50ممالک، 150 بسیں، خواتین کا ‘وجدان کانوائے’ استنبول سے شامی سرحد کی طرف روانہ

0 1,046

اسد رجیم کی طرف سے قید کی جانے والی نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر آگاہی کے لیے دنیا بھر سے آنے والی خواتین منگل کے روز استنبول سے شامی سرحد کی طرف روانہ ہوئیں۔

وجدان کانوائے 150بسوں پر مشتمل ہے جس پر دنیا کے 50 ممالک سے آئی خواتین سوار ہوں گے۔ استنبول ینی کابی اسکوائر پر روانگی سے قبل پریس کانفرنس میں کانوائے کو "شام کی مظلوم خواتین کی آواز” قرار دیا گیا۔

اس کانوائے کا انتظام مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ترک خواتین نے کیا ہے۔ جس میں سماجی رہنما، وکلاء، اساتذہ، آرٹسٹس، اتھیلٹس اور گھریلو خواتین شامل ہیں۔ وجدان کانوائے میں آر ٹی اردو کی استنبول میں نمائندگان بھی شامل ہیں۔

شرکت کرنے والی عالمی خواتین میں پاکستان کی ممبر اسمبلی عائشہ سید، منیزہ حسن اور دوسری پارلیمانی خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یوکرائن، افغانستان، ملائشیا، نیلسن منڈیلا کی بیٹی رائن روز منڈیلا پیری، اسکاٹش خاتون صحافی اور خواتین کے حقوق کی نمائندہ ایون ریڈلے اور قطر کی رائل فیملی سے تعلق رکھنے والی آسیہ وحید الرابیعہ بھی شریک ہیں۔

بوسنیا سے 200 سے زائد خواتین وجدان کانوائے میں شرکت کے لیے استنبول پہنچیں۔

وجدان کانوائے شامی بارڈر کی طرف اپنے سفر کے دوران ازمیر، سکرایا، انقرہ اور ادانہ میں بھی رکے گا۔ کانوائے 8 مارچ کو شامی سرحد پر پہنچے گا۔

 

تبصرے
Loading...