ترک اور امریکی وزرائے خارجہ کی ملاقات، مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت

0 212

وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو اور ان کے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو نے مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی میں کمی اور لیبیا میں موجودہ صورت حال کے حوالے سے ڈومینکن جمہوریہ کے دارالحکومت سانتو دومنگو میں ایک ملاقات کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے جاری کردہ ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ چاؤش اوغلو اور پومپیو نے مشرقی بحیرۂ روم میں علاقائی طاقتوں کے مابین کشیدگی میں کمی سمیت مختلف معاملات پر بات چیت کی۔ ترکی اس علاقے میں تیل و گیس کی تلاش کا کام کر رہا ہے۔

چاؤش اوغلو نے کہا کہ ملاقات کے بعد انہوں نے لیبیا کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا اور ماہرین کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یونان کی جانب سے مصر کے ساتھ بحری حدود کے ایک متنازع معاہدے کے بعد علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یونانی دفاعی ذرائع نے مشرقی بحیرۂ روم میں فرانس کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کا اعلان بھی کر دیا ہے، جو ترکی کے بحری علاقے کے ساتھ واقع ہے۔

یہ مشقیں ترکی کی جانب سے 10 اگست کو مشرقی بحیرۂ روم میں قدرتی وسائل کی تلاش کا کام دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ انقرہ نے مذاکرات کے لیے عارضی طور پر تلاش کا کام روک دیا تھا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں یونانی قبرص کی انتظامیہ کی جانب سے تیل و گیس کی تلاش کی سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، کیونکہ ان وسائل پر ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا بھی حصہ ہے۔

ملاقات کے بعد چاؤش اوغلو نے امریکی ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے حالیہ تبصروں کا جواب دیا۔ ایک حالیہ وڈیو میں امریکی صدارتی امیدوار کو کہتے دیکھا گیا ہے کہ وہ ترکی میں حکومت کو تبدیل کریں گے اور ملک میں موجود "حزب اختلاف کی قیادت” کے ساتھ کام کرکے 2023ء کے انتخابات میں صدر رجب طیب ایردوان کا تختہ الٹ دیں گے۔

چاؤش اوغلو نے کہا کہ بائیڈن حد سے تجاوز کر گئے ہیں، ترکی کا رہنما کون ہوگا؟ اس کا فیصلہ صرف ترک عوام کریں گے، وہ بھی صرف جمہوری اور شفاف انتخابات کے ذریعے۔ امریکا یا کوئی دوسرا ملک یہ فیصلہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام اس بیان کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے YPG/PKK کے دہشت گردوں کے لیے بائیڈن کی جانب سے "کردوں” کا لفظ استعمال کرنے پر بھی تنقید کی۔ "کرد ترکی کے ہر سرکاری شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور ہمیشہ کی طرح ہر شعبہ زندگی میں شانہ بشانہ کام کرتے رہیں گے۔ ہم سب خلاف ہیں دہشت گردی کے۔”

ترک وزیر خارجہ نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے حالیہ فیصلے اور جنگ زدہ یمن میں تباہ کن سرگرمیوں پر متحدہ عرب امارات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کا معاملہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے، محض عربوں کا نہیں۔ ابو ظہبی نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرکے فلسطینیوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔

تبصرے
Loading...