جمہور خلق پارٹی کے امام اوغلو واضح اکثریت سے استنبول کے میئر بن گئے

0 547

ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے ووٹرز نے حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے امیدوار جمہور خلق پارٹی (CHP) کے اکرم امام اوغلو کو میئر کے ازسرِ نو ہونے والے انتخابات میں واضح اکثریت دے دی ہے۔

99.37 فیصد بیلٹ بکس کی گنتی مکمل ہونے پر جاری ہونے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق امام اوغلو نے اپنے حریف، عوامی اتحاد کے امیدوار انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے بن علی یلدرم کے 45.09 فیصد کے مقابلے میں 54.03 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔

دونوں امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق 7،77،581 تھا جو 31 مارچ کو ہونے والے انتخابات کے 13،729 سے کہیں زیادہ ہے۔ امام اوغلو استنبول کے 39 میں سے 28 اضلاع میں آگے رہے جو منسوخ شدہ انتخابات میں جیتے گئے 16 اضلاع سے کہیں زیادہ ہیں۔

سپریم الیکٹورل بورڈ (YSK) کے چیئرمین سعدی گوون نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "استنبول میں انتخابات پر سکون اور پرامن انداز میں منعقد ہوئے۔ باضابطہ نتائج دستیاب ہوتے ہی شریک جماعتوں اور عوام کے سامنے پیش کردیے جائیں گے۔”

امام اوغلو نے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس بار اپنے ووٹوں کی تعداد میں تقریباً 5،30،000 کا اضافہ کیا جبکہ یلدرم کے ووٹوں کی تعداد میں 2،35،000 کی کمی آئی۔

نتائج سامنے آتے ہی یلدرم نے شکست قبول کرلی اور کہا کہ امام اوغلو دوڑ میں آگے ہیں اور وہ انہیں اس فتح پر مبارک باد دیتے ہیں ” استنبول کے رہنے والوں کے فائدے کے لیے امام اوغلو جو بھی کریں گے، ہم اس میں ان کی مدد کی کوشش کریں گے۔”

یلدرم کی تقریر کے کچھ ہی دیر بعد امام اوغلو نے کہا کہ نتائج ترک جمہوریت کے لیے بہت اہم تھے۔ "آپ نے ترک جمہوریت کے وقار کو پوری دنیا کے سامنے محفوظ کیا اور آپ نے اپنی ایک صدی سے بھی پرانی جمہوری روایات کا تحفظ کیا جس پر ہم استنبول کے شہریوں کے شکر گزار ہیں۔”

امام اوغلو نے کہا کہ انتخابات کے نتائج صرف "کامیابی” نہیں بلکہ شہر کے لیے ایک "نیا آغاز” ہیں۔ آج استنبول کے 16 ملین شہریوں نے جمہوریت پر اپنے یقین اور انصاف پر اپنے بھروسے کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ اس کا ادراک صرف مجھے ووٹ کرنے والوں کو ہی نہیں بلکہ تمام شہریوں کو ہے جنہوں نے ان انتخابات کے پرامن انعقاد کو ممکن بنانے میں مدد دی۔”

امام اوغلو نے کہا کہ وہ صدر رجب طیب ایردوان سے بھی جلد ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ "میں استنبول کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں جیسا کہ شہر کو زلزلے سے محفوظ بنانا، سب وے کی تعمیر، مہاجرین اور دیگر مسائل پر۔”

امام اوغلو نے بعد ازاں بیلک دوزو میں اپنے لاکھوں حامیوں سے ملاقات کی، جہاں کے وہ استنبول سے پہلے میئر تھے۔

دارالحکومت انقرہ میں CHP کے صدر دفتر میں بھی ہزاروں لوگ جمع ہوئے کہ جہاں چیئرمین کمال کلچ دار اوغلو اور 31 مارچ کو یہاں میئر کے انتخابات جیتنے والے منصور یاواش نے خطاب کیا۔

تبصرے
Loading...