کیا عثمان ، ارطغرل سے کم معیار کا ڈرامہ ہے؟: آصف محمود

0 2,241

عثمان کی دو اقساط آ چکی ہیں ۔ کچھ دوستوں کو قدرے مایوسی ہوئی ہے اور انہوں نے سوال پوچھا ہے کیا عثمان کی پروڈکشن ارطغرل سے کم معیار کی ہے؟ اس سوال کی صورت میں وہ گویا اپنی رائے بھی دے رہے تھے کہ انہیں ان دو اقساط میں وہ مزہ نہیں آیا جو ارتغرل میں آ یا تھا ۔ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں عثمان ڈرامہ ارتغرل کے پائے کا ہو گا ۔ بس تھوڑا اس کے ساتھ چلنا ہو گا ۔ ابھی بلاشبہ اس پائے کا لطف نہیں آ رہا جو ارتغرل دیکھنے میں آتا تھا اور دو اقساط کے باوجود ڈرامہ اپنا رنگ نہیں جما سکا ۔ لیکن اس میں قصور ڈرامے کا نہیں ۔ یہ ایسا ہی ہونا تھا ۔ رنگ جمے گا مگر چند اقساط کے بعد ۔ اس کی وجوہات یہ ہیں ۔

پہلی وجہ ہے کہ ہم ارطغرل کے عادی ہو چکے تھے اور وہ انتہائی غیر معمولی کردار تھا ۔ ایسا کردار انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔ یہ ڈرامہ تو خیر ایک سحر تھا ۔ اب یہ نئے ڈرامے عثمان کی کمزوری نہیں بلکہ یہ ارطغرل کا سحر ہے جو ابھی تک نہ ڈرامے کا رنگ بننے دے رہا ہے نہ عثمان کے کردار کا ۔ جوں جوں ہم اس سے مانوس ہوتے جائیں گے، سحر لوٹ آئے گا ۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے ارطغرل جیسا ڈرامہ پہلی بار دیکھا تھا ۔ یہ زندگی ، یہ کلچر، یہ خانہ بدوشوں کے خیمے ، یہ سردارکی وجاہت ، یہ اسلامی تہذیب کے بھولے بسرے رنگ ، ہم نے دیکھا اور ہم اس میں کھو گئے ۔ اب جب ہم عثمان دیکھ رہے ہیں تو یہ ہمارے لیے نیا نہیں کہ ہم ایک طلسم میں ڈوب جائیں ۔ ہم اس قبیلے کی اٹھان اور شان اور تہذیب کے سارے رنگوں سے واقف ہیں ، اس لیے اب کچھ غیر معمولی ہو گا تو دل کو بھائے گا ۔

تیسری وجہ انسانی فطرت ہے ۔ انسان جسے چاہتا ہے ،کسی کو اس کا متبادل سمجھنا پھر اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ ارطغرل کسی ڈرامے کا ایک کردار نہ تھا، وہ ہمارا ماضی بھی تھا ، ہمارا خواب بھی تھا ، وہ بہت کچھ تھا ۔ کہی ان کہی بہت سی خواہشات اور حسرتوں کا نام ارطغرل تھا ۔ اب دو ہی قسطوں میں دل کی دنیا میں ارطغرل کی جگہ کوئی اور آ بیٹھے ، بھلا وہ اسی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو ، یہ انسانی نفسیات کے خلاف ہے ۔ وقت لگتا ہے ۔ جاوید میانداد جائے تو کسی نئے بلے باز کو تسلیم کرنے میں وقت لگتا ہے ۔ جنہوں نے وسیم اور وقار کو دیکھا ان کے لیے کسی اور باءولر کو تسلیم کرنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے ۔ بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں ، کھیل کی دنیا سے فلمی دنیا تک اور ادب سے موسیقی تک ۔

