کوڑے سے پاک مستقبل کا شعور رکھنے والی ایک نئی نسل

0 773

اکتوبر 2017ء میں ترکی میں متعارف کروایا گیا ‘زیرو ویسٹ پروجیکٹ’ کئی سالوں تک مسلسل جاری رہے گا تاکہ یہ عوام کا طرزِ زندگی بن جائے۔ یہ ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دے گا اور اسے مضبوط تر بھی بنائے گا۔

بدقسمتی سے ترکی کے شہر کوڑے اور فضلے کو ری سائیکل کرنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے سے محروم ہیں، جبکہ ان کے برعکس کئی یورپی ممالک میں کوڑے کرکٹ کی چھانٹی کا نظام موجود ہے۔ ترکی میں صرف چند شعبوں میں ہی کوڑے کی چھانٹی کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انفرادی سطح پر عوام اور ساتھ ہی نجی اور سرکاری شعبے کو ری سائیکلنگ کے عمل میں حصہ ڈالنے کے لیے تحریک دینا بہت اہمیت رکھتا ہے۔

گو کہ نجی شعبے کو تحریک دینے والی سب سے اہم چیز منافع ہے، لیکن ان پہلوؤں پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے کہ جو نان-پرافٹ سرکاری شعبوں میں بھی دلچسپی پیدا کرے۔ سراہنا اور انعام دینا بلاشبہ ان اداروں میں شریک ہونے کو تحریک دے گا۔ ورنہ منصوبے کی کامیابی کا دارومدار محض عوام کی ذاتی حساسیت پر ہی رہ جائے گا۔ ایک ایسے ادارے کے لیے جو ‘زیرو ویسٹ پروجیکٹ’ کو کامیابی سے نافذ کرے، اس کے لیے بظاہر معمولی لیکن زیادہ قدرو قیمت رکھنے والے اقدامات ہونے چاہئیں جیسا کہ یادگاری جنگل کا قیام یا درخت کا تحفہ منصوبے نے ان کی وابستگی کے احساس کو بہتر بنا سکتا ہے۔

کئی یورپی ممالک میں ری سائیکلنگ کی شرح 46 فیصد ہے اور ایک گھر جتنا کم کوڑا کرکٹ پیدا کرتا ہے، اسے اتنا ہی کم ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ ترکی میں بھی نجی شعبے کا حصہ ٹیکس کی کمی کے ذریعے ‘زیرو ویسٹ پروجیکٹ’ بڑھایا جا سکتا ہے۔ زیادہ ماحولیاتی شعور رکھنے والی کمپنیوں کو وقتاً فوقتاً اعزازات سے نوازنا بھی اس منصوبے میں دلچسپی کو برقرار رکھتا ہے۔

ایک مؤثر ‘زیرو ویسٹ’ تحریک کے لیے

2019ء تک زیرو ویسٹ پروجیکٹ میں شامل اداروں کی تعداد 18,750 ہے۔ یہ ادارے بلدیات کو وہ کوڑا کرکٹ فراہم کرتے ہیں جسے ابتداء ہی میں چھانٹی کرلیا جاتا ہے اور پھر ایک دستخط شدہ رسید پاتے ہیں کہ جس پر دیے گئے کوڑے کی مقدار درج ہوتی ہے۔ یہ مقدار ویسٹ مینجمنٹ سسٹم میں ڈالی جاتی ہے اور ایک خودکار طریقے سے حساب لگایا جاتا ہے کہ کوڑے کی بدولت کتنے درخت بچے اور اس سے معیشت کو کتنا خام مال میسر آیا؟ البتہ یہ ڈیٹا یہ معلومات فراہم نہیں کرتا کہ کسی ادارے سے حاصل کیا گیا کوڑا عملی میدان میں کہاں اور کیسے استعمال کیا گیا؟

منصوبے کے آغاز پر وزارتِ ماحولیات و شہرکاری ان اداروں کو تربیت فراہم کرتی ہے۔ البتہ بعد میں ابتدائی مراحل پر درپیش مسائل کو حل کرنے اور اپنا کام کرنے والوں کی ستائش منصوبے کو مؤثر بنانے میں اہم ہو سکتی ہے کہ جس کی نگرانی وزارت کرے گی اور معاملات اداروں کے اختیار میں ہوں گے۔

ترکی میں ری سائیکلنگ کی شرح محض 13 فیصد ہے اور اسے ایسے نظام کی ضرورت ہے کہ جو گھر سے ہی ایسا کوڑا جمع کرے جو پہلے سے چھانٹی کیا جا چکا ہو اور یوں وہ یورپی ممالک میں موجود 46 فیصد کی شرح کو چھو سکے۔ جو لوگ کوڑے کو چھانٹی کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں ویسٹ کلیکشن سینٹر سے دُوری کے مسائل کا سامنا ہے یا وہ گاڑی تلاش نہیں کر پاتے تو اس منصوبے کے بارے میں سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں۔ اس مرحلے پر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کئی اداروں میں کوڑا جمع کرنے والی اتنی گاڑیاں اور سسٹم نہیں ہیں۔ ترکی میں بلدیات کم از کم دو صورتوں میں کوڑا جمع کرنے کی تیاریاں کر رہی ہیں، ایک گیلا اور دوسرا خشک کوڑا۔

بیکوز بلدیہ سالوں سے ری سائیکل کر رہی ہے اور کوڑے کی چھانٹی کی سہولیات رکھتی ہے، جس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ری سائیکل کرنے کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے کوڑے کو کم از کم دو حصوں یعنی گیلے اور خشک کوڑے میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔ کاغذ ایک بار گیلا ہو جائے تو اسے دوبارہ خشک کرنا اور ری سائیکل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

