کرونا وائرس کی وجہ سے کتابوں کی فروخت میں اضافہ

0 236

کرونا وائرس کی عالم گیر وباء کے پھیلنے کی وجہ سے سماجی تنہائی اختیار کرنے والے افراد وقت گزاری کے لیے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کتابوں کی فروخت بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔

ترکی کے ایک آن لائن بک اسٹور سے وابستہ رائف ایپک کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان حالات کی وجہ سے اس ہفتے کتب کی فروخت میں پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرنطینہ کے اس پورے عمل کے دوران فروخت میں 30 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

23 اپریل کو کتابوں کے عالمی دن پر انہوں نے کہا کہ اِن ایام میں گھر پر کتابیں پڑھنے والے بچے آئندہ زندگی میں اس عادت کو جاری رکھیں گے۔

ایپک نے بتایا کہ زیادہ تر لوگ بڑوں کے لیے بنائی جانے والی رنگ بھرنے کی کتب لے رہے ہیں جبکہ کتابوں کے سیٹ، نفسیات اور فلسفے کی کتب بھی زیادہ فروخت ہو رہی ہیں۔

انہوں نے خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے والے قارئین سے سگمنڈ فرائیڈ، جیک لندن، تریوانین، ہرمن میلویل اور ہوزے ساراماگو پڑھنے کا مطالبہ کیا جبکہ بچوں کے لیے انہوں نے کہا کہ وہ "Momo”، "Forrest Carter” اور "My Sweet Orange Tree” پڑھیں۔ "بدقسمتی سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ترکی میں مطالعے کا رحجان کم ہے۔ لیکن ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ شرح بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اور ان کے اساتذہ مطالعے کو اپنی عادت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

ایپک نے بتایا کہ ان کی 57 فیصد گاہک خواتین ہیں جبکہ 23 فیصد قارئین کی عمریں 18 سے 24 سال کے درمیان ہیں۔ 35 فیصد 25 سے 34 سال کی عمر کے اور 21 فیصد 35 سے 44 سال کی عمر کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آجکل گھروں میں نت نئے پکوان بھی بنائے جا رہے ہیں، اس لیے لگتا تھا کہ کھانے پکانے کی تراکیب کی کتابیں تو ساری فروخت ہو جائیں گی، لیکن یہ تاثر غلط نکلا کیونکہ کھانے پکانے کے لیے آجکل کتابوں کے بجائے یوٹیوب کو بہتر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

تبصرے
Loading...