گرفتار داعش رہنما آیا صوفیا پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، تحقیقات میں انکشاف

0 190

ترک پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے داعش کے سینئر لیڈر کا منصوبہ آیا صوفیا جامع مسجد پر حملہ کرنا تھا، اس کے علاوہ چند سیاست دان، غیر سرکاری انجمنیں (این جی اوز) اور ترکی کی دیگر اہم شخصیات بھی اُس کے نشانے پر تھیں۔

وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو نے منگل کو بتایا تھا کہ محمود اوزدین، جس کا خفیہ نام ابو حمزی ہے اور وہ داعش کا نام نہاد "ترکی امیر” ہے، جنوبی صوبہ ادانہ میں ایک انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے دوران پکڑا گیا تھا۔ "وہ 20 اگست سے حراست میں ہے، تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور اس نے تحقیقات کے دوران اقرارِ جرم بھی کیا ہے، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ڈجیٹل صورت میں بہت سا مواد ضبط کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔”

سوئیلو نے بتایا کہ ڈجیٹل مواد میں عراق اور شام میں داعش کے دہشت گردوں کی جانب سے ملنے والی ہدایات اور ساتھ ساتھ دہشت گرد گروپ کے ترکی میں نئے ڈھانچے کے حوالے سے معلومات بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان کے اہداف اور حملے کے لیے 10 سے 12 افراد کی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایات بھی پتہ چل گئی ہیں۔

وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ آپریشنز میں دوسرے داعش دہشت گرد بھی پکڑے گئے ہیں اور ان سے بیانات لینے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

پولیس نے شام اور عراق میں موجود دہشت گرد رہنماؤں کی جانب سے ملنے اولی ہدایات کو ڈی کوڈ کر لیا ہے، جس میں وکلاء اور اراکین اسمبلی کے اغواء، ادانہ میں انجرلک ایئربیس پر حملہ اور دوسرے منصوبے شامل ہیں۔

دہشت گرد رہنماؤں کی گرفتاری کا عمل ایک دہشت گرد حسین صغیر کی گرفتاری سے شروع ہوا، جو استانبول کے مشہور تقسیم چوک پر حملے کی منصوبہ بندی بنا رہا تھا۔ تحقیقات نے ظاہر کیا کہ صغیر کو حملے کے لیے اوزدین سے ہدایات مل رہی ہیں۔ اوزدین دیہی علاقوں میں مختلف سرگرمیوں کے لیے چند دہشت گرد گروپ تشکیل دے چکا تھا، جن میں نئی بھرتیاں، سامانِ رسدکی خریداری اور دہشت گردوں کے لیے رہائش کا انتظام کرنا شامل تھا۔

پولیس نے صغیر کو استنبول کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا اور اس سے اسلحہ بھی برآمد کیا۔ صغیر شامی سرحد کے قریب واقع ترک صوبے غازی عنبت سے استانبول پہنچا تھا اور تقسیم چوک کے قریب حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حال ہی میں گرفتار ہونے والا دہشت گرد لیڈر اسلحہ اور گولا بارود چھپانے کے لیے جنگل میں نئے مقامات کی تلاش میں تھا کہ دھر لیا گیا۔ وہ شام میں پکڑے جانے والے داعش کے دہشت گردوں کی رہائی کے لیے کسی اہم شخصیت کو اغواء کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

استانبول پولیس اس کی گرفتاری کے بعد ایک ایسے دہشت گرد سیل کو پکڑنے میں بھی کامیاب ہوئی جو اوزدین سے ہدایات لیتا تھا۔

پچھلے منگل کو پولیس نے آٹھ صوبوں میں انسداد دہشت گردی آپریشن کیا اور داعش سے تعلق رکھنے والے 11 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔

اوزدین کو عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے کے بعد استانبول کی سلوری جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔

48 سالہ داعش رہنما کو بھرتی ہونے والے ہر دہشت گرد پر 7 ہزار ڈالرز ملے۔ پولیس نے 2017 میں دہشت گرد بھرتی کرنے پر پہلے بھی اوزدین کو گرفتار کیا تھا لیکن عدالت نے اسے رہا کر دیا تھا۔ پھر 2019 میں ادانہ صوبے میں مقامی دکان داروں سے بھتہ لینے پر بھی اس کی گرفتاری عمل میں آئی تھی، جبکہ اس کے ساتھ پکڑے گئے دوسرے دہشت گردوں نے اعتراف کیا تھا کہ انہیں چند خلیجی ریاستوں سے مالی مدد بھی ملتی ہے، جسے وہ زکوٰۃ قرار دے رہے تھے۔ان ملکوں میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی شامل ہیں۔

گو کہ یہ دہشت گرد گروپ عراق اور شام سے بڑے پیمانے پر ختم ہو چکا ہے، لیکن اس کی موجودگی اب بھی ایک خطرہ ہے، خاص طور پر انفرادی سطح پر ان کے نظریات سے متاثرہ لوگ دوسروں کو تشدد پر اُکسا سکتے ہیں۔

ترکی نے 2013 میں داعش کو دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا اور تب سے وہ ملک میں متعدد حملے کر چکی ہے، جن میں 10 خودکش حملے، سات بم دھماکے اور چار مسلح حملے شامل ہیں کہ جن میں کُل 315 افراد کی جان گئی جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔

جواب میں ترکی نے ملک کے اندر اور باہر کئی فوجی اور پولیس آپریشنز کیے، جن میں ترکی اور شام میں داعش کے اہم رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔

ترک انٹیلی جنس نے داعش کے رہنما ابو بکر بغدادی کے قریبی افراد کو گرفتار کرکے اور انہیں عراق کے حوالے کرکے اس کی ہلاکت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے چند سالوں میں داعش کے خلاف آپریشن کے دوران کم از کم 2 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور 7 ہزار دیگر کو ملک سے بے دخل کیا گیا ہے، جبکہ تقریباً 7 ہزار افراد کو دہشت گرد گروپ کے ساتھ مشتبہ تعلقات کی وجہ سے ملک میں داخل ہونے سے روکا گیا۔

تبصرے
Loading...