اس منظرنامے میں کہ جہاں قدرتی طور پر تحلیل ہونے والا کوڑا الگ سے جمع کیا جاتا ہے، کھانے پینے کی چیزوں کے کوڑے سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس سے بننے والی کھاد ری سائیکل کرنے کے عمل کا ایک دوسرا فائدہ ہے کہ جو زمین کی پیداوار بڑھاتی ہے۔

2013ء میں بیکوز بلدیہ نے گھروں، خریداری کے مراکز اور چھوٹے موٹے بازاروں میں کھانے پینے کی چیزوں کے کوڑے سے کھاد کا منصوبہ شروع کیا تھا جو بتاتا ہے کہ چار افراد پر مشتمل ایک خاندان اوسطاً روزانہ دو کلو ایسا کوڑا پیدا کرتا ہے جو کھانے پینے کی چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ کھاد بنانے کے عمل کے نتیجے میں یہ کوڑا 75 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ اگر ایسے کسی خاندان کا یہ کوڑا ری سائیکل نہ کیا جائے تو یہ سالانہ 680 کلو گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ بنائے گا لیکن کھاد بنانے کے عمل کے نتیجے میں یہ شرح گھٹتے ہوئے صرف 26 کلو گرام رہ جاتی ہے۔ یہ بلدیہ قدرتی طور پر تحلیل ہو جانے والے ایسے کوڑے کو جمع کرنے پر توجہ رکھتی ہے کہ جس سے کوڑے کے ماحولیاتی اثرات کافی حد تک ختم ہوگئے۔

کوڑا اکٹھا کرنے کے ایک زیادہ مؤثر نظام کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ شہریوں کی بڑی تعداد ایسی بھی ہو سکتی ہے جو کوڑے کو کلیکشن پوائنٹ تک پہنچانے کے ذرائع نہیں رکھتی یا جنہیں کوڑے کو چھانٹی کرنے کے بارے میں علم ہی نہ ہو۔ اس لیے ‘زیرو ویسٹ پروجیکٹ’ کے تحت زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرنا چاہیے خاص طور پر ٹیلی وژن چینلوں اور بل بورڈز پر اشتہارات کے ذریعے جبکہ بلدیات کی جانب سے کوڑا اکٹھا کرنے والے رضاکاروں کے لیے سہولیات بھی فراہم کرنی چاہیے۔

منصوبہ پوری رفتار کے ساتھ جاری

زیرو ویسٹ پروجیکٹ کے ساتھ ضروری ہے کہ پارکوں، باغات، ساحلوں، میدانوں اور تفریحی علاقوں میں ویسٹ کلیکشن پوائنٹس بنائے جائیں کہ جہاں لوگ اکثر و بیشتر جاتے رہتے ہیں۔ ان مقامات سے اٹھائے گئے کوڑے سے زیادہ آمدنی ہو سکتی ہے کہ جہاں پلاسٹک کوڑا زیادہ ہوتا ہے جیسا کہ ساحلی مقامات اور تفریحی علاقوں میں۔ اسکول اور یونیورسٹیوں میں کوڑے کے بدلے ٹرانسپورٹ کارڈز میں بیلنس لوڈ کرنے والی وینڈنگ مشینیں لگا کر نوجوانوں کو مالی فائدہ دیا جا سکتا ہے ساتھ ہی ماحولیات کا شعور بھی۔

کوڑے کو ری سائیکل کرنے کا عمل ایک الگ شعبہ بن چکا ہے کہ جو یورپی ممالک میں بڑی تعداد میں نوکریاں پیدا کر رہا ہے اور اس سے آمدنی بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ ترکی مرحلہ وار اس مقام کی جانب جا رہا ہے۔ ری سائیکلنگ کا شعبہ بالآخر زیادہ مختلف اور پیشہ ورانہ صورت اختیار کرے گا۔

یہ امر اہم ہے کہ زیرو ویسٹ پروجیکٹ ملک کو کوڑا کرکٹ پھینکنے سے روکے گا، ملک کو آمدنی کا نیا ذریعہ دے گا اور معیشت کے لیے خام مال اور توانائی فراہم کرنے کا سبب بنے گا، لیکن ان اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدنی پروجیکٹ کے مختلف اسٹیک ہولڈرز میں مناسب طور پر تقسیم کی جائے گی۔

کوڑے کو ابتداء ہی میں چھانٹی کرے اور اسے فروخت کرنے سے آمدنی یا فائدہ حاصل کرنے کی خواہش بالکل فطری ہے۔ نجی شعبہ تو ری سائیکل کرنے والے اداروں کو یہ کوڑا بیچ سکتا ہے لیکن سرکاری اداروں کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں کیونکہ موجودہ قانون ان کے آڑے آتا ہے۔

زیرو ویسٹ پروجیکٹ میں شامل اداروں کا اپنا کوڑا بنیادی طور پر متعلقہ بلدیہ کو جمع کرایا جاتا ہے اور اگر وہ اس قسم کا کوڑا ہے جو بلدیہ قبول نہیں کرتی یا اسے ری سائیکل نہیں کرتی تو وہ ایسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اگر زیرو ویسٹ پروجیکٹ پر نظرثانی کی جائے اور اسے ازسرِ نو ترتیب دیا جائے تو ایسے کئی مسائل کا حل ممکن ہو جائے گا کہ جن کا اس وقت ترکی کو سامنا ہےاور یوں ترکی نئے’زیرو ویسٹ سسٹم’ کو زیادہ مؤثر بنا پائے گا۔

تبصرے
Loading...