بنگلہ دیش: بڑی اپوزیشن رہنماء کو پانچ سال کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا

0 1,147

بنگلہ دیش کے صدر مقام ڈھاکا کی عدالت نے اپوزیشن رہنماء اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو بدعنوانی کیس میں 5 سال کے لیے قید کی سزا سنا دی ہے۔

جج محمد اختر الزمان کی خصوصی عدالت نمبر 5 نے دو مرتبہ وزیر اعظم رہنے والی رہنماء کو قید با مشقت کی سزا سنائی۔ انہوں نے 632 صفحات پر مشتمل فیصلے کے کچھ حصے عدالت میں پڑھ کر سنائے۔

بنگلہ دیش کے وزیر قانون اور پارلیمانی امور نے عدالتی فیصلے کے بعد کہا کہ "فیصلہ نے ثابت کر دیا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہیں ہے”۔

خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت "بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی” کی چیئر پرسن ہیں۔ انہیں اور ان کے 5 ساتھیوں کو ضیاء یتامیٰ ٹرسٹ میں فنڈز کی خرد برد پر عدالت میں لایا گیا تھا۔

ضیاء کے بڑے بیٹے اور وارث توفیق الرحمن کے ساتھ 4 دیگر افراد پر 10 سال کے لیے سیاست پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔ توفیق الرحمان پارٹی کے وائس چیئرپرسن بھی ہیں اور گذشتہ 9 سالوں سے لندن میں رہائش پذیر ہیں۔

تمام 6 ملزموں پر سابق صدر بنگلہ ضیاء الرحمن کے نام پر قائم ضیاء یتامیٰ ٹرسٹ میں صدقات و خیرات کے طور پر 21 ملین ٹکا غیر ملکی فنڈنگ میں خرد برد اور غبن کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلہ دسمبر 2018ء کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ برسر اقتدار عوامی لیگ کی سربراہ حسینہ واجد اپنے سیاسی مخالفین پر عدالتی جبر کے طور مشہور ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے پاکستان حامی بنگلہ دیش کی تیسری بڑی پارٹی جماعت اسلامی کی پہلی اور دوسری سطح کی قیادت کو 1971ء میں پاکستان کی حمایت کرنے کے الزامات میں پھانسی دلوا دی تھی اور ہزاروں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو قید کر دیا تھا۔

دسمبر میں ہونے والے سے قبل دوسری بڑی سیاسی پارٹی کو سیاسی بحران میں دھکیلنے میں حسینہ واجد کا سیاسی مستقبل روشن ہو جائے گا۔

تبصرے
Loading...