چوتھی بات یہ ہے کہ ارتغرل کے پانچ سیزن ہمارے لاشعور کا حصہ ہیں ۔ اس کا ایک ایک پل ہماری یادوں میں مہک رہا ہے ۔ ایک ایک موڑ اور ایک ایک پگڈنڈی کے سفر میں ہم گویا اس کے ہمسفر تھے ۔ اتنے طویل سفر کے رنگوں کے سامنے عثمان کی دو اقساط اپنا رنگ کیسے جما سکتی ہیں ۔ عثمان تو ابھی ہمارے لیے اجنبی سا ہے. تھوڑا غصہ بھی آتا ہے کہ یہ آیا ہی کیوں، ارطغرل ہی سب کچھ کرتا رہتا ہمیشہ وہی رہتا. لیکن ظاہر ہے دنیا میں ناگزیر کوئی بھی نہیں ہوتا. اس حقیقت کو قبول کرنے میں لیکن کچھ وقت لگے گا ۔

پانچویں بات یہ ہے کہ عثمان کے کردار کا یہ رنگ جو ہ میں اکھڑا اکھڑا سا لگ رہا ہے ، یہ ڈرامے کی کمزوری نہیں نہ اس کے کردار کی کمزوری ہے ۔ یہ اس کے کردار کی ضرورت ہے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں وہ بھی ارطغرل بن جائے تو ابھی یہ ممکن نہیں ۔ ابھی اس کی کنپٹی کا ایک بال بھی سفید نہیں ہوا ۔ ابھی وہ ایک منہ زور جنگجو ہے جو کسی کی نہیں سنتا ۔ ارطغرل کب کسی کی سنتا تھا؟ عثمان کا کردار جو ابھی نامونوس اور عجیب سا لگتا ہے آگے چل کر معلوم ہو گا یہ اس کے کردار کا مضبوط حوالہ ہے ۔ ایسا نہین کہ ترکی والوں کو سلطنت عثمانیہ کے پہلے بادشاہ کا کردار ادا کرنے کے لیے بندہ نہییں ملا ۔ اور انہوں نے جلدی میں خانہ پری کر دی ۔ پچھلی قسط میں عثمان کے زخمی ہو کر گرنے کے بعد جب گھوڑے نے اسے ریسکیو کرنے میں مدد دی تو صرف اس سین کے لیے عثمان کو تین گھنٹے کیچڑ میں لیٹنا پڑا اور گھوڑے کو اس زاویے سے سم مارنے کے لیے سات دن تربیت دی گئی ۔ جلد بازی نہیں ہے ۔ نہ ہی کردار کمزور ہے ۔ یہ کردار کے ایک پہلو کو اسٹیبلش کر دینے کی کوشش ہے ۔ اور عثمان کا کردار مجھے بہت جاندار لگا ہے ۔ تھوڑا صبر کر جائیے، سلطنت عثمانیہ کے پہلے بادشاہ کے لیے ترکوں نے غلط کردار یقینا نہیں چنا ہو گا ۔ بس تھوڑا وقت لگے گا ۔

چھٹی وجہ ہے کہ جو ہمارے اپنے تھے وہ اچانک غائب ہو گئے ۔ اماں حائمہ کے بغیر خیمہ صحرا دکھتا ہے ، ترگت کے بغیر قبیلہ یتیم لگتا ہے ۔ بچے بڑے ہو گئے ، کردار بدل گئے ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے میں برسوں بعد اسلامی یونیورسٹی کے کویت ہاسٹل گیا تو وہاں سب اجنبی تھے ۔ جن کے قہقہوں سے درودیوار گونجا کرتے تھے ان مین سے ایک چہرہ بھی وہاں نہیں تھا، ۔ لمحے میں جی بھر گیا ۔ نہ سرسراتی ہوا روک پائی نہ بندروں کے غول اچھے لگے ۔ سارے رنگ ہی پھیکے تھے ۔

آصف محمود (کالم نگار)

تبصرے
Loading...