سیواس کانگریس کے فیصلے قوم کے منشورِ آزادی کے نمائندہ ہیں، طیب ایردوان

0 535

سیواس کانگریس کے 100 سال مکمل ہونے پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "سیواس کانگریس میں کیے گئے فیصلے ہماری قوم کے اپنے مشکل ترین وقت میں پوری دنیا کے سامنے منشورِ آزادی کے نمائندہ ہیں۔ ایک صدی بعد ہم ایک مرتبہ پھر کہتی ہیں کہ ہماری سرحدوں کے اندر مختلف علاقوں کو مینڈیٹ میں لینے اور ان کی سرپرستی مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے، ہمارا وطن من حیث المجموع ایک ہے اور اسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے سیواس کانگریس کے 100 سالہ جشن سے خطاب کیا۔

"ہماری جدوجہدِ آزادی کے اہم ترین سنگِ میل سیواس کانگریس کے 100 سال مکمل ہونے پر خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک، قوم اور مستقبل کی اچھے نتائج کی طرف رہنمائی کرے،” صدر ایردوان نے کہا۔ "میں جنگِ آزادی کے کمانڈر اِن چیف اور ہماری جمہوریہ کے بانی غازی مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھیوں کو احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔”

"سیواس ہماری قومی جدوجہد اور جمہوریہ کا پہلا مرکز ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ سیواس کانگریس اور 4 ستمبر 1919ء کی تاریخ ہماری جنگِ آزادی کے اہم ترین مراحل میں سے ایک ہیں اور اس عظیم قوم کی یاد میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ کیونکہ یہ سیواس ہی کا مقام تھا کہ جہاں قومی جدوجہد کا شعلہ پہلی بار بھڑکا اور جنگِ آزادی کی تیاریوں کا آغاز ہوا کیونکہ اُس زمانے میں کوئی دوسری جگہ اس سے زیادہ محفوظ نہیں تھی۔ بالفاظِ دیگر سیواس ہماری قومی جدوجہد اور جمہوریہ کا پہلا مرکز ہے۔”

قوم کی طرف سے اپنے مشکل ترین وقت میں سیواس کانگریس میں کیے گئے فیصلوں کو پوری دنیا کے سامنے منشورِ آزادی کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے صدر ایردان نے کہا کہ "ایک صدی بعد ہم ایک مرتبہ پھر کہتی ہیں کہ ہماری سرحدوں کے اندر مختلف علاقوں کو مینڈیٹ میں لینے اور ان کی سرپرستی مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے، ہمارا وطن من حیث المجموع ایک ہے اور اسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔”

تبصرے
Loading...