اگر امریکہ گولن کو حوالے نہیں کرتا تو انجرلک ائیر بیس بند کر دوں گا، سیکولر کمالسٹ صدارتی امیدوار

0 1,631

ترک صدارتی انتخابات میں رجب طیب ایردوان کے مقابلے میں مرکزی اپوزیشن سیکولر جماعت جمہوریت عوام پارٹی (CHP) کے امیدوار نے کہا کہ کہ جب تک امریکہ فیتو رہنماء فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے نہیں کرتا، انجرلک ملٹری ائیر بیس بند کر دیا جائے۔

ترک حکومت واشنگٹن سے کئی بار فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے۔ وہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد امریکی ریاست پنسلوانیا میں مقیم ہیں اور 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے ناطے ترکی کو مطلوب ہیں، فتح اللہ گولن کی سرگرمیوں کے خلاف قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

ترک حکومت کی طرف سے درخواست کے اعتراضات ختم کرنے اور ثبوتوں کی کئی فائلیں جمع کروانے کے باوجود واشنگٹن تاحال فتح اللہ گولن کی حوالگی میں یکسو نہیں ہے۔

سیکولر کمالسٹ صدارتی امیدوار محرم انجے نے فاکس ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "امریکہ کو فتح اللہ گولن کو ضرور حوالے کرنا پڑے گا”۔

انہوں نے مزید کہا، "اگر تم (امریکہ) اس واپس حوالے نہیں کرتے تو ہم انجرلک (ملٹری ائیر بیس) بند کر دیں گے اور امریکی فوجیوں کو 24 دسمبر کو واپس بھیج دیں گے تاکہ وہ یہ کرسمس اپنے خاندانوں کے ساتھ منا سکیں”۔

امریکہ انجرلک کے مقام پر قائم ترک ملٹری ائیر بیس میں داعش کے خلاف جنگ میں اہم اڈا بنائے ہوئے ہے جو ترکی کے صوبہ ادانہ میں واقع ہے۔ یہ ائیر بیس 1954ء میں قائم کیا گیا تھا اور سرد جنگ میں ناٹو کا اہم ائیر پورٹ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں امریکہ کی طرف سے ٹیکٹکل نیوکلیئر ہتھیار بھی رکھے گئے ہیں۔

1974ء میں جب ترکی نے قبرص میں جنگ کا آغاز کیا تھا تب امریکی فوجیوں پر عائد پابندیوں کے باعث یہ ائیر بیس سیکولر کمالسٹ جمہوریت عوام پارٹی (CHP) کی حکومت نے واپس ترک فوج کے حوالے کر دیا تھا۔ تاہم 1978ء میں پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہ ائیرپورٹ واپس امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔

2000ء کے بعد امریکہ کی طرف سے افغانستان اور عراق کے خلاف جارحیت کے بعد اس ائیربیس سے امریکہ کو واپس بھیجنے کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوئی تھیں اور عوامی رائے عامہ امریکہ مخالف ہو گئی۔ اس وقت ترک عوام کی اکثریت ترکی میں امریکی ملٹری کی موجودگی کا خاتمہ چاہتی ہے۔

15 جولائی 2016ء کے بعد اس ائیر بیس پر ترک عہدیداروں نے چھاپا مارا تھا کیونکہ ناکام بغاوت میں اس ائیر بیس کے استعمال ہونے کی اطلاعات تھیں۔

54 سالہ محرم انجے، رجب طیب ایردوان کے مقابلے میں سب سے بڑے امیدوار ہیں جو ووٹرز کو باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بہترین متبادل امیدوار ہیں۔

صدارتی نظام کے بعد صدر کو انتظامی اختیارات حاصل ہو جائیں۔ تاہم ترک اپوزیشن کامیابی کی صورت واپس پارلیمانی نظام حکومت لانے کی خواہاں ہے۔

تبصرے
Loading...