ترکی میں ایکسچینج ریٹ کا فائدہ اٹھا کر ڈالر اسٹور کرنے والوں کو صدر ایردوان کا سرپرائز

0 2,994

صدر رجب طیب ایردوان کے بیانات جس میں انہوں نے بلند افراط زر اور کرنسی کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے لڑنے کے لیے ترکی کے اقدامات کی تفصیل بتائی تھی، پیر کے شام اس بیان کے فورا بعد لیرا کے مقابلے میں امریکی ڈالر اور یورو کی قدر میں 20 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ آئی۔

سوموار کی شام لیرا کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 12.90 جبکہ یورو کی قیمت 14.60 تک گر گئی۔

صدر ایردوان نے اسی دن ایک بیان میں کہا کہ” ترکی اب درآمدات پر انحصار کرنے والا ملک نہیں رہے گا ،”

انقرہ کے صدارتی کمپلیکس میں کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی اپنے نئے اقتصادی ماڈل پر قائم ہے جو کم شرح سود، اعلی روزگار کی تعداد اور زیادہ سرمایہ کاری کو ترجیح دیتا ہے۔

صدر ایردوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکی آزاد منڈی کی معیشت کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کا نہ تو کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی اسے آزاد منڈی کی معیشت اور زر مبادلہ کے نظام سے پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے۔

صدرایردوان  نے مزید اعلان کیا کہ کسی بھی ترک شہری کو اپنی بچت کو ترک لیرا سے غیر ملکی کرنسی میں منتقل نہیں کرنا پڑے گا۔

ایردوان نے یہ بھی کہا کہ ترک حکومت شہریوں کی بچت کے لیے ایک نیا مالیاتی متبادل پیش کر رہی ہے تاکہ ایکسچینج ریٹ سے متعلق ان کی پریشانیوں کو دور کیا جا سکے – جو حالیہ دنوں میں ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ایکسپورٹ کرنے والی کمپنیوں کے لیے جنہیں ایکسچینج کی شرح میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے قیمتوں کا تعین کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے، انہیں مرکزی بینک کے ذریعے مستقبل میں لیرا کے مقابلے میں محفوظ ضمانت دی جائے گی”۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ کی ادائیگیوں پر روک (کٹوتیوں) کو بھی کم کر کے 10 فیصد کر دیا جائے گا۔

تفصیل جاری ہے۔۔۔ ریفریش کریں

 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: