کروناوائرس سے عالمی سیاحت کو 1 ٹریلین ڈالرز کے نقصان کا اندیشہ

0 80

کروناوائرس کی عالمگیر وباء سیاحت کی عالمی صنعت کو 1 ٹریلین ڈالرز کا نقصان پہنچا سکتی ہے اور دنیا بھر میں 5 کروڑ نوکریاں ختم کر سکتی ہے۔ گلوبل ٹورازم فورم (GTF) کا کہنا ہے کہ ترکی میں بھی کئی ہوٹل اور دیگر سیاحتی کاروبار اس کی زد میں آئیں گے۔

GTF کے مینیجنگ ڈائریکٹر بلوت باغچی نے کہا کہ عالمی سیاحت مارکیٹ کی سالانہ آمدنی اوسطاً 1.7 ٹریلین ڈالرز ہے اور اس وباء کی وجہ سے اقتصادی خسارہ پہلے ہی 600 ملین ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سال کے اختتام تک یہ خسارہ کم از کم 1 ٹریلین ڈالرز ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاحت سے منسلک شعبہ جات کو بھی ملایا جائے تو کُل خسارہ 5 ٹریلین ڈالرز تک پہنچ سکتا ہے۔ سیاحت کم از کم 60 شعبوں کو متاثر کرتی ہے اور اگر اس وباء پر قابو پا بھی لیا جائے تو بحالی کا عمل آسان نہیں ہوگا۔

باغچی نے کہا کہ وائرس کے اثرات ہر روز بڑھتے جا رہے ہیں اور اس کے تیزی سے پھیلاؤ اور حکومت کی جانب سے آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی کی وجہ سے سیاحتی شعبے کی تقریباً 70 فیصد سرگرمیاں رُک گئی ہیں۔

ٹورازم اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق اِس سال بین الاقوامی سفر میں کم از کم 10.5 فیصد کی کمی متوقع ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تاریخ میں سب سے بڑی کمی ہوگی۔

ترکی میں سیاحت ایک بہت اہم شعبہ ہے اور ملک کی معیشت کاتقریباً 12 فیصد رکھتا ہے۔ رواں سال کے آغاز پر ترکی کے لیے حالات امید افزاء تھے کیونکہ کہ اس سرد موسم میں بھی جنوری میں 18 لاکھ سیاحوں کی آمد کے ساتھ ترکی نے گزشتہ کئی سال کا بہترین جنوری گزارا۔ لیکن اس کے بعد سے کروناوائرس کی وجہ سے حالات خراب ہوتے چلے گئے۔ ترکی تقریباً 60 ممالک کے لیے پروازیں معطل کر چکا ہے جن میں چین، ایران اور جرمنی بھی شامل ہیں کہ جہاں سے سیاحوں کی بڑی تعداد ترکی آتی ہے۔

صدر رجب طیب ایرودان نے رواں ہفتے شعبہ سیاحت کی مدد کے لیے نومبر تک کا ٹورازم اکوموڈیشن ٹیکس معطل کر دیا ہے۔

باغچی نے یہ بھی کہا کہ دنیا بھر کی ایئرلائنز کو سب سے زیادہ مالی بحران کا سامنا ہوگا۔ جبکہ ہوٹل بھی سخت مسائل سے دوچار ہوں گے۔

تبصرے
Loading...