وولکان بوزکیر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پہلے ترک صدر بن گئے

0 258

معروف ترک سفارت کار وولکان بوزکیر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کےصدر منتخب ہوگئے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے "وہ اقوامِ متحدہ کی رکن ریاستوں کی واضح اکثریت کی مکمل تائید کے ساتھ منتخب ہوئے۔ سفیر بوزکیر 15 ستمبر 2020ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس میں صدر کا عہدہ سنبھالیں گے۔”

بوزکیر کا منتخب ہونا پہلا موقع ہے کہ کوئی ترک سفارت کار اقوام متحدہ میں عہدے پر پہنچا ہو، اور یہ کسی بھی ترک شہری کی جانب سے اقوام متحدہ کا سب سے بڑا عہدہ پانے کی بھی پہلی مثال ہے۔

خفیہ بیلٹ میں بوزکیر نے 178 ووٹ حاصل کیے جبکہ 11 اقوام نے اس عمل میں حصہ نہیں لیا۔

بوزکیر نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ "میں اقوام متحدہ کی تمام رکن ریاستوں کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے مجھے بڑی اکثریت کے ساتھ اقوام متحدہ کی 75 ویں جنرل اسمبلی کا صدر منتخب کیا۔ اقوام متحدہ کے 75 سال مکمل ہونے پر میں اس مشکل مرحلے پر بین الاقوامی امن کی کوششوں کی رہنمائی کروں گا۔”

وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے سابق ترک سفیر کو جنرل اسمبلی کے عہدےکے لیے منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مولود نے کہا کہ "سفیر وولکان بوزکیر صدر مملکت کی ہدایت پر نامزد ہوئے تھے اور اب اقوام متحدہ کے اراکین کی مدد سے 75 ویں جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ اس کامیابی پر ہم انہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں جو ظاہر کرتی ہے کہ عالمی برادری میں ترکی ایک باوقار حیثیت رکھتا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے بھی بوزکیر سے رابطہ کیا اور انہیں مبارک باد پیش کی۔

بوزکیر حکمران انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے استنبول سے رکن ہیں اور ترک پارلیمنٹ کی امورِ خارجہ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔انہیں فارن سروس میں 40 سال تک خدمات انجام دینے کے بعد 2011ء میں ترک مجلس قانون ساز کے لیے منتخب کیا گیا۔ وہ اسٹٹ گارٹ، جرمنی؛ بغداد، عراق، نیو یارک، امریکا اور بخارسٹ، رومانیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ ترکی کے وزیر برائے امورِ یورپ بھی رہ چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...