آیاصوفیا بحیثیت مسجد بحال، فیصلے پر عوام کا زبردست خیر مقدم

0 457

ترکی کی اعلیٰ عدالت کی جانب سے آیاصوفیا کی عجائب گھر کی حیثیت ختم کرنے کے بعد عوام کی بڑی تعداد تاریخی عبادت گاہ کے سامنے جمع ہو گئے۔ اس موقع پر اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے گئے اور اذان کی آواز کو پورے احترام اور خاموشی کے ساتھ سنا بھی گیا۔

اس موقع پر عوام کی جانب سے گفتگو کرتے ہوئے مجاہد چیلک نے کہا کہ "آج ایک تاریخی دن ہے، وہ دن جس کا 86 سال سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ اب ہماری نظریں آیاصوفیا میں نماز کی ادائیگی پر ہیں۔”

ترکی کی سیکولر حکومت نے 1934ء میں ایک سرکاری فرمان کے ذریعے اِس عبادت گاہ کو ایک عجائب گھر میں تبدیل کردیا تھا۔

اس تاریخی فیصلے کے بعد آیاصوفیا کے سامنے جمع ہونے والے افراد میں 75 سالہ اسماعیل قندہ میر بلاشبہ سب سے زیادہ خوش تھے۔ قندہ میر اس ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں کہ جس نے آیاصوفیا کو دوبارہ مسجد بنانے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں بہت خوش ہوں، اور وہاں پہلی نماز کے دوران بھی موجود ہوں گا۔” ان کا کہنا ہے کہ اب ان کے گروپ کا پہلا ہدف عثمانی سلطان محمد فاتح کی جانب سے یونان میں تعمیر کرائی گئی پرانی مساجد کو اُن کی پرانی حیثیت واپس دلانا ہے۔ عثمانی سلطان کی جانب سے 1458ء میں تعمیر کروائی گئی فاتحیہ مسجد اس وقت ایک نمائشی گیلری کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے۔

ترکی کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے جمعے کو 1934ء کے آیاصوفیا کو عجائب گھر میں تبدیل کرنے کے سرکاری فرمان کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا کہ جس نے اب استنبول کی مشہورِ زمانہ آیاصوفیا کو مسجد کے طور پر استعمال کرنے کی راہ کھول دی ہے۔ عدالت کے فیصلے پر صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی فرمان پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت آیاصوفیا ترکی کی وزارت مذہبی امور کو حوالے کر دی جائے گی اور اسے عبادت کے لیے کھول دیا جائے کا۔

عدالت نے کہا کہ آیاصوفیا اصل دستاویزات میں بطور مسجد رجسٹرڈ ہے، اور یہ فرمان کہ اسے مسجد کے سوا کسی بھی کام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، قانوناً ممکن نہیں تھا۔ کابینہ ڈویژن نے 1934ء میں اس کی مسجد کی حیثیت ختم کی تھی اور اسے عجائب گھر قرار دیا تھا، جو قانوناً درست نہیں تھا۔

تبصرے
Loading...