شامی افواج کو پہنچنے والا نقصان ترکی کی زبردست ڈرون صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے

0 1,637

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی کئی حالیہ وڈیوز میں ترکی کے مقامی طور پر تیار کردہ ڈرونز کو شام کی بشار اسد حکومت کے ٹینکوں سے لے کر توپوں تک بہت سے فوجی اثاثوں کو تباہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی نے فضائی دفاع کی صلاحیتوں میں کتنا کمال حاصل کیا ہے۔

ادلب میں ترکی کی جوابی کارروائی اور گولا باری کا سبب جمعرات کو کیا گیا وہ شامی حملہ ہے کہ جس میں 33 ترک فوجی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ وزیرِ دفاع خلوصی آقار نے بتایا ہے کہ اس کے جواب میں کم از کم 2,200 شامی فوجی، ایک ڈرون، آٹھ ہیلی کاپٹر، 103 ٹینک، درجنوں توپیں اور تین ایئر ڈیفنس سسٹمز کو ٹھکانے لگایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک کلپ میں ایک روسی ساختہ Pantsir-1 ایئر ڈیفنس سسٹم کو کام دیکھا جا سکتا ہے کہ جسے ترکی کے مقامی طور پر تیار کردہ ANKA ڈرون نے MAM-L اسمارٹ ایمونیشن پروجیکٹائل کے ذریعے ٹھکانے لگا دیا۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تباہ ہونے سے پہلے ڈیفنس سسٹم کا ریڈار متحرک تھا جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ آنے والے میزائل یا ڈرون کی موجودگی سے مکمل بے خبر تھا۔

دیگر کچھ وڈیو کلپ بھی سامنے آئے ہیں جن میں ترکی کے ڈرونز کو ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں، اسلحہ ڈپو، بھاری مشین گنوں اور شامی فوج کے اہلکاروں کو نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

آقار نے کہا کہ ترک فوج نے 27 فروری کو ہونے والے حملے کے جواب میں ادلب میں آپریشن اسپرنگ شیلڈ شروع کر دیا ہے۔ ترکی ستمبر 2018ء میں روس کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کے تحت مقامی شہریوں کو بچانے کے لیے کام کر رہا ہے، جس کے تحت ادلب کے گرد de-escalation زون میں جارحیت کا مظاہرہ کرنا منع ہے۔

روسی فضائی حملوں کی مدد سے شامی حکومت سال کے آغاز سے ہی حلب اور ادلب کے نواحی علاقوں پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے کہ جو ملک میں حزب اختلاف کا آخری گڑھ ہیں۔ اس پیش رفت نے لاکھوں شامی شہریوں کو ترکی کی سرحدوں کی جانب سفر پر مجبور کر دیا ہے کہ جو 9 سالہ جنگ میں سب سے بڑی ہجرت ہے۔

آپریشن اسپرنگ شیلڈ شمالی شام میں ترکی کا چوتھا فوجی آپریشن ہے۔

ترکی نے 9 اکتوبر 2019ء کو شمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں موجود YPG کے دہشت گرد عناصرکے خاتمے کے لیے آپریشن پیس اسپرنگ شروع کیا تھا تاکہ ترکی کی سرحدوں کو محفوظ بنایا جائے، شامی مہاجرین کی بحفاظت واپسی میں مدد دی جائے اور شام کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنایا جائے۔

آپریشن پیس اسپرنگ کے علاوہ ترکی نے دریائے فرات کے مغربی کنارے پر اپنی سرحدوں کے ساتھ YPG اور داعش کے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے دو آپریشنز کیے، اگست 2016ء میں آپریشن فرت شیلڈ اور جنوری 2018ء میں آپریشن اولِو برانچ۔

ان تمام آپریشنز نے ترکی نے مقامی طور پر بنائے گئے فضائی اور دفاعی پلیٹ فارمز استعمال کیے، جو گزشتہ چند سالوں میں دفاعی مصنوعات کی درآمد کو گھٹاتے ہوئے ان کی ملک میں تیاری کے لیے کی گئی کامیاب کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ خاص طور پر مقامی طور پر بنائے گئے ڈرونز بیرکتار TB2 اور ANKA نے ایک اہم کردار ادا کیا اور دنیا پر ظاہر کیا کہ ترکی کی دفاعی صنعت کہاں تک پہنچ گئی ہے۔

ادلب میں حملہ کرنے والے جس ڈرون کی وڈیو منظر عام پر آئی ہے اس نے مقامی طور پر بنائے گئے MAM-L اور MAM-C اسمارٹ مائیکرو میونیشن کا استعمال کیا ہے۔ MAM-L ترکی کا دفاعی ادارہ روکتسان بناتا ہے جسے پہلی بار آپریشن اولِو برانچ میں استعمال کیا گیا تھا۔ 50 پاؤنڈ سے کم وزن اور 1 میٹر سے چھوٹا MAM-L ہر قسم کے ڈرونز کے لیے بنایا گیا ہے اور ساتھ ہی اسے ہلکے طیاروں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے کہ جن میں فضاء سے زمین پر مار کرنے کے لیے وزن بہت اہمیت رکھتا ہے۔

75 ملین ڈالرز کا Pantsir S-1 اس وقت 12 ممالک استعمال کر رہے ہیں اور روس کا ویگنر گروپ اسے لیبیا میں بھی لگا چکا ہے۔ اسرائیل کے بعد ترکی دوسرا ملک بن چکا ہے جس نے اس سسٹم کو تباہ کیا۔

تبصرے
Loading...