فرانس کو ترکی پر غلط الزام لگانے پر لازماً معافی مانگنا ہوگی، وزیر خارجہ

0 1,616

ترکی نے فرانس کے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں اُس کے جہازوں کومبینہ طور پر ہراساں کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے یورپی یونین کےوزیر برائے امورِ خارجہ جوزپ بوریل کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں فرانس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکی سے معافی مانگے۔ "یورپی یونین مشرقی بحیرۂ روم کے معاملے میں تنازع کا نہیں بلکہ حل کا حصہ بنے۔”

فرانس کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ ترک بحریہ نے فرانس کے ایک جنگی بحری جہاز کو ہراساں کیا جو بحیرۂ روم میں نیٹو کے مشن میں حصہ لے رہا تھا۔

نیٹو اتحادیوں فرانس اور ترکی کے مابین تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں، لیکن حالیہ کچھ دنوں میں اس دعوے کے بعد ان میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ فریقین مسئلہ لیبیا اور مشرقی بحیرۂ روم میں سرگرمیوں کے معاملے پر ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں۔

بوریل نے اس معاملے پر کہا کہ "میں مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی اور یونان کے مابین کشیدگی کا حل ڈھونڈنے کے لیے یہاں (ترکی) آیا ہو۔ ہم فریقین کے مابین مذاکرات کے انتظامات کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔” انہوں نے دونوں ملکوں کے مابین اختلافات خاص طور پر قبرص بحران کا حوالہ دیا۔

قبرص بحران دہائیوں سے حل نہ ہونے والے مسائل میں سے ایک ہے، حالانکہ اقوام متحدہ کی جانب سے بارہا کوششیں کی گئیں،جبکہ مشرقی بحیرۂ روم میں تازہ کشیدگی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

یہ جزیرہ 1974ء سے شمال میں ترک قبرص حکومت اور جنوب میں یونانی قبرص کی انتظامیہ کے مابین تقسیم ہے کہ جب یونان نے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے قبرص پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ترکی نےایک ضامن طاقت کی حیثیت سےقبرص میں مداخلت کی اور قوم پرست یونانیوں کی جانب سے ترک قبرصی باشندوں پر تشدد اور ان کے قتل عام کو روکا۔

بوریل نے کہا کہ "یورپی یونین ترکی کے ساتھ ایک نئے معاہدے کا ارادہ رکھتی ہے اور مختلف مسائل کے حوالے سے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش مند ہے، جن میں مہاجرین کا بحران، لیبیا و شام کے مسائل اور کسٹمز یونین شامل ہیں۔” البتہ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ یونانی قبرص کی مختلف معاملات پر حساسیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، جس پر چاؤش اوغلو نے ردعمل ظاہر کیا۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ "یورپی یونین نے مہاجرین کے بحران میں ترکی کو مایوس کیا، اب آپ (بوریل) کا دعویٰ ہے کہ آپ بحران کے حل کے لیے سب کچھ کریں گے لیکن یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ کو یونانی قبرص کے خدشات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ مہاجرین کے بحران سے یونانی قبرص کا بھلا کیا تعلق ہے؟ اگر آپ دو طرفہ معاملات کے حوالے سے تمام امور میں یونانی قبرص کو لائیں گے تو ہم بھی آپ کی درخواستوں کو پورا کرنے کے لیے نئی شرائط لے کر آئیں گے۔”

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ گو کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین ترکی کے حوالے سے نیک نیتی رکھتا ہے، لیکن دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے یورپی یونین کے کچھ اراکین کو روکنے کی بھی ضرورت ہے۔

تبصرے
Loading...