نیتن یاہو کے ‘نسل پرستانہ ریاست’ کے انتخابی وعدے کی ترک وزیر خارجہ کی جانب سے مذمت

0 510

اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے اپنے انتخابی وعدوں میں "غیر قانونی، ناروا اور جارحانہ” پیغامات کی ترک وزیر خارجہ نے مذمت کی ہے کہ یہ "نسل پرستانہ ریاست” کا حصہ ہیں۔

"نیتن یاہوکا انتخابی وعدہ کہ جو انتخابات سے پہلے تمام غیر قانونی،ناروا جارحانہ پیغامات دے رہے ہیں، ایک نسل پرستانہ ریاست ہے،” مولود چاؤش اوغلو نے ایک انگریزی ٹوئٹ میں کہا۔

نیتن یاہو نے منگل کو کہاکہ اگلے ہفتے کے اسرائیلی انتخابات میں اگر وہ جیت گئے تو وادئ اردن اور مبوضہ مغربی کنارے میں کی دیگر آبادیوں پر حقِ حاکمیت جتائیں گے۔

"ترکی ہمیشہ اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے حقوق اور مفادات کا دفاع کرے گا،” چاؤش اوغلو نے کہا۔

تقریباً 70,000 فلسطینی – لگ بھگ 9,500 یہودی آباد کاروں کے ساتھ – اس وقت وادئ اردن مین رہتے ہیں جو ایک بڑی زرخیز زمینی پٹی ہے جو مغربی کنارے کے ایک تقریباً چوتھائی رقبے پر مشتمل ہے۔

اسرائیل دعویٰ کرتا ہے کہ وادی اس کی سلامتی کے لیے اہم ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ مستقبل کے کسی بھی تصفیے کے لیے اس کے کسی بھی حصے سے دستبردار ہونے کو مسترد کرتا ہے۔

رواں مہینے نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام آبادیوں پر قبضہ کرنے کا عہد کیا، کہا کہ "خدا کی مدد سے ہم اسرائیل کی سرزمین اور ریاست اسرائیل کے حصے کے طور پر ان آبادیوں پر یہودیوں کا حقِ حاکمیت جتائیں گے۔”

1967ء میں اسرائیل کے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے تقریباً 6,50,000 اسرائیلی یہودی 100 سے زيادہ آبادیوں میں رہتے ہیں۔

فلسطینی مستقبل کی ریاست فلسطین کے لیے غزہ کی پٹی کے ساتھ یہ علاقے بھی چاہتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم دونوں کو "مقبوضہ علاقے” سمجھتا ہے اور تمام آبادکاری کی تمام یہودی سرگرمیوں کو غیر قانونی گردانتا ہے۔

تبصرے
Loading...