ہم پیدوار اور نمو میں چینی ماڈل پر چلیں گے، صدر ایردوان، چینی ماڈل مہملات پر مبنی نظام ہے، داؤد اولو

0 1,353

ترک صدر رجب طیب ایردوان سے الگ ہونے والے سابق ترک وزیر اعظم احمدت داؤد اولو کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے چین کے اکنامک ماڈل کو مہملات پر مبنی نظام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا، "چین کا یہ نظام ماؤ کے غیر جمہوری ثقافتی انقلاب کی آمرانہ باقیات سے ڈھالا گیا ہے۔ کیا ترکی میں ایسا آمرانہ ڈھانچہ قائم کیا جا سکتا ہے؟ یہ انتہائی بڑی بکواس ہے”۔

سابق وزیر اعظم نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے معاشی ماڈل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا، "ترک عوامی جمہوریت کے اس درجے، ترکی کے جدیدیت کے تقریباً 200 سالہ تجربے اور جمہوریت کے 70 سالہ تجربے کو نہ سمجھ سکنے کا حاصل یہ ہے کہ آج ہم ملک میں ایک ایسے ماڈل کی بات کر رہے ہیں جو انتہائی لغو ہے”۔

اس سے قبل ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا تھا کہ ترکی شرح نمو کے معاملے میں چین کے معاشی ماڈل کی پیروی کرے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ترکی یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ سستی اشیاء اور مشنری تیار کرے اور دنیا کو ڈالروں میں بیچ کر زرمبادلہ کمائے جیسا کہ چین نے کیا ہے۔

احمدت داؤد اولو نے کہا، "اگر ہمارا لیرا اس قدر کمزور نہ ہوتا، اور صدر صاحب کی تھسیر درست ثابت ہوتے ہوئے مہنگائی اور سود کی مساوات اس طرح قائم نہ ہوتی تو ہم اس طرح کے کسی معاشی نظام کی بات نہ کر رہے ہوتے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کی جمہوریت سلطنت عثمانیہ سے اٹھی ہے، ہمارے مقامی کونسلروں کے انتخابات 1800ء میں ہوئے تھے۔ ہم ایک جمہوری اور تہذیبی قوم ہیں۔ ہم غربت کے اقدار سے اٹھنے والے ایک آمرانہ طرز کو قبول نہیں کر سکتے ہیں۔

صدر ایردوان نے یہ بھی کہا تھا کہ اس معاملے میں ترکی چین سے زیادہ بہتر پوزیشن کا حامل ملک ہے۔ اول اسے غیر ملکی سرمایہ کاری میسر ہے جبکہ دوسری طرف یہ ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع جس کی وجہ سے ہر دو طرف بہتر اور بروقت ترسیل کے ساتھ مارکیٹ کی توجہ حاصل کر سکتا ہے۔

صدر ایردوان نے ترکی کی حالیہ شرح نمو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس وقت دنیا کی تیز ترین ترقی کرتی معیشت ہیں جن کی برآمدات ایک ریکارڈ قائم کر رہی ہیں۔ یہ ہمارے عزائم اور اہداف کے عین مطابق ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: