چین نے ان کے ماں باپ غائب کر دئیے: ترکی میں موجود ایغور مہاجر بچوں کی داستان

0 2,430

استنبول کے نواح میں ایک ایسا اسکول قائم کیا گیا ہے جہاں چین سے آنے والے ایغور بچے اپنی زبان اور ثقافت کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اب یہ ایک دارالیتمیٰ بن چکا ہے۔ یہ اسکول استنبول کی ڈسٹرکٹ سیلوری میں واقع ہے۔

شمال مغربی چین میں ایغور مسلمانوں پر ہونے والے کریک ڈاؤن سے بھاگنے والوں میں کئی کے والدین حراستی کیمپوں میں غائب ہو چکے ہیں اور ان کا اپنے والدین سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

اسکول سربراہ ، حبیب اللہ کوسینی کا کہنا ہے کہ اسکول کے ایک سو سے زیادہ شاگردوں میں سے 26 نے اپنے والدین کو کیمپوں میں کھو دیا ہے ، جبکہ ان کے سات شاگرد اپنے دونوں والدین کو کھو چکے ہیں۔

نو سالہ فاطمہ کی اپنے آبائی گھر کی مبہم سی یادیں ہیں اور اب اس کے والد کی بھی بس بھولی بسری یادیں ہی ہیں کیوں کہ اسے چین نے حراسی کیمپ میں غائب کر دیا ہے اور وہ اس کے بارے کچھ نہیں جانتی کہ وہ زندہ ہے یا انہیں مار دیا گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد کو ٹی وی دیکھنا بہت پسند تھا۔ وہ اکثر ٹیلی ویژن پر کارٹون دیکھنا چاہ رہی ہوتی تھیں لیکن ان کا والد خبریں دیکھنا پسند کرتا تھا۔ خاص طور پر رجب طیب ایردوان کی خبریں۔ جو مسلم دنیا میں واحد حکمران ہیں جو ایغور مسلمانوں کے لیے کھڑے ہونے اور چین کے غصب کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں۔

وہ چند سال قبل ان کے ساتھ ترکی میں تھے لیکن بعد میں وہ کاروباری سلسلے میں چین واپس گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا سنگیانگ کے حراستی کیمپوں کے بارے نہیں جانتی تھی۔

فاطمہ یہ بتاتے ہوئے چھلک پڑی کہ "پھر وہ چلے گئے”۔

"میں سوچتی تھی کہ وہ واپس آئیں گے لیکن وہ نہیں آئے”۔

گذشتہ تین سال میں ان کی کوئی خبر اور کوئی اتاپتا ہمییں موصول نہیں ہوا اور نہ ان سے کوئی رابطہ ہو پایا ہے۔

نومبر میں جلاوطن ایغور کارکنوں نے چین میں اپنے نسلی مسلمان گروپ کے خلاف لگ بھگ 500 کیمپوں اور جیلوں کے استعمال کے ثبوت جاری کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کی مجموعی تعداد عام طور پر رپورٹ کئے جانے والے ایک ملین سے کہیں زیادہ "زیادہ” ہوسکتی ہے۔

جب کیمپوں کی خبریں پہلی بار 2017ء میں سامنے آئیں تو بیجنگ نے ابتدا میں ان کے موجودگی کی تردید کردی تھی۔

بعد میں ، اس نے دعوی کیا کہ وہ "رضاکارانہ”طور پر بنائے گئے پیشہ ورانہ مراکز ہیں جن کا مقصد لوگوں کو مینڈارن اور ملازمت کی مہارتیں سکھاتے ہوئے انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔

لیکن شائع ہونے والی داخلی دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ جیلوں کی طرز پر چلائے جاتے ہیں ، جبکہ ان کیمپوں پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایغور اور دیگراقلیتوں جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں ان کی مقامی ثقافت اور مذہب کو ختم کرنا ہے۔

"ہمارے بارے پریشان نہ ہوں”

ترک میں لگ بھگ 50000 ایغور مہاجرین موجود ہیں اور ان میں اکثر کی داستان فاطمہ سے ملتی جلتی ہے یا اس سے بھی زیادہ دکھی ہے۔

15 سالہ تورسنے نے جولائی 2017 سے اب تک اپنے والدین میں سے کسی کو نہیں دیکھا نا ان سے بات کر سکا ہے۔

جب اپنے والدین سے اس کی آخری کال ہوئی تھی تو اسے انہوں بس یہی کہا تھا کہ "ہمارے بارے میں پریشان نہ ہوں”۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ان کے پاسپورٹ ضبط کرلئے گئے ہیں لیکن انہیں یقین ہے کہ جلد ہی اس کا ازالہ کردیا جائے گا۔

اور اس کے بعد ان سے کبھی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

تورسنے چین میں اپنی زندگی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب وہ ہمارے اپارٹمنٹ کے مرکزی دروازے پر کیمرے نصب کر رہے تھے تو میں نے اپنے والد سے پوچھا تھا کہ "پاپا، وہ ہمیں کیوں دیکھ رہے ہیں؟” تو اس کے والد نے کہا کہ بیٹا کیوں کہ ہم مسلمان ہیں۔

اور پھر اس کے والد نے اپنے گھر میں موجود ان تمام سی ڈیز کو جلا دیا تھا جن میں دین کے بارے معلومات تھیں۔

 

تبصرے
Loading...