پیغمبر اسلامﷺ کی توہین "آزادی اظہار رائے” نہیں ہے، روسی صدر پیوتن

0 3,753

روسی صدر پوتن نے سالانہ گرینڈ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ کی توہین آزادی اظہار نہیں ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پیوٹن نے اپنی سالانہ نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ پیغمبرﷺ کی توہین مذہبی آزادی کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کے جذبات کی خلاف ورزی ہے۔

پیوٹن نے عام طور پر فنکارانہ آزادی کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ ان لوگوں کی اپنی حدود ہیں اور ان کی آزادی کی خلاف ورزی کرنا بھی کسی طور درست نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس ایک کثیر النسلی اور کثیر الاعتقادی ریاست کے طور پر تیار ہوا ہے اور ہم ایک دوسرے کی روایات کا احترام کرنے کے عادی ہیں،مگر کچھ دوسرے ممالک اس چیز کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان پوری دنیا کو باور کراتے رہے ہیں کہ مغربی دنیا کو معلوم ہی نہیں کہ ہم مسلمان نبیﷺ سے کتنا لگاؤ اور محبت رکھتے ہیں،دنیا کو بتانے کے لئے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی ہے جو دنیا کو آگاہ کرے گی کہ توہین پیغمبرﷺ ہمارے لئے کسی صورت بھی قبول نہیں۔

واضح رہے کہ 2018 میں یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق (ای ایچ سی آر) نے کہا تھا کہ پیغمبرِ اسلام ﷺکی توہین آزادیِ اظہار کی جائز حدوں سے تجاوز کرتی ہے اور اس کی وجہ سے تعصب کو ہوا مل سکتی ہے اور اس سے مذہبی امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

یہ فیصلہ عدالت نے پیغمبرِ اسلام ﷺکے بارے میں توہین آمیز کلمات کہنے والی آسٹریا سے تعلق رکھنے والی ای ایس نامی خاتون کے خلاف سزا کے فیصلے کی اپیل پر صادر کیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ ای ایس کے خلاف فیصلہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے.

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق روسی صدر کا یہ بیان یورپی سرحد پر بڑھتی ہوئی چپقلش میں یورپ مخالف پلڑے میں وزن ڈالتے ہوئے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: