علاقائی ترقی کے لیے تعاون کے کلچر کو فروغ دینا ضروری ہے، صدر ایردوان

0 455

تاجکستان روانگی سے قبل پریس کانفرنس میں صدر ایردوان نے کہا کہ "عالمگیریت کے اثرات کی وجہ سے دنیا کا کوئی خطہ دوسرے خطوں سے جدا نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس لحاظ سے خارجہ پالیسی میں متعدد ممالک کے مؤثر یکساں اتحاد (multilateralism) نے خاص اہمیت اختیار کرلی ہے۔ اتحاد و یگانگت کئی مسائل کے حل کی کلید ہے۔ تعاون اور اشتراک کا کلچر علاقائی کے لیے بھی بہت اہم ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے تاجکستان کے لیے روانگی سے قبل استنبول اتاترک ایئرپورٹ کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کی۔ وہ تاجکستان میں ایشیا میں باہمی تعامل اور اعتماد کی بحالی کے اقدامات (CICA) پر سربراہانِ مملکت کے پانچویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔

"ایشیا میں امن و تحفظ ترکی کے لیے اہم ہے”

صدر مملکت نے کہا کہ وہ اس اجلاس کے دوران شریک سربراہانِ مملکت سے تعاون کے مواقع مستحکم کرنے کے طریقوں پر بات کریں گے جو "ایک محفوظ اور زیادہ ترقی یافتہ CICA خطے کے لیے مشترکہ وژن” کے موضوع پر ہوگا۔ صدر ایردوان نے کہا کہ "عالمگیریت کے اثرات کی وجہ سے دنیا کا کوئی خطہ دوسرے خطوں سے جدا نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس لحاظ سے خارجہ پالیسی میں متعدد ممالک کے مؤثر یکساں اتحاد (multilateralism) نے خاص اہمیت اختیار کرلی ہے۔ اتحاد و یگانگت کئی مسائل کے حل کی کلید ہے۔ تعاون اور اشتراک کا کلچر علاقائی کے لیے بھی بہت اہم ہے۔” صدر نے مزید کہا کہ ایشیا کا امن، سلامتی اور سالمیت ترکی کے لیے اہم ہے۔

"اگر شامی حکومت ادلب میں چوکیوں پر حملے جاری رکھتی ہے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے”

صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے صدر ایردان نے ادلب میں ہونے والی پیشرفت کے ایک سوال پر کہا کہ اگر خطے کے حوالے سے ترکی پیشرفت نہ کرتا تو اس وقت صورت حال بالکل مختلف ہوتی ہے اور خطے کے مسائل ترکی کے روس سے لے کر سوچی اور استانا عمل تک کے بارے میں اندازوں کی بدولت کم ہوئے۔ حالیہ کچھ عرصے میں ہونے والی ناپسندیدہ پیشرفت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے شامی حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ادلب میں ترکی کی مشاہداتی چوکیوں پر حملے جاری رکھتی ہے تو ترکی کے لیے خاموش رہنا ناممکن ہوگا اور وہ ہر ضروری قدم اٹھائیں گے۔ صدر ایردوان نے ادلب میں بیرل اور فاسفورس بموں کے ذریعے ہونے والی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے حملوں پر خاموش نہیں رہیں گے "اس لیے کیونکہ اب ہم خطے میں رہنے والے لوگوں کی جانب توجہ کر رہے ہیں۔ شام میں رہنے والے ہمارے بھائی اور بہنیں کیا کہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں ‘ترکی کو یہاں آنے دو۔’ اور ہم ادانا معاہدے سے بھی صرفِ نظر نہیں کر سکتے۔ معاہدے کے ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے ہمیں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ سے وابستگی جاری رکھنی ہے کہ جو خطے میں مسائل کو جنم دے رہی ہیں۔”

معاہدہ منبج کے حوالے سے ایک سوال پر صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی کے تزویراتی شراکت دار امریکا نے منبج کے حوالے سے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور ترکی منبج، تل رفعت، ادلب اور دریائے فرات کے مشرقی علاقوں کے حوالے سے یکساں کوششیں اور سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

پریس کانفرنس کے بعد صدر ایردوان اور ان کا وفد ترکی سے تاجکستان روانہ ہوگیا۔

تبصرے
Loading...