اور الیاس کو گرفتار کر لیتے ہیں۔

عروج خفیہ زبان میں لکھا گیا خط لے کر خضر کے پاس پہنچتا ہے جو اسے ڈی کوڈ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور بتاتا ہے کہ اونیتا دریائے نیل کے علاقے سے بڑی تعداد میں سونا نکال کر لے جا رہا ہے اور وہ اسے مسالوں کے ڈبوں میں لے کر اسکندریہ کے ساحل پر پہنچیں گے، جہاں سے اسے خفیہ طور پر کلیمنوس پہنچایا جائے گا۔ عروج سمجھ جاتا ہے کہ وہ حبشہ میں موجود سونے کی کانوں سے دریائے نیل کے ذریعے اسکندریہ تاکہ جائیں گے اور یوں ہماری سرزمین سے چرائے گئے سونے سے ہی ہمیں مارنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

البتہ خط سے انہیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس جہاز سے کب اور کیسے جائیں گے۔ بہرحال، وہ دستیاب معلومات کے ساتھ براق رئیس کا رخ کرتے ہیں۔ راستے میں ان کی ملاقات درویش بابا سے ہوتی ہے جو بتاتے ہیں کہ ہم جس لڑکی کی تلاش میں ہیں وہ سیاہ جزیرے پر ہے۔ ابھی ان کی باتیں جاری ہی ہوتی ہیں کہ مملوک سپاہی پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امیر قرا بے نے آپ کو بلایا ہے۔ کچھ مزاحمت کے بعد بالآخر عروج اور خضر ان کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔

اب چاروں بھائی قرا بے کے پاس موجود ہوتے ہیں، جو کہتا ہے کہ اسحاق اسکندریہ میں قتل کرنے آیا تھا اور تم نے اس کی مدد کی۔ یہ پورا معاملہ تم بھائیوں کو گرفتار کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ مملوک سرزمین ہے، عثمانی علاقہ نہیں کہ جو چاہے کرتے پھرو۔

بعد میں قرا بے خضر اور عروج سے تنہائی میں ملتا ہے، جہاں عروج کہتا ہے کہ ہم اس وقت ایک اہم معاملہ حل کر رہے ہیں جس کا تعلق نہ صرف مملوکوں بلکہ تمام مسلمانوں سے ہے۔ اس لیے ہمیں جانے دیا جائے تو بہتر ہوگا جس پر قرا بے کہتا ہے کہ میں بہادروں کی قدر کرتا ہوں اور تمہیں چھوڑ سکتا ہوں لیکن اگر تم میری شرطوں پر چلو اور میرے ساتھ کام کرو۔ میں تمہیں سب کچھ دوں گا۔

اس پر خضر کہتا ہے کہ آپ ہمیں بہادر بھی کہتے ہیں اور پھر ہمیں خریدنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ کیا واقعی بہادری خریدی جا سکتی ہے؟

جس پر قرا بے کہتا ہے کہ میں تمہیں مال و دولت دے رہا ہوں، عثمانی تمہیں کیا دے سکتے ہیں؟

جس پر عروج قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیتا ہے کہ آپ ہمیں مال نہیں دے رہے بلکہ دراصل دھمکا کر ہمارے گلے میں پٹا ڈالنا چاہتے ہیں اور ہم ان میں سے نہیں ہیں جو اپنی گردنیں یوں پیش کریں۔ عثمانیوں نے ہمارا اس طرح ساتھ دیا، جیسا آپ نے نہیں دیا۔ ان کی یہ بہادری ہی ہمارے لیے کافی ہے۔

اس پر قرا بے اپنے سپاہیوں کو کہتا ہے کہ انہیں زندان میں لے جاؤ۔ یوں تمام بھائی گرفتار ہو جاتے ہیں۔ قید خانے میں درویش بابا ان سے ملنے کے لیے آتے ہیں اور انہیں صبر کی تلقین کرتے ہیں۔


