‘عثمانی نسل’ بورس جانسن برطانیہ کے نئے وزیراعظم بن گئے

0 4,199

یورپی یونین سے علیحدگی کے بریگزٹ پر سخت موقف رکھنے والے، عثمانی وزیرداخلہ علی کمال کی نسل سے تعلق رکھنے والے بورس جانسن برطانیہ کے نئے وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ برطانیہ کے اگلے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے بورس جانسن اور سیکریٹری خارجہ جیرمی ہنٹ مدمقابل تھے جن کا انتخاب کنزرویٹو پارٹی کے 2 لاکھ اراکین نے کیا۔ انہوں نے منتخب ہونے کے بعد بیان میں کہا ہے کہ وہ یورپی یونین کی طرف سے دی گئی تاریخ 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائیں گے۔

بورس جانسن نے اپنے مدمقابل کو دو تہائی برتری کے ساتھ شکست دی۔ انہوں نے 92 ہزار ایک سو 53 جبکہ جیرمی ہنٹ نے 45 ہزار 6 سو 56 ووٹ حاصل کیے۔ بورس جانسن باضابطہ طور پر 24 جولائی کو سابق وزیراعظم تھریسا مے کی جگہ برطانیہ کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے، جو پارلیمنٹ میں بریگزٹ معاہدہ منظور کروانے میں ناکامی پر مستعفیٰ ہوگئی تھیں۔

منتخب ہونے کے بعد انہوں نے کہا کہ ’ ہم ملک کو متحرک کرنے جارہے ہیں، ہم 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدہ (بریگزٹ) ہوجائیں گے اور اس سلسلے میں ہم ایک تمام مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس حیرت انگیز ملک کو متحد کرنے جارہے ہیں اور ہم اسے مزید آگے لے کر جائیں گے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بورس جانسن کو برطانیہ کا 77 واں وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔

 

ترک صدر نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس نئے دور میں ترکی اور برطانیہ کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔

جانسن کا عثمانی النسل ہونا

جانسن کے پردادا علی کمال معروف عثمانی صحافی اور سیاست دان تھے جنہوں نے دامات فیرات پاشا کے دور حکومت میں بطور وزیرداخلہ بھی کام کیا۔ 1921-23 کی مصطفےٰ کمال اتاترک سے اختلاف کرتے ہوئے جنگ آزادی لڑنے سے انکار کر دیا اور خود ساختہ طور پر یورپ میں رہائش اختیار کر لی تھی۔

بورس جانسن 1964 میں پیدا ہوئے اور اپنی تعلیم ایٹون کالج سے حاصل کی جو برطانیہ کی اشرافیہ کلاس کا تعلیمی ادارہ ہے اور کئی وزرائے اعظم پیدا کر چکا ہے جن میں بریگزٹ کے اعلان کرنے والے ڈیوڈ کیمرون بھی شامل ہیں۔ جانسن نے اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی اور 1986 میں آکسفورڈ یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے۔

تبصرے
Loading...