مسلم ممالک کے مستقبل کو تباہ کرنے کے لیے گھناؤنا کھیل تیار کیا جا چکا ہے، ایردوان

0 440

ترک صدر ایردوان نے 33ویں کام سیک اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ نسلی، مذہبی اور مسلکی اختلاف کو ہوا دے کر مسلمان معاشروں کو تباہ کرنے کا مقصد بنایا جا چکا ہے- انہوں نے کہا: "مسلمانوں کی فالٹ لائنز کو گہرا کیا جانا ان کا مقصد اوّل بن چکا ہے تاکہ مسلم معاشرے اپنے اندرونی اختلافات میں ہی اپنی توانائیاں صرف کرتے رہیں”-

یورپ اپنی تاریخ کے تمام بدنام مظاہر اسلامی دنیا میں منتقل کر کے اپنا مستقبل محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے

ترک صدر نے اسلامی دنیا کو دانشمندی اور دور تک دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا: "اسلامی دنیا کی یکجہتی، اتحاد اور خوشحالی اور سب سے اہم اس کے مستقبل کو تباہ و برباد کرنے کے لیے گھناؤنا کھیل تیار ہو چکا ہے۔ نسلی، مذہبی اور مسلکی اختلاف کو ہوا دے کر مسلمان معاشروں کو اندرونی طور پر تباہ کرنے کا مقصد بنایا جا چکا ہے۔ مسلمانوں کی فالٹ لائنز کو گہرا کیا جانا ان کا مقصد اوّل بن چکا ہے تاکہ مسلم معاشرے اپنے اندرونی اختلافات میں ہی اپنی توانائیاں صرف کرتے رہیں۔ وہ ایک ایسا سماجی ڈھانچہ بنا دینا چاہتے ہیں جس میں پڑوسی اور بھائی مسلسل ایک دوسرے کو دشمن یا اس بھی بدتر خیال کریں اور بحرانوں میں الجھے رہیں۔ سچی بات تو یہ ہے، یورپ اپنی تاریخ کے تمام بدنام مظاہر اسلامی دنیا میں منتقل کر کے اپنا مستقبل محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مسلمانوں کے سارے وسائل ہتھیار بنانے والی کمپنیوں، ان کے صارفین، جنگی پیش گوئی کرنے والوں اور ہاٹ منی بیرن کے ہاتھوں میں جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جو رقم ہمارے نوجوانوں اور عورتوں پر صرف ہونی چاہیے، جو ہمارے شہروں کی تعمیر اور صفائی و تزئین کے لیے استعمال ہونا چاہیے بد قسمتی سے ان کمپنیوں کی تجوریوں میں جا رہی ہے جن کی مالک یورپی ریاستیں ہیں”۔

ہمیں اسٹیج پر ناچنے والی رقاصہ میں گم ہوکر اس کھیل کے پس پشت اصل کرداروں اور اسکرین رائٹروں سے توجہ نہیں ہٹانا چاہیے

صدر ایردوان نے کہا کہ اسلامی دنیا معاشی، سماجی اور سیاسی طور ایک تکلیف دہ اور اضطراب انگیز دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو تباہی اور بربادی اسلامی جغرافیہ میں مچائی گئی ہے اس نے صرف ان کی مادی اور روحانی وسائل کو ہی ملبے کا ڈھیر نہیں بنایا بلکہ ان کے مستقبل کو صدیوں کی مسافت پر دھکیل دیا ہے۔ رجب طیب ایردوان نے مزید کہا: "اس صورتحال کے ظاہری منصوبہ ساز، جنہوں نے ہمارے دل اور کلیجے چیر کر رکھ دئیے ہیں وہ آمر ہیں، جنہوں نے اپنے ہی لوگوں کو پھانسی پر چڑھایا اور ایسی دہشتگرد تنظیمیں ہمارے اندر اٹھانے کا سبب بنے جن کی خوراک خون اور آنسو ہیں۔ ہم نے اپنی نظروں سے دیکھا کہ داعش، القاعدہ، بوکو حرام، وائے پی ڈی اور فیتو جیسے قاتلوں کے غول امڈے اور شام سے عراق تک اور یمن سے لیبیا تک خطے کو خون میں نہلا دیا۔ تاہم ہمیں اسٹیج پر ناچنے والی رقاصہ میں گم ہوکر اس کھیل کے پس پشت اصل کرداروں اور اسکرین رائٹروں سے توجہ نہیں ہٹانا چاہیے”۔

مغرب نے دو تین صدی قبل نوآبادیاتی عہد میں مظلوموں کے خون اور وسائل سے اپنے لیے خوشحالی کا نظام بنایا۔ صدر ایردوان نے کہا کہ یہ جو وہ "نیو نو آبادیاتی عہد” کہتے ہیں اس میں آج بھی مغرب اپنی خوشحالی کو قائم رکھنے کے لیے مظلوموں کے وسائل، لیبر اور زندگیوں کو استعمال کر رہا ہے۔

مغرب کا اصل چہرہ شام اور اراکان میں بے نقاب ہوا

گلوبل نظام جو پہلی جنگ عظیم کے بعد وجود میں آیا اور دوسری جنگ عظیم کے ساتھ مربوط کیا گیا، آج کے دور میں انصاف اور آزادی کے راستے کی سب سے بڑی رکاؤٹ بن چکا ہے۔ صدر ایردوان نے کہا: ” شام میں عرصہ سات سال سے جاری ظلم عام پر جو بے حسی دکھائی گئی، سرحدی دروازوں پر جو مہاجرین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا اور اراکان میں نسل کشی پر جو سکوت مرگ چھایا رہا اس نے مغرب کے اصلی چہرے سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ آج یورپ میں تیزی سے اسلامو فوبیا، نیو نازی ازم اور نسل پرستی…. جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کہ جگہ گھیر رہی ہے”۔

 

تبصرے
Loading...