جعفر سلویو کو بتاتا ہے کہ اس نے عروج اور تمام بھائیوں کو گرفتار کروا لیا ہے اور یوں اپنی انگلی کاٹنے کا بدلہ لے لیا ہے۔ سلویو تو یہ خبر سن کر خوش ہو جاتا ہے لیکن ایزابیل کو سخت پریشان دکھایا جاتا ہے۔


امیر قرا بے کے دربار میں تمام بھائیوں کی ایک اور پیشی ہوتی ہے جس میں وہ یہی کہتے ہیں کہ قاضی کو بلا کر ہمارا فیصلہ کروایا جائے، ہم اپنا دفاع کریں گے۔ لیکن قرا بے کہتے ہیں کہ تمہاری قسمت کا فیصلہ میں خود کروں گا۔ اسحاق آغا کہتے ہیں کہ قتل کا الزام صرف مجھ پر ہے، اس لیے مجھے گرفتار کر کے میرے بھائیوں کو چھوڑا جائے لیکن قرا بے ایسے کسی مطالبے پر کان نہیں دھرتا۔

ان کے درمیان ابھی بات چل ہی رہی ہوتی ہے کہ براق رئیس اپنے سپاہیوں کے ساتھ آ جاتا ہے اور اسی دبنگ لہجے میں قرا بے سے کہتا ہے کہ تم لوگوں کو بغیر ثبوت کے گرفتار کر کے ان کے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہو؟ اور قرا بے اسی لہجے میں اسے جواب دیتا ہے کہ کسی کی شکایت آنا ہی کافی ہے۔ یہ مملوک سرزمین ہے، اس لیے یہاں سے نکل جاؤ ورنہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

براق رئیس کہتا ہے کہ یہ سراسر غنڈہ گردی ہے اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ نہ ہی تم اور نہ مملوک ریاست ان بھائیوں کو ہاتھ لگا سکتی ہے؟ کیونکہ اسحاق آغا مدلّی کے سنجق سردار ہیں، اگر بغیر ثبوت کے ان پر اور ان کے بھائیوں پر الزام لگایا تو عثمانی مد مقابل آ جائیں گے۔ ایسا کرنے کی ہمت ہے تم میں؟

یہ سنتے ہی قرا بے کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں، لیکن وہ کہتا ہے کہ کیونکہ یہ عثمانیوں کے حمایت یافتہ ہیں، اس لیے فوری طور پر اسکندریہ سے نکل جائیں۔

براق رئیس جواب دیتا ہے کہ تم انہیں اسکندریہ سے نکالنے کا اختیار بھی نہیں رکھتے کیونکہ عروج اسکندریہ میں عثمانی سفیر ہے۔ اگر ہمارے سفیر کو نکالا گیا تو اس کا مطلب سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف اعلانِ جنگ ہوگا، اگر ہمت ہے تو یہ اعلان کر کے دکھاؤ۔

قرا بے کہتا ہے کہ آپ نے یہ سب کچھ انہیں بچانے کے لیے کیا ہے، اس لیے فی الحال تو جیت گئے لیکن یہ کھیل ابھی ختم نہیں ہوا۔ وقت آئے گا، تم لوگ اپنے کیے پر پچھتاؤ گے۔


رہائی کے بعد عروج براق رئیس کا شکریہ ادا کرتا ہے، جو انہیں بتاتا ہے کہ کلیمنوس کی فتح میں مدلّی کا کردار بہت اہم ہوگا لیکن وہاں ایک کمزور سردار موجود تھا۔ اس لیے یعقوب آغا کے بیٹے سے بہتر انتخاب کس کا ہوگا؟ اسکندریہ بھی مدلّی کی طرح اہم مقام ہے اس لیے ان دونوں کے مابین بہتر تعاون کے لیے یہاں بہتر سفیر کی بھی ضرورت تھی۔ عروج اس ذمہ داری سے سبکدوشی چاہتا ہے لیکن براق رئیس کہتا ہے کہ یہ عارضی ہے اور آپ جو کام کر رہے ہیں اس کے لیے کسی ریاست کی پشت پناہی ضروری ہے ورنہ جو آج ہوا ہے، وہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔

اب خضر اور نیکو سیاہ جزیرے پر جبکہ اسحاق آغا مدلّی جانے کی تیاری کرتے ہیں جبکہ عروج اپنے ساتھیوں کو کہتا ہے کہ وہ سونے کی مصر سے کلیمنوس منتقلی کی سازش کا پتہ چلائیں۔

خضر اور نیکو کے ساتھ کوئی ملاح جانے کو سیاہ جزیرے پر جانے کو تیار نہیں ہوتا، بلکہ وہ ان کی بڑی سے بڑی پیشکش بھی ٹھکرا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں جو جاتا ہے، مارا جاتا ہے۔ بندرگاہ پر اونیتا کا ایک جاسوس بھی خضر کے پیچھے دکھایا جاتا ہے۔


ادھر شاہین بے عروج کے سفیر بننے پر اپنے باپ قلیچ بے سے سخت ناراض ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کوشش کر کے مجھے ہی سفیر لگوا دیتے ہیں۔ میں نے بھی عروج کی طرح کافروں سے جنگی لڑی ہیں، انہیں مارا ہے، لیکن صرف اس لیے سفیر نہیں بن سکا کیونکہ میرا باپ میرے ساتھ نہیں تھا۔ اس زبان درازی پر قلیچ بے شاہین کو زور دار تھپڑ مارتے ہیں اور کہتے ہیں شکر کرو میرے بیٹو ہو، ورنہ تمہاری زبان کھینچ لیتا۔


براق رئیس وہ پرچم اسحاق آغا کے حوالے کرتے ہیں جو سلطان محمد فاتح کی جانب سے اُن کے والد یعقوب آغا کو دیا گیا تھا لیکن اب مدلّی کے سنجق سردار کے طور پر اُن کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ یہاں عروج کو بھی سفیر کا پروانہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسحاق آغا براق رئیس کے ساتھ ہی مدلّی کے لیے نکل جاتے ہیں۔ یوں فی الحال ہمیں اسحاق آغا کا کردار بھی محدود ہوتا نظر آ رہا ہے۔


اگلے منظر میں پیٹرو ایک خفیہ مقام پر دکھایا جاتا ہے جہاں اسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اونیتا کے سرداروں کے ایک اجلاس میں لایا جاتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی شکست اور اونیتا کے نقصان پر معافی مانگے، لیکن وہ انکار کر دیتا ہے اور ایک جذباتی تقریر میں اپنی قربانیاں یاد دلاتا ہے اور انتقام کے لیے دوسرے موقع کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہاں اسے بتایا جاتا ہے کہ عروج اسکندریہ میں عثمانی سفیر بن چکا ہے اور اسحاق آغا مدلّی میں سنجق سردار، اب ان کا اگلا ہدف کلیمنوس ہوگا۔

یہاں پیٹرو کہتا ہے کہ اب آپ کو کلیمنوس کا دفاع مضبوط کرنا ہوگا اور مجھے معلوم ہے کہ اس کے لیے آپ خفیہ سونا وہاں لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا، اس لیے مجھے سونپا جائے۔

کافی بحث کے بعد بالآخر دریائے نیل سے کلیمنوس سونا پہنچانے کی ذمہ داری اسے سونپ دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس مشن کی کامیابی پر اسے ایک مرتبہ پھر اونیتا کے سرداروں میں شامل کر لیا جائے گا اور ناکامی کی صورت میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔


سیاہ جزیرے کے بارے میں خضر عروج کو آگاہ کرتا ہے جو کہتا ہے کہ وہ بہت خطروں سے گھرا ہوا ہے، اس لیے وہ وہاں کسی مہم جوئی کی حمایت نہیں کرے گا۔ خضر کہتا ہے کہ کتاب کا حل جس لڑکی کے پاس ہے، وہ وہیں ہے اور یہی ہمارا واحد موقع ہے۔ گو کہ درویش بابا نے صرف امکان ظاہر کیا تھا لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔


اگلے منظر میں امیر قرا بے کو یتیم خانے کا دورہ کرتے دکھایا جاتا ہے جہاں وہ کہتا ہے کہ یہ بہت بڑی جگہ ہے، جسے بہتر مقاصد کے لیے استعمال میں لایا جائے گا، اس لیے یتیم خانہ بند کر کے بچوں کو قاہرہ بھیج دیا جائے گا۔ زینب کو قاہرہ کے یتیم خانے میں ملازمت کی پیشکش بھی کی جاتی ہے۔ جو پریشان ہو جاتی ہے کہ اب وہ کہاں جائے، اسکندریہ میں ہی رہے یا قاہرہ چلی جائے۔


پیٹرو اسکندریہ پہنچ جاتا ہے جہاں سرائے میں داخل ہونے کی کوشش پر اسے محافظ روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سلویو کا حکم ہے کہ تم اونیتا کے غدار ہو، اس لیے تمہیں دیکھتے ہی مار دیا جائے۔ اس پر پیٹرو تمام محافظوں کو ٹھکانے لگا دیتا ہے اور پھر سلویو کو کمرے میں داخل ہو کر اس کی گردن دبوچ لیتا ہے۔ موت کو سامنے دیکھ کر سلویو منمنانے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے کہنے سے پہلے اونیتا آپ کو مارنے کا حکم دے چکا تھا، میں نے تو صرف ان کے حکم کی تعمیل کی تھی۔ پیٹرو یہاں سلویو سے خوب التجائیں اور منتیں کرواتا ہے اور بالآخر اسے چھوڑ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اب وہ سب سے انتقام لے گا، عروج سے بھی۔ سلویو بتاتا ہے کہ عروج سے نمٹنا اب مشکل ہے کیونکہ وہ عثمانی سفیر بن چکا ہے، جس پر پیٹرو کہتا ہے اس کے لیے تو میں نے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے، جو عروج کے لیے اسکندریہ کو جہنم بنا دے گا۔


یہاں منظر بدلتا ہے اور ایک طعام گاہ پر چند لوگ شاہین کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں، جس پر وہ بھنّا جاتا ہے اور سب کی خوب مار لگاتا ہے۔ یہاں ایک شخص اسے چھرا گھونپنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ایک نقاب پوش شاہین کی جان بچا لیتا ہے۔ بعد میں شاہین اس کا شکریہ ادا کرتا ہے اور جب وہ اپنا نقاب اتارتا ہے تو شہباز کہہ کر اس کے گلے لگ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے سنا ہے اسکندریہ میں آج کل کتوں کا راج ہے اور ہمارے بابا بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور وہ مل کر آپ کو تنگ کر رہے ہیں؟ شاہین کہتا ہے، تم نے ٹھیک ہی سنا ہے، جس پر شہباز کہتا ہے تو ہم مل کر سب سے بدلے لیں گے۔


خضر اور عروج ایک مرتبہ پھر قلیچ بے کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور انہیں سیاہ جزیرے کے بارے میں بتاتے ہیں۔ قلیچ بے کہتے ہیں کہ وہاں تو بہت خطرہ ہے، کوئی ملاح تمہارے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہوگا۔ خضر کہتا ہے کہ ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ وہاں موت کا خدشہ ہے لیکن اگر ہم نہیں گئے تو بہت سے معصوم کا خون بہے گا، اس لیے ہمیں ایک جہاز دے دیں۔

ابھی ان کی یہ گفتگو جاری ہی ہوتی ہے کہ شاہین اور شہباز کمرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہاں عروج اور خضر پر انکشاف ہوتا ہے کہ قلیچ بے کا ایک اور بیٹا بھی ہے، جس کی حرکتوں سے وہ تنگ ہیں۔ شہباز کو یہاں عروج کے ساتھ بھی بدتمیزی سے بات کرتے دکھایا جاتا ہے۔

عروج کے چلے جانے کے بعد شہباز اپنے باپ سے لڑتے دکھایا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں یہاں اس لیے آیا ہوں تاکہ ہم مل کر کام کریں، ایک خاندان کی طرح۔

لیکن درحقیقت وہ پیٹرو کے کارندے کے طور پر اسکندریہ واپس آتا ہے، دونوں ملتے بھی ہیں اور عروج کے خاندان کو برباد کرنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ یہاں سلویو انہیں بتاتا ہے کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ قلیچ بے ایک جہاز تیار کر رہے ہیں، جس پر خضر ایک مہم پر جائے گا۔ پیٹرو کہتا ہے خضر ضرور کتاب کےپیچھے ہوگا، اس لیے وہ جہاں بھی جا رہا ہے، اسے روکنا ضروری ہے۔


الیاس عروج کو سونا لے جانے والے جہازوں کے جانے کی جگہ اور وقت کے بارے میں بتاتا ہے۔ عروج سب کو تیاری کا حکم دیتا ہے کہ وہ صبح یہ سونا اپنی تحویل میں لے لیں گے۔


اُدھر سلویو پیٹرو کو اگلی صبح کے منصوبے سے آگاہ کرتا ہے کہ وہ سونا لادنے کے لیے شمالی بندرگاہ کا استعمال کریں گے، جس پر پیٹرو کہتا ہے کہ ہم دوسری بندرگاہ کا رخ کریں گے بلکہ میں شمال میں انتظار کروں گا، عروج وہیں آئے گا اور میں اسے مار کر اپنا بدلہ لے لوں گا۔


قلیچ بے جو جہاز خضر کے حوالے کرتے ہیں، اس کا کپتان قلیچ بے کے پاس آتا ہے اور اس سفر کی ہولناکیوں کی وجہ سے پریشان دکھائی دیتا ہے۔ قلیچ بے کہتے ہیں کہ جہاز بھی میرا ہے اور تم بھی میری اولاد کی طرح ہو، اس لیے میرا حکم ہے کہ اس سفر پر جاؤ۔ یہاں شہباز کمرے میں داخل ہو کر اپنے باپ سے سخت بحث کرتا ہے اور دھمکیاں دیتے ہوئے نکل جاتا ہے کہ اگر خضر اس جہاز پر گیا تو وہ اگلی بار اس طرح نہیں آئے گا۔


سیاہ جزیرے پر جانے سے پہلے زینب خضر سے ملتی ہے اور اسے بتاتی ہے کہ یتیم خانہ بند ہو چکا ہے اور وہ بچوں کے ساتھ قاہرہ جا رہی ہے۔ خضر اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کہتی ہے کہ اس کے لیے حمزہ اور دوسرے بچوں کے بغیر رہنا مشکل ہوگا۔ یہاں اس کی آنکھوں میں سخت غم اور کرب کا احساس دکھایا جاتا ہے۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ زینب کا کردار اسکندریہ سے نکل جانے کے بعد کچھ محدود ہو جائے گا یا پھر عین ممکن ہے کہ مکمل طور پر ختم ہی ہو جائے، لیکن پہلے سے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

بہرحال، سیاہ جزیرے کی طرف جاتے ہوئے خضر اور نیکو کے جہاز کو ایک طوفان میں پھنسا دکھایا جاتا ہے۔


ادھر پیٹرو کے کارندے عروج اور اس کے ساتھیوں کے خلاف گھات لگائے نظر آتے ہیں لیکن اس کی سوچ کے بالکل برخلاف عروج اور اس کے بیشتر ساتھی جنوبی بندرگاہ کے راستے پر نظر آتے ہیں۔ یہاں فلیش بیک میں دکھایا جاتا ہے کہ عروج اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے اونیتا نے یہ پیغام خفیہ زبان میں بھیجا تھا، اس لیے یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے شمالی بندرگاہ کا ذکر کیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ جنوب سے نکلیں۔ اس لیے کچھ ساتھی شمال کے راستے پر گھات لگائیں گے اور باقی جنوب سے حملہ کریں گے۔

جب شمالی بندرگاہ کے راستے پر عروج کے محض چند ساتھی نظر آتے ہیں تو پیٹرو سمجھ جاتا ہے کہ معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ وہ فوراً جنوب کی طرف بھاگتا ہے کہ جہاں عروج اور ساتھی سونا لے جانے والے قافلے کو گھیر چکے ہوتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں سب محافظوں کا صفایا کر کے سامان اٹھا کر نکل پڑتے ہیں۔ جب پیٹرو اور اس کے کارندے وہاں پہنچتے ہیں تو ان کے ساتھیوں کی لاشیں پڑی ہوتی ہیں۔ جس پر پیٹرو غصے سے پاگل ہو جاتا ہے اور کہتا ہے یہ میرا آخری موقع ہے اور میں اسے ضائع نہیں ہونے دوں گا۔


سیاہ جزیرے پر پہنچنے کے بعد خضر اور نیکو کو ایک بہت گھنے جنگل میں دکھایا جاتا ہے جہاں مختلف مقامات پر جال بچھے ہوتے ہیں۔ وہ بمشکل ان سے بچتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں لیکن اس سے زیادہ خطرے کی بات یہ ہوتی ہے کہ وہ جس جہاز پر آئے تھے وہ انہیں چھوڑنے کے بعد وہاں سے روانہ ہو جاتا ہے۔ یہ شہباز کا خفیہ منصوبہ ہوتا ہے اور جہاز کا کپتان اسی کے حکم پر یہ حرکت کرتا ہے۔


بہرحال، عروج کے ساتھی گھات میں حاصل ہونے والے مال کے ڈبے کھولتے ہیں تو بظاہر لگتا ہے کہ اس میں سونا نہیں بلکہ واقعی مسالے ہی بھرے ہوئے ہیں لیکن عروج ایک چھلنی کے ذریعے چھان کر بتاتا ہے کہ وہ سفوف کی شکل میں سونا لے جا رہے تھے تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے۔


پیٹرو سلویو کے پاس پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ اونیتا کو پتہ چلے، ہمیں عروج سے سونا واپس لینا ہوگا، لیکن اس سے پہلے حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر بات عروج کو کیسے پتہ چل جاتی ہے؟ یہ معلومات تو پہلے سرائے ہی میں آئی تھی تو کیا سرائے میں عروج کا کوئی جاسوس موجود ہے؟ سلویو کہتا ہے کیا آپ میری بیٹی پر شک کر رہے ہیں؟ وہ ایسا کبھی نہیں کرے گی۔ پیٹرو کہتا ہے میں کسی کا نام نہیں لے رہا، لیکن ہمیں شک سب پر کرنا چاہیے۔

پھر وہ شہباز کا رخ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم خضر کو جہاز دینے سے اپنے باپ کو کیوں نہیں روک پائے؟ جھاڑ پڑنے کے بعد شہباز کافی غصے میں آ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب میری بات ماننا پڑے گی، چاہے میرا باپ ہی کیوں نہ ہو۔

یہاں پیٹرو الفیو سے کہتا ہے کہ عروج کی بیوی کو اغوا کر لو، اس کے بدلے میں تمام سونا واپس مل جائے گا۔

