27 فروری یوم وفات نجم الدین اربکانؒ – ترک قومی دن کیسے بن گیا؟

0 1,369

27 فروری استاد نجم الدین اربکانؒ کا یوم وفات ہے۔ ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے منگل کے روز ان کی ساتویں برسی پر  انہیں یاد کیا۔ انقرہ میں آق پارٹی کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نجم الدین اربکانؒ کو "ایک عظیم سیاستدان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی "نفرت کی زبان” استعمال نہ کی بلکہ ہمیشہ "الفت کی زبان” کے حق میں رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاست میں نرم الفاظ اور متبسم چہرے لائے۔

منگل کے ہی روز ترک صدر رجب طیب ایردوان نے نجم الدین اربکانؒ کی برسی پر خصوصی پیغام جاری کیا۔ رجب طیب ایردوان نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ان کا سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے ترک ملت میں اعتماد پیدا کیا اور انہیں ترکی کے روشن مستقبل کا یقین دلا دیا۔

 

پروفیسر نجم الدین اربکانؒ ترکی کے سابق اسلام پسند وزیر اعظم تھے، رفاہ پارٹی کے نام سے قائم سیاسی جماعت کے وہ مشہور قائد تھے۔ جن کی اسلام پسند پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں ایک سال کے اندر فوجی مارشل لاء کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس وقت موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوان ان کی پارٹی میں شامل تھے اور انہی کے ٹکٹ پر استنبول کے میئر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے اس جبری علیحدگی پر ایک جلسے سے خطاب کے دوران معروف نظم "مسجدیں ہماری پناہ گاہیں ہیں ۔ان کے مینار ہمارے نیزے ہیں۔ان کے گنبد ہماری ڈھال ہیں اور صالح مسلمان ہمارے سپاہی ہیں” پڑھی تو انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

اس فوجی مارشل لاء کے بعد نجم الدین اربکانؒ اور ان کے ساتھیوں پر پانچ سالہ پابندی عائد کر دی گئی۔ سیاسی حالات جب نارمل ہوئے تو نجم الدین اربکانؒ اور رجب طیب ایردوان کے راستے علیحدہ ہو گئے۔ جس پر نجم الدین اربکانؒ بہت دکھی تھے اور اسے صیہونی سازش قرار دیتے تھے۔ وہ ٹی وی اور جلسوں میں رجب طیب ایردوان پر تنقید کرتے تھے۔ لیکن جب رجب طیب ایردوان سے ان کے بیانات بارے پوچھا جاتا تو وہ کہتے کہ وہ ہمارے استاد ہیں، انہوں نے کوئی غلطی دیکھی ہو گی تو کہا ہو گا اور ہنس کر جواب دینے سے انکار کر دیتے۔

ترکی کی موجودہ برسر اقتدار آق پارٹی کی مرکزی قیادت استاد نجم الدین اربکانؒ کی تیار کردہ تھی۔ جن میں ترک صدر رجب طیب ایردوان، ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم، سابق ترک صدر عبد اللہ گل اور کئی دوسرے رہنماء شامل ہیں۔ نجم الدین اربکانؒ کو آق پارٹی سے علیحدہ دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے لیکن آق پارٹی کی روح میں آج بھی نجم الدین اربکانؒ موجود ہے۔

دنیا پر صہیونی غلبہ نجم الدین اربکانؒ کا خصوصی موضوع تھا، وہ وہ سرمایہ داری اور کمیونزم کو صہیونیوں کی شاخیں سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ صہیونیوں نے دنیا کی معیشت کو کنٹرول کر کے پوری دنیا پر قبضہ جما رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلم دنیا کی آزاد معاشی پالیسیاں بنانے کے اسباب پیدا کرنا اپنا اولین ہدف سمجھتے تھے۔ جیسے ہی آپ وزیر اعظم بنے، آٹھ ممالک کی ڈی ایٹ تنظیم کھڑی کر دی جن اسلامی ممالک کی آبادی چھ کروڑ سے اوپر ہے۔ ان میں  ترکی، ایران، پاکستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، انڈونیشیا ، مصر اور نائیجیریا شامل ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ ممالک اقتصادی طور پر اپنے وسائل کو یکجا کردیں اور اجنبی ممالک پر انحصار کی بجائے آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اُمت مسلمہ کے ممالک کو معاشی آزادی اور ٹیکنالوجی کاراستہ دکھا دیں تو اُمت مسلمہ ایک بڑی قوت بن سکتی ہے۔

نجم الدین اربکانؒ کی اس سوچ کو آق پارٹی نے اپنایا ہے اور ترکی کو بے مثال معاشی ترقی سے گزار کر ایک اہم قوت بنا دیا ہے۔ آج ترکی عالم اسلام کے مسائل پر وہی موقف پیش کر رہا ہے جو استاد نجم الدین اربکانؒ چاہتے تھے۔ آج ترکی دنیا بھر کے محروموں اور مظلوموں کی ویسی ہی مدد کر رہا ہے جس مقصد کے تحت استاد نجم الدین اربکانؒ نے جان سویو (آب حیات) اور ای ہاہا (IHH) کی بنیاد رکھی تھی۔ جیسے جیسے ترکی آگے بڑھ رہا ہے نجم الدین اربکانؒ برابر رہنمائی کر رہے ہیں۔ آج کے ترکی کو نجم الدین اربکانؒ سے علیحدہ رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔

تبصرے
Loading...