ہم تب تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک ہمارے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ایردوان

0 821

امریکہ میں ترک اور مسلمان کمیونٹیز کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا، "شامی بچے اب عفرین، الباب اور جرابلس میں بلا کسی خوف کے اپنے اسکولوں میں جاتے ہیں جب ہم نے وہاں دہشتگردوں کی کھلی آزادی کو ختم کر دیا۔ ان شاء اللہ ہم شام میں مزید محفوظ علاقے قائم کرنا جاری رکھیں گے جس میں فرات کا مشرقی حصہ بھی شامل ہے۔ ہم تب تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک ہمارے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور جب تک ان گینگز کا صفایا نہیں ہو جاتا جو شام کے مستقبل پر حملہ آور ہیں”۔

ترک صدر اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک میں موجود ہیں اور انہوں نے ترکش امریکن نیشنل سٹیرنگ کمیٹی کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب سے خطاب کیا۔

امریکہ میں مقیم ترکوں نے امریکی جھوٹ کو پھیلنے سے روکنے میں قابلِ ذکر کوشش کی ہے

ترک صدر نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ امریکہ میں مقیم ترکوں نے 1915ء واقعات کے متعلق امریکی جھوٹ کو پھیلنے سے روکنے میں قابلِ ذکر کوشش کی ہے، ترک کے رضاکارانہ سفراء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دنیا بھر میں پھیلے 6 ملین ترک شہری جن کی زیادہ تعداد یورپ میں مقیم ہے، انہیں متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملک رہنے والے ترک شہری جو سیاست سے آرٹس، سائنس سے تجارت اور کھیل سے ثقافت تک کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں ان کی ذمہ داری ہے کہ ترکی کی ترویج کریں۔

ہماری محبتوں کی سرحدیں، ہماری ظاہری سرحدوں سے بہت زیادہ وسیع ہیں

صدر ایردوان نے کہا، "ہماری محبتوں کی سرحدیں، ہماری ظاہری سرحدوں سے بہت زیادہ وسیع ہیں”۔ مزید کہا، "اسی لیے ہم نے رخائن (روہنگیا) میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے رستے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ہے حالانکہ وہ ہمارے ساتھ کوئی جغرافیائی تعلق نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جغرافیائی فاصلوں کے باوجود صومالیوں کے مسائل کا خیال رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ترک ریاستوں میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے اپنے تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی مظلوم یا محکوم شخص ہو ہم اس کا خیال رکھتے ہیں۔ اور خاموش لوگوں کی آواز بنتے ہیں۔ ہمارے امریکی مسلمان بھائی اور بہن بھی ہماری محبتوں کی سرحد میں شامل ہیں جس کی حدیں دور تک پھیلی ہوئی ہیں اور اس کا کوئی فاصلہ اور نہ کوئی رکاوٹ۔ اس سوچ کے ساتھ ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ سے اپنا تعلق ایسی تنظیموں کے ذریعے اور براہ راست آپ سے رابطہ کر کے مضبوط کرتے چلے جائیں گے”۔

ہم شام میں محفوظ علاقوں کا قیام جاری رکھیں گے

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا، "ان شاء اللہ ہم شام میں مزید محفوظ علاقے قائم کرنا جاری رکھیں گے جس میں فرات کا مشرقی حصہ بھی شامل ہے۔ ہم تب تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک ہمارے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور جب تک ان گینگز کا صفایا نہیں ہو جاتا جو شام کے مستقبل پر حملہ آور ہیں۔ ہم اپنے بیت المقدس کو نہیں چھوڑیں گے جو ہم قبلہ اوّل ہے۔ جو اس وقت غاصبوں اور ریاستی دہشتگردی کرنے والوں کے چنگل میں ہے”۔

صدر ایردوان نے کہا کہ وہ امریکہ اور اسرائیلی انتظامیہ کے خلاف اعلٰی سطحی سفارتکاری کریں گے جنہوں نے بیت المقدس کی عظمت اور وقار پر حملہ کیا ہے”۔

تبصرے
Loading...