شہباز گھر پر اپنے والد سے کہتا ہے کہ آپ نے میرے منع کرنے کے باوجود خضر کو جہاز کیوں دیا؟ اس بدتمیزی پر قلیچ بے اس کو ڈانٹتے ہیں لیکن وہ کہتا ہے کہ جو بھی مجھے جانتا ہے، اس معلوم ہے کہ میری بات نہ ماننے پر کیا ہوتا ہے اور جلد ہی آپ بھی یہ بات جان لیں گے۔

قلیچ بے کہتے ہیں تم مجھے دھمکا رہے ہو؟ یہ کہہ کر وہ اس پر بھی ہاتھ اٹھانے ہی والے ہوتے ہیں کہ کھانسی کا دورہ پڑ جاتا ہے اور کچھ دیر میں وہ سمجھ جاتے ہیں کہ شہباز نے انہیں زہر دے دیا ہے۔ چند لمحوں میں قلیچ بے زمین پر گر جاتے ہیں اور شہباز کہتا ہے اللہ حافظ بابا! خضر بھی کبھی سیاہ جزیرے سے واپس نہیں آ سکے گا۔


جزیرے پر کچھ جنگلی خضر اور اس کے ساتھیوں کو گھیر لیتے ہیں اور وہ بمشکل انہیں ٹھکانے لگاتے ہیں۔ نیکو کہتا ہے اب بھی وقت ہے یہاں سے نکل چلو، اگر کوئی لڑکی یہاں ہوئی بھی تو یہ وحشی اسے کھا چکے ہوں گے، لیکن خضر کہتا ہے کہ یہاں تک آئے ہیں تو اپنی تلاش مکمل کر کے چلیں گے۔


اُدھر سرائے میں عروج ایزابیل سے مل کر اس کا شکریہ ادا کرتا ہے لیکن ایزابیل اسے خبردار کرتی ہے کہ اونیتا سونے کے تعاقب میں ضرور آئے گی۔ ابھی ان کے درمیان گفتگو جاری ہی ہوتی ہے کہ پیٹرو وہاں پہنچ جاتا ہے۔ عروج اسے دیکھ کر کہتا ہے ارے الفانسو؟ تو وہ کہتا ہے الفانسو نہیں پیٹرو، کلیمنوس قلعے کا کمانڈر، جسے تم نے ہرایا تھا۔ یہ کہہ کر وہ عروج کے جسم میں خنجر گھونپ دیتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے ناظرین دم بخود رہ جاتے ہیں کہ یہ اچانک کیا ہوا؟ لیکن پھر دکھایا جاتا ہے کہ دراصل پیٹرو یہ سب سوچ رہا ہوتا ہے، در حقیقت وہ اسی طرح چاپلوسوں کے انداز میں بات کرتا ہے اور دل میں یہی سوچتا ہے کہ پہلے سونے کا راز معلوم کر لوں، پھر عروج کو ماروں گا۔


الفیو اپنے کارندوں کے ساتھ عروج کے گھر پر آتا ہے اور دسپینا کو اغوا کر لیتا ہے۔


اونیتا کا ایک نمائندہ اہم پیغام لے کر سلویو سے ملنے سرائے آتا ہے۔ جب سلویو سرائے میں نہیں ملتا تو ایزابیل کہتی ہے کہ یہ پیغام مجھے دے دیں، میں انہیں پہنچا دوں گی لیکن نمائندہ کہتا ہے کہ میں صرف سلویو ہی کو دوں گا۔ اگلے منظر میں جب وہ سرائے سے باہر نکلتا ہے تو راستے میں نقاب پوش ایزابیل اسے مار کر بے ہوش کر دیتی ہے اور وہ پیغام پڑھ لیتی ہے۔


