سینما ہجرت کی داستانوں کو مؤثر انداز میں بیان کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، صدر ایردوان

0 303

انٹرنیشنل مائیگریشن فلم فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے بذریعہ وڈیو کانفرنس خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہجرت ایک نیا اتحاد ہوتی ہے، یہ مختلف نسلی شناخت، مذاہب، زبان، ثقافت رکھنے والے لوگوں کے ایک دوسرے کو قبول کرنے کا نام ہے۔ ہجرت کے دور میں جو تجربات ہوتے ہیں وہ ہماری زبان میں نئے الفاظ، ہماری زبانوں پر نئے ذائقے اور ہماری یادوں میں نئے تعلقات چھوڑتے ہیں۔ سینما ہجرت کی داستانوں کو مؤثر انداز میں بیان کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، چاہے وہ خوشی کی داستانیں ہوں یا غم کی۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے انٹرنیشنل مائیگریشن فلم فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے بذریعہ وڈیو کانفرنس خطاب کیا۔

"آج دنیا بھر میں 71 ملین سے زیادہ بے گھر افراد اور 25 ملین سے زیادہ مہاجرین ہیں”

اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہ فیسٹیول سینما کے ذریعے ہجرت اور اس کی وجوہات پر ایک مرتبہ پھر غور کرنے کا موقع فراہم کرے گا، ہجرت کی سماجی، ثقافتی، سیاسی و معاشی جہتوں کے حوالے سے شعور اجاگر کرے گا، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہجرت کا مسئلہ ایک عالمی مسئلے کی حیثیت سے دنیا کے ایجنڈے پر موجود ہے، خاص طور پر حالیہ کچھ عرصے سے۔ لاکھوں افراد کو جنگ، عدم استحکام، دہشت گردی اور غربت کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑا۔ آج دنیا بھر میں تقریباً 260 ملین مہاجرین، 71 ملین سے زیادہ بے گھر افراد اور 25 ملین سے زیادہ مہاجرین ہیں۔ زیادہ تر لوگ صرف اچھی ملازمت اور بہتر معیار زندگی کے لیے ہی نہیں بلکہ محض بقاء اور کسبِ معاش کے لیے ہی ہجرت کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ محفوظ مستقبل کی جانب ہجرت کے سفر کا ایک بڑا حصہ بدقسمتی سے موت اور تباہی پر منتج ہوا۔ پچھلے 8 سالوں میں 25 ہزار افراد، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے تھے، بحیرۂ روم کی بے رحم موجوں کا شکار ہو گئے۔ ایسے 10 ہزار شامی بچوں کا مستقبل تاریک ہے کہ جو یورپ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔”

تاریخ اور ثقافت میں جڑیں رکھنے والی اپنی اقدار کی وجہ سے مہاجرین کے حوالے سے ترکی کے مختلف رویّے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ایک ایسی تہذیب کا حصہ ہوتے ہوئے کہ جو شیئرنگ اور اتحاد کی طاقت پر یقین رکھتے ہے، ہم کسی کے خلاف امتیازی سلوک نہیں کرتے۔ ایک ایسے موقع پرجب ہمارے مقابلے میں بہت زیادہ وسائل رکھنے والے ممالک نے بھی درجنوں کوٹے لگائے، ہم نے نسل، مذہب اور زبان کی تفریق کے بغیر سب کو گلے سے لگایا۔ ہم نے اپنے ملک میں پناہ لینے والے مظلوم اور محروم لوگوں ویسے ہی مواقع دیے جو ہم اپنے شہریوں کو دیتے ہیں۔”

"‏COVID-19 نے مہاجرین کو درپیش مسائل کو بڑھا دیا ہے”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی نے مہاجرین کے لیے رہائش سے لے کر صحت، تعلیم اور سماجی شمولیت تک تقریباً تمام شعبوں میں جامع پالیسیاں مرتب کی ہیں، البتہ صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ اس پورے عمل کے دوران ترکی کو یورپی یونین سمیت کئی ملکوں کی جانب سے کوئی مدد نہیں ملی، کہ جو ویسے جمہوریت اور انسانی حقوق کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں۔ صدر نے مزید کہا کہ ترکی کو بے قاعدہ ہجرت کا پورا بوجھ خود اٹھانے کے لیے چھوڑ دیا گیا اور کیے گئے وعدے تک پورے نہیں ہوئے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ یورپ پہنچنے والے مہاجرین کو نسل پرست، علیحدگی پسند اور تنہا کر دینے والی پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ "گزشتہ سال ترک-یونان سرحد پر جو غیر انسانی مناظر ہم نے دیکھے وہ مختلف مغربی ممالک کے مہاجرین کے حوالے سے رویے کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ COVID-19 کی وباء نے مہاجرین کو درپیش مسائل کہیں بڑھا دیے ہیں، اور پہلےسے ہی مصائب سے دوچار افراد کے لیے حالات کو مزید سنگین کر دیا ہے۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ہجرت مختلف زندگیوں اور مختلف داستانوں کو یکجا کرتی ہے اور ہمیشہ سے ثقافتی تال میل کے لیے ایک مؤثر ترین ذریعہ ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہجرت ایک نیا اتحاد ہوتی ہے، یہ مختلف نسلی شناخت، مذاہب، زبان، ثقافت رکھنے والے لوگوں کے ایک دوسرے کو قبول کرنے کا نام ہے۔ ہجرت کے دور میں جو تجربات ہوتے ہیں وہ ہماری زبان میں نئے الفاظ، ہماری زبانوں پر نئے ذائقے اور ہماری یادوں میں نئے تعلقات چھوڑتے ہیں۔ سینما ہجرت کی داستانوں کو مؤثر انداز میں بیان کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، چاہے وہ خوشی کی داستانیں ہوں یا غم کی۔ مجھے خوشی ہے کہ ہجرت کا یہی حاصل اور تنوع انٹرنیشنل مائیگریشن فلم فیسٹیول میں بھی نمایاں ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ہجرت کے حوالے سے اپنے تعصبات کو ایک طرف رکھیں اور نئے ملکوں اور برادریوں میں مہاجرین کی کاوشوں کو دیکھی۔ میں ایک مرتبہ پھر فیسٹیول میں شریک قابلِ قدر ڈائریکٹرز کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ جنہوں نے دنیا بھر سے ہجرت کی داستانیں جمع کیں، اور ان اداروں اور اسپانسرز کا بھی کہ جنہوں نے اس فیسٹیول کو سپورٹ کیا۔ میں انٹرنیشنل مائیگریشن فلم فیسٹیول کے انعقاد میں حصہ ڈالنے والے تمام لوگوں کو بھی مبارک باد دیتا ہوں۔ ”

تبصرے
Loading...