ترک اور فلسطینی آج "ماوی مرمرا یکجہتی جہاز” کے واقعہ کی یاد منا رہے ہیں

0 2,083

آج بھی کئی ترکوں اور فلسطینوں کو ترکی کی قیادت میں دنیا کے سینکڑوں انسان حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں پر 2010ء میں غزہ کی ساحلی پٹی کے قریب "ماوی مرمرا یکجہتی جہاز” پر اسرائیلی حملے کا واقعہ یاد ہے۔ اسرائیل کے اس حملے میں 10 ترک شہری شہید ہو گئے تھے۔

اتوار 31 مئی کو، "ماوی مرمرا” پر اسرائیلی حملے کو ایک دہائی مکمل ہو رہی ہے۔ یہ جہاز "آزادی فلوٹیلا” کا ایک حصہ تھا، جس میں امدادی سامان کے ساتھ ساتھ میڈیا کے نمائندوں اور صحافیوں سمیت تقریبا 750 انسانی حقوق اور سیاسی کارکنوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ پاکستان سے صحافی طلعت حسین سمیت 3 پاکستانی شہری بھی اس فریڈم فلوٹیلا کا حصہ تھے۔

اس حوالہ سے، ترک ریلیف آرگنائزیشن "آئی ایچ ایچ” نے استنبول میں "ماوی مرمرا” کے آغاز پر ایک پروگرام کا اہتمام کیا، اس سفر کے دوران جہاز میں سوار افراد کے علاوہ اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بننے والے شہدا کے لواحقین کی بھی شرکت کی۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے بانی صدر اسماعیل یلماز نے کہا کہ "ماوی مرمرا آزادی و یکجہتی” جہاز ایک شفاف اور صاف ستھرا سویلین اقدام تھا، جس کا مقصد انسانیت سوز مسئلہ کو دنیا کے سامنے رکھنا ہے۔

یلماز نے مزید کہا: "اگرچہ ہم بین الاقوامی پانیوں میں تھے، 31 مئی کو ہمارے ساتھ وہ کیا گیا جو انہوں نے 80 سالوں تک ہمارے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کیا۔ بدقسمتی سے، جو ہوا وہ بین الاقوامی پانیوں میں ایک قتل عام تھا۔”

ابراہیم بلجن شہید کے بیٹے اسماعیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد کو شہید ہوئے 10 سال ہو گئے ہیں، یہ دن ہمارے لیے بہت معنی خیز اور اہم ہے”۔

انہوں نے کہا، "اگر ایک سو سال بھی گزر جائیں تو بھی ہم اس واقعہ کو نہیں بھولیں گے، یہ احساس ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ فلسطین اور غزہ کے عوام کیسے اور کن ظالموں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور کس درجے کی تکلیف سہہ رہے ہیں”۔

ماوی مرمرا 29 مئی 2010ء کو قبرصی بندرگاہ لارناکا سے روانہ ہوئی تھا، اس کو بھیجنے سے قبل اس کے لیے بڑے پیمانے پر تیاری کی گئی تھی۔ تاہم ماوی مرمرا جیسے ہی غزہ کی پٹی کے ساحل کے قریب پہنچا، اسرائیلی فورسز نے اس جہاز پر سوار عام نہتے افراد پر براہ راست فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 10 ترک کارکن شہید ہو گئے۔ اس حملے میں 56 کارکن زخمی بھی ہو گئے تھے۔ جبکہ جہاز میں موجود باقی افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ماوی مرامرا جہاز پر اسرائیلی حملے بعد ترکی اور اسرائیل کے مابین تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفراء کو بے دخل کر دیا تھا۔

اسرائیل نے اس حملے کا جواز پیش کیا کہ داخلے سے قبل اس کا اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ ترکی نے تعلقات کی بحالی کے لیے تین شرائط عائد کیں جن میں حملے پر معافی مانگنا، متاثرین کو معاوضہ ادا کرنا اور غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنا شامل تھا۔

اسرائیل نے اس وقت ان شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا جس پر ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو باقاعدہ منقطع کر دیا اور اسرائیل کے ساتھ تمام فوجی معاہدوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

ماوی مرمرا پر ہونے والے حملے کو ایک قانونی جنگ کی صورت عالمی عدالت میں پیش کیا گیا، یہ فائل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں پیش کی گئیں۔

2014ء میں بین الاقوامی فوجداری عدالے کے پراسیکیوٹر، فتوؤ بینسودا نے یہ کہتے ہوئے اس کیس کو بند کرنے کا کہ کہ "حقائق ناکامی اور غیر سنجیدہ ہیں”۔ فوجداری عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران 2017ء اور 2019ء میں بینسودا کے فیصلے کی تصدیق کی۔ یوں دسمبر 2019ء میں اس فائل کو مکمل طور بند کر دیا گیا۔

دوسری طرف اسرائیل نے ترکی سے بیک ڈور روابط کے ذریعے شرائط پر بات چیت شروع کی اور انہیں قبول کیا۔ اس واقعہ پر غیر مشروط معافی مانگ پر ہرجانہ کی ادائیگی کی گئی اور محاصرہ ختم کرنے کے بجائے ترکی کو غزہ تک مکمل رسائی فراہم کی گئی۔

تبصرے
Loading...