PKK دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مارے گئے فوجی کے جنازے کے دوران CHP سربراہ پر حملہ

0 566

ترک-عراق سرحد کے قریب PKK کے دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مارے گئے فوجی کے جنازے پر چند لوگوں نے حزبِ اختلاف کی اہم جماعت جمہور خلق پارٹی (CHP) کے چیئرمین کمال کلچدار اوغلو پر حملہ کردیا۔

واقعہ ترک دارالحکومت انقرہ میں تب پیش آیا جب چند افراد نے کلچدار اوغلو کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا اور انہیں گھونسے اور لاتیں ماریں۔ اس کی وجہ حالیہ مقامی انتخابات کے دوران PKK کی حامی خلق ڈیموکریٹک پارٹی (HDP) کے ساتھ ان کا مبینہ خفیہ اتحاد تھا۔

وہ انقرہ کے چوبک ضلع میں پیادہ فوج کے رکن ینر کرکچی کے جنازے میں شرکت کر رہے تھے۔

حملے کے بعد فوج نے کلچدار اوغلو کو قریبی محفوظ مقام تک پہنچایا جہاں سے بعد ازاں انہیں بکتر بند گاڑی کے ذریعے جائے وقوعہ سے دور کردیا گیا۔

حکمران عدالت و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے عہدیداروں نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور کلچدار اوغلو کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی ہے۔

پارٹی ترجمان عمر چیلک نے کہا کہ "ہم ہر قسم کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں،” ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس حملے کے مرتکب افراد کو ڈھونڈ کر عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ وزیر انصاف عبد الحمید گل نے بھی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ وہ تشدد کو سیاست پر اپنا سایہ نہیں ڈالنے دیں گے۔

ملّی حرکت پارٹی (MHP) کے چیئرمین دولت باحچلی نے کہا کہ کلچدار اوغلو کے خلاف حملے پر آرام سے بیٹھنا "ناممکن” ہے۔

انقرہ کے گورنر واسب شاہین نے مقامی براڈکاسٹر کو بتایا کہ حملہ آوروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

انقرہ کے چیف پبلک پراسیکیوٹر یکسل کوجامن نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ حملہ آوروں کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور یہ بھی پتہ چلایا جائے گا کہ یہ دہشت گردانہ قدم تھا یہ محض اشتعال کا واقعہ تھا۔

جمہوری خلق پارٹی کو PKK کی حامی HDP کے ساتھ اتحاد پر طویل عرصے سے تنقید کا ہدف بنایا جاتا رہا ہے۔ CHP باضابطہ طور پر تو HDP کے ساتھ کسی بھی اتحاد سے انکاری رہی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں سیکولر-قوم پرست ووٹر کی جانب سے ممکنہ ردعمل کا سامنا ہوگا۔

HDP کے چند اراکین تو PKK دہشت گرد تنظیم کے ساتھ رابطوں کی وجہ سے پکڑے بھی گئے ہیں یا ان پر اس کا الزام لگا ہے۔ 30 سے زیادہ سالوں سے PKK ترک ریاست کے خلاف لڑ رہی ہے جس دوران 40،000 لوگوں کی جانیں گئیں۔

انقرہ کے گورنر آفس سے جاری ہونے بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے مرتکب افراد کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور کلچدار اوغلو کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

تبصرے
Loading...