منصوبہ بندی میں انسان کو شامل کیے بغیر شہرکاری میں ہم اپنا من پسند مقام حاصل نہیں کر سکتے، ایردوان

0 200

صدارتی کمپلیکس میں اربنائزیشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے شہر کاری کے شعبے میں جاری کوششوں کا تذکرہ کیا اور کہا: "ہم نے گزشتہ 15 سال کے دوران جو اقدامات اٹھائے وہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور ہمارے 81 صوبوں کے پرانے مسائل حل ہوئے۔ تمام ادارے مل کر صدیوں سے بھلا دئیے جانے والے مسائل حل کر رہے ہیں، اس سے پہلے کہ وہ ہمارے لیے ناقابل علاج بیماری کا روپ دھار لیں”۔

ترک صدارتی کمپلیکس میں وزرات ماحولیات و شہریات کے اربنائزیشن فورم کے زیر اہتمام "اربنائزیشن کا نیا ویژن” کے نام سے ایک خصوصی تقریب ہوئی۔

آج کل کے شہر انسانوں کے لیے امن، آرام اور فلاح کے ضامن نہیں

ترک صدر نے یہ بتاتے ہوئے کہ اس شعبے میں ہم عصر افراد کے ذہنی خستہ حالی کے منفی رجحانات زیادہ ہوئے ہیں، کہا: "انسان اپنا اظہار خود کرتا ہے اور جو شہر وہ تعمیر کرتا ہے اس میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح شہر نہ صرف اپنے معماروں بلکہ اپنے موجود اور سابق رہائشیوں کی عکاسی کرتے ہیں”۔

ایردوان نے کہا: "آج بدقسمتی سے ہمارے شہر ‘انسانی فطرت’ کے بجائے ‘ذاتی خواہشات’ کے نقطہ نظر سے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ ہر وہ جگہ جو انسانی فطرت سے ہم آہنگ نہیں ہوتی وقت کے ساتھ ساتھ انسانی قید خانہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کے شہر انسانوں کے لیے امن، آرام اور فلاح کے ضامن نہیں”۔

گزشتہ 15 سال کے دوران اٹھائے گئے اقدامات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں

ترکی میں شہرکاری کے سلسلے میں ہونے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: "ہم نے گزشتہ 15 سال کے دوران جو اقدامات اٹھائے وہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور ہمارے 81 صوبوں کے پرانے مسائل حل ہوئے۔ تمام ادارے مل کر صدیوں سے بھلا دئیے جانے والے مسائل حل کر رہے ہیں، اس سے پہلے کہ وہ ہمارے لیے ناقابل علاج بیماری کا روپ دھار لیں”۔

شہرکاری میں نئی پالیسز کی ضرورت ہے

ترک صدر نے شہرکاری کے شعبے میں نئی پالیسز اور طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: "ہم انسان کو شامل کیے بغیر شہرکاری میں اپنا من پسند مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ ہم فن تعمیر کے جدید وسائل کو بنانے کے لیے کام کریں گے۔ جو قدیم بھی ہے اور طویل عرصے تک قائم رہنے والا بھی ہے”۔

تبصرے
Loading...