ہماری شام میں موجودگی کا کسی دوسری ریاست سے موازنہ، تاریخ اور ہماری تہذیب کی توہین ہے، ایردوان

0 830

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے "جو چاہتے ہیں کہ ترکی، شامی مسئلے میں کوئی کردار ادا نہ کرے، جبکہ عالمی طاقتیں خطے کو قتل گاہ بناتی رہیں، وہی ہمارے خطے میں بحران پیدا کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ہم نہ پہلے اس کی کسی کو اجازت دی ہے اور نہ آئندہ کبھی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ ہم نہ صرف اپنے بلکہ اپنے بھائی بہنوں کے حقوق کا دفاع کریں گے”۔

انہوں نے مزید کہا، "میں ایک غلطی کو درست کرنا چاہتا ہوں کچھ عرصہ سے اچھالی جا رہی ہے۔ ترکی ہر اس شخص کی ریاست ہے جو اس ملک میں رہتا ہے۔ ہمارے تمام بھائیوں اور بہنوں کی، چاہے وہ ترک ہوں، کرد ہوں یا عرب ہوں۔ ترکی صرف یہی کچھ نہیں ہے۔ بلکہ ہر اس شخص کی ہے جس کا کوئی پیارا، عزیز اور قریبی ان کرد بھائیوں اور بہنوں میں شامل جو ہماری سرحد کے ساتھ رہتے ہیں”۔
ترک صدر ایردوان نے کہا، "ترکی کی شام میں موجودگی کا کسی دوسری ریاست یا طاقت کے ساتھ موازنہ تاریخ اور ہماری تہذیب کی توہین ہے۔ اگر ہم وہاں موجود نہ ہوں، اگر ہم اس سے پیٹھ پھیر لیں جو کچھ وہاں ہو رہا ہے، وہاں سے آنے والے بھائیوں اور بہنوں کے لیے اپنی سرحدیں اور اپنے دل دل بند کر دیں تو یہ ہماری اپنے آپ سے بغاوت ہو گی۔ یقیناً وہ لوگ جو ہر چیز کو پیسہ، تیل اور مفادات کی آنکھ سے دیکھتے ہیں، قدرتی طور پر انہیں ترکی کا انسانی اور باوقار موقف کبھی سمجھ نہیں آ سکتا۔ شام اور دوسرے مسائل پر ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں، جو قربانی بھی ہم دیتے ہیں، ایک پیسہ بھی جو ہم اس راستے میں خرچ کرتے ہیں، وہ ہمارے اس موقف کا اظہار ہوتا ہے”۔

تبصرے
Loading...