امریکی ویٹو کے بعد فلسطین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بلوائے گا

0 42,097

فلسطینی وزیر خارجہ ریاد المالکی نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں بیت المقدس سے متعلق قرار داد امریکا کی طرف سے ویٹو کیے جانے کے بعد فلسطین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بلوائے گا تاکہ اقوام عالم کی مشترکہ رائے سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے غیر قانونی فیصلہ کو کالعدم قرار دیا جائے-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو امریکی پالیسی کو اس وقت بدل دیا تھا جب بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ایبب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا- اس فیصلے نے مشرق وسطیٰ کے امن پر سوالیہ نشان کھڑے کر دئیے تھے اور دنیا بھر سے ردعمل دیکھنے میں آیا تھا-

فلسطینی وزیر نے کہا ہے کہ ہم 48 گھنٹوں میں یہ کام مکمل کرنے والے ہیں تاکہ جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلوایا جا سکے- انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے-

فسلطینی صدر محمود عباس کے مشیر نیبل ابو ردینا نے امریکی ویٹو کو "اشتعال انگیزی” قرار دیا ہے-

دوسری طرف ترکی نے امریکی ویٹو کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پہلے بھی اعادہ کر چکے ہیں کہ دنیا پانچ سے بڑی ہے اور باقی ممالک کو اس معاملہ پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے- ترکی نے کہا ہے کہ اگر اقوام متحدہ بیت المقدس کے معاملہ کو عالمی قوانین کے مطابق حل نہیں کر پاتا تو اس کا وجود ختم ہو جائے گا اور آزاد فیصلے شروع ہو جائیں گے جس سے مشرق وسطیٰ کے امن کی ضمانت نہیں دی جا سکے گی-

تبصرے
Loading...