اسلام کے احکامات نہیں بدل سکتے، ایردوان نے اپنے بیان کی وضاحت کردی

0 3,147

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے احکامات نہ بدل سکتے ہیں اور نہ بدلیں گے۔ ان کے گذشتہ روز اسلام کو "تازہ ترین” بنانے کے بیان پر کٹر مذہبی طبقات کی طرف سے تنقید کا نشانہ گیا تھا۔

عالمی یوم نسواں پر ترک صدارتی کمپلیکس میں خواتین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے "کچھ علماء” پر تنقید کی جو خواتین پر تشدد اور زن بیزاری کا اسلام کے حوالے سے دفاع کرتے ہیں۔

ایردوان نے اپنے سابقہ بیان میں کہا تھا، "حال ہی میں، کچھ لوگ جو عالم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن خلاف مذہب بیانات جاری کرتے ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہے۔ ان کا اس وقت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ اسلام کو تازہ ترین کرنے کی ضرورت ہے اور وہ اپنے مطابق تازہ ترین ہوتا ہے۔ آپ 15 صدیوں پہلے کے عمل آج پر نافذ نہیں کر سکتے۔ اسلام بدلتا ہے اور مختلف وقت کی صورتوں کو اختیار کرتا ہے۔ یہ اسلام کی خوبصورتی ہے”۔

انہوں نے اگرچہ نام نہیں لیا تھا لیکن نورالدین یلدز کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ نورالدین یلدز ایک عالم ہیں اور ترکی میں محدود پیروکار رکھتے ہیں۔ وہ برصغیر کے معروف عالم دین ابوالحسن ندوی کے شاگرد بھی ہیں۔ انہیں ترکی میں نفرت پھیلانے کے جرم میں قانونی کاروائی کا بھی سامنا ہے۔ ان کا اس ہفتے ایک بیان خبروں کی زینت بنا تھا جس میں وہ گھریلو تشدد کا دفاع کر رہے تھے۔ "اللہ ہمیں (سدھارنے کے لیے) عورتوں کو مارنے کا حکم دیتا ہے۔ خواتین کو احسان مند ہونا چاہیے کہ انہیں (صرف) ان کا خاوند مار سکتا ہے”۔

ایردوان نے تب کہا تھا، "میں جانتا ہوں اب کچھ خواجہ حضرات (علماء) مجھ پر تنقید کریں گے۔ جو کچھ ہم کہتے ہیں دعا ہے کہ اللہ اس سے خوش ہو”۔

ایردوان نے انقرہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے نئے بیان میں کہا، "یہ کچھ لوگوں کے لیے غلط ہے۔ جو منہ سے کچھ ایسے لفظ نکالتے ہیں جن کا زندگی کی حقیقتوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور لوگوں کو الجھاتے ہیں۔ ہمارے مذہب پر کسی کو الزام لگانے کا کوئی حق نہیں”۔

صدر ایردوان نے اپنی نئی تقریر میں کہا، "ہم مذہب میں ریفارم نہیں لانا چاہتے۔ یہ ہماری استعداد سے باہر ہے۔ ہم نے قرآن مجید کو پیش کیا اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ اس کے احکامات کبھی بھی نہیں بدل سکتے۔ البتہ اس سے استدلال اور اصول نکلتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد وقت، صورتحال اور امکانات کے لحاظ سے ہی ہو گا”۔

رجب طیب ایردوان نے ترکی کے مذہبی امور کے ادارے دیانت کو کہا کہ وہ اس معاملے پر سرگرم کردار کرے۔

انہوں نے کہا، "میں ان معاملات پر بات کرنے کی اتھارٹی نہیں رکھتا۔ لیکن بحیثیت صدر، بحیثیت مسلمان اور ایک انسان ہونے کے ناطے سے جو ذمہ داری رکھتا ہے۔ میں برداشت نہیں کر سکتا کہ ایسا اختلاف میرے مذہب میں لایا جائے”۔

انہوں نے مزید کہا، "ہم  ان داغوں اور گندے نشانات کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ جو خواتین اور نوجوانوں سے متعلق اس طرح کے لوگوں کے لفظ سے اسلام پر لگائے جاتے ہیں۔ کسی کا حق نہیں کہ وہ لوگوں میں الجھن پیدا کرے اور ہمارے دین کا ایسا مضحکہ خیز خاکہ بنائے”۔

تبصرے
Loading...