الیاس اور ایستر گھر پہنچتے ہیں تو انہیں دسپینا کا نام و نشان نہیں ملتا اور گھر میں سب کچھ الٹ پلٹ ہوتا ہے۔ ایک جگہ پر خون کے تازہ قطرے دیکھ کر الیاس سمجھ جاتا ہے کہ کسی نے دسپینا کو اغوا کر لیا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دسپینا کی تلاش میں نکل پڑتا ہے اور جنگل میں انہیں الفیو اور اس کے چند ساتھی ملتے ہیں جنہیں مارنے میں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن الفیو دسپینا کر لے کر بھاگ جاتا ہے۔


سیاہ جزیرے پر بالآخر خضر کو ایک جھونپڑی نظر آتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ بس تلاش یہاں ختم ہوئی۔ لیکن جیسے ہی دروازہ کھلتا ہے اندر ایک عورت تو موجود ہوتی ہے لیکن اس کی گردن پر کوئی خنجر تانے کھڑا ہوتا ہے، یہ انتوان ہوتا ہے جو ڈیاگو کے ساتھ پہلے ہی سے یہاں موجود ہوتا ہے۔ ڈیاگو کہتا ہے کہ ہمیں پتہ تھا تم کتاب کے باقی حصوں کے تعاقب میں ضرور آؤ گے اور تمہاری وجہ سے ہمیں یہ لڑکی بھی مل گئی۔

یہاں خضر اور نیکو مزاحمت کرتے ہیں لیکن دونوں زخمی ہو جاتے ہیں اور پکڑے جاتے ہیں۔ ڈیاگو خضر سے کہتا ہے کہ کتاب کی وجہ سے تمہیں تو زندہ رکھنا ضروری ہے، لیکن نیکو کا رخ کر کے کہتا ہے تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔ ابھی وہ نیکو کو مارنے ہی والا ہوتا ہے کہ کہیں سے ایک اڑتا ہوا خنجر آ کر اس کے ہاتھ پر لگ جاتا ہے اور پھر چند تیر بھی آتے ہیں جس سے اس کے چند ساتھی بھی مارے جاتے ہیں۔ یہاں ایک نیا کردار داخل ہوتا ہے جو غالباً اصلی ایستر ہے۔


اُدھر جنگل میں بالآحر الیاس الفیو کے قریب پہنچ جاتا ہے جو مزید آگے نہیں بھاگ سکتا کیونکہ آگے ایک کھائی ہوتی ہے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے وہ دسپینا کو خنجر کی نوک پر رکھ لیتا ہے۔ الیاس کہتا ہے کہ دسپینا کو چھوڑ دو، ہم تمہیں زندہ جانے دیں گے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا۔ دسپینا اس کے چنگل سے فرار ہونے کی کوشش کرتی ہے لیکن چھینا جھپٹی کے دوران اس کا پیر پھسل جاتا ہے اور وہ کھائی میں گر کر مر جاتی ہے۔


عروج کو ایزابیل کی طرف سے ایک پیغام ملتا ہے کہ اونیتا کے سردار اس خفیہ مقام پر ملیں گے جس کی یہاں نشان دہی کی گئی ہے۔ وہ اس مقام کی طرف نکل پڑتا ہے۔ یہ جنگل میں ایک زیرِ زمین خفیہ مقام ہوتا ہے جس کے اندر عروج کو ایک عقوبت خانے کا دروازہ ملتا ہے، جہاں داخل ہونے کے بعد اسے ایزابیل ملتی ہے جو سخت تشدد سے بے ہوش ہو چکی ہوتی ہے۔ یہیں چند لوگ عروج کو بھی پکڑ لیتے ہیں۔


یوں اس قسط کا انتہائی سنسنی خیز اور افسوس ناک انداز میں اختتام ہوتا ہے۔ خضر اور نیکو کے بعد ایزابیل اور عروج کا بھی زخمی ہو کر پکڑا جانا اور قلیچ بے کے بعد دسپینا کی موت نے کہانی میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ دیکھتے ہیں اگلی قسط میں اس میں کون سا نیا رخ آتا ہے۔

تبصرے
Loading...