ترکی میں کروناوائرس کے ہاتھوں نواں بزرگ جاں بحق، مریضوں کی تعداد 670 تک جا پہنچی

0 254

وزیر صحت فخر الدین کوجا نے اعلان کیا ہے کہ مزید پانچ بزرگ شہری جاں بحق ہو گئے ہیں کہ قوتِ مدافعت کی کمی کی وجہ سے متاثر تھے۔ اب ترکی میں کروناوائرس (COVID-19) سے جاں بحق ہونے والی کی تعداد نو تک جا پہنچی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ "اب مریضوں کی تعداد بڑھتے ہوئے 670 ہو گئی ہے، اور 3656 مشتبہ مریضوں میں سے 311 کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تمام ہلاکتیں بزرگ شہریوں کی ہوئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بزرگوں کی بہتر دیکھ بھال پر توجہ دی جائے۔

گو کہ ترکی میں ابھی تک جامع لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا، لیکن بڑھتے ہوئے اقدامات ساتھ ہی صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی ہدایات کی وجہ سے روزمرہ زندگی پر واضح اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سڑکیں خالی ہیں اور معروف عمارات اور چوک چوراہے ویران پڑے ہیں، جہاں کبھی تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی تھی، وہاں اب زندگی کی کوئی رمق نظر نہیں آتی۔

ترکی نے جمعے کو ایک اعلان کیا تھا کہ جس کے مطابق اپریل کے اختتام تک تمام سائنسی، ثقافتی و فنی تقریبات ملتوی کر دی گئی ہیں تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ موجودہ رحجان کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ ہفتے ایک اعلان میں شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ کم از کم تین ہفتوں کے لیے اپنے گھروں تک محدود رہیں البتہ انہوں نے کرفیو لگانے کا اعلان نہیں کیا۔ عوام کی اکثریت نے اس مطالبے پر لبیک کہا ہے اور بہت کم لوگ باہر نظر آ رہے ہیں۔

حکومت کے ساتھ ساتھ بلدیات نے بھی اس سلسلے میں اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے شہر استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو نے شہر بھر میں پھیلے کھلے بازاروں سے وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے کیونکہ یہاں عوام کی بڑی تعداد آتی ہے۔ اس لیے ان کو محدود کیا جائے گا اور یہاں پر صرف اشیائے خورد و نوش ہی فروخت کی جا سکتی ہیں۔ ساتھ ساتھ شہر بھر میں "disinfection stations” بنائے جائیں گے تاکہ ٹیکسی اور منی بس وغیرہ کے لیے disinfection سروس پیش کی جا سکے ۔ ساتھ ہی ماس ٹرانزٹ سروسز کو رش کے اوقات کے علاوہ محدود کیا جائے گا۔ انہوں نے بزرگ شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ انتہائی ضرورت کے بغیر پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال نہ کریں۔

تبصرے
Loading...