پیٹر ہینڈکے کو ادب کا نوبیل انعام دینے کے خلاف بوسنیائی شہریوں کا احتجاج

0 127

بوسنیا کے دارالحکومت سرائیو میں شہریوں نے 2019ء کا ادب نوبیل انعام آسٹریا کے مصنف پیٹر ہینڈکے کو دینے کے خلاف مظاہرہ کیا اور یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین میں 1992ء سے 1995ء تک جاری رہنے والی جنگِ بوسنیا کے چند متاثرین بھی شامل تھے۔

مظاہرین نے سرائیوو میں واقع سوئیڈش سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے کہ جن پر ہینڈکے کو سربیا کی طاقتور سیاسی شخصیت سلوبدان میلازووِچ اور بوسنیائی سرب جنگجو رہنماؤں رادووان کارازِچ اور راتکو ملادِچ کا ساتھی قرار دیا گیا تھا۔

ان تینوں سابق سرب رہنماؤں پر اقوامِ متحدہ کی جنگی جرائم عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔ میلازووِچ 2006ء میں یہ مقدمہ ختم ہونے سے پہلے ہی مر گئے تھے جبکہ کارازِچ اور ملادِچ کو مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا دی گئی۔

1990ء کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد ہونے والی جنگوں میں سربوں کا بھرپور دفاع کرنے پر 76 سالہ مصنف ہینڈکے کو سخت تنقیدکا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے 2006ء میں میلازووِچ کی آخری رسومات سے خطاب تک کیا تھا۔

تبصرے
Loading...