صدر ایردوان کا ریسکیو پلان، ایک دن میں ڈالر اور یورو کی شرح میں 20 فیصد کمی

0 1,675

صدر رجب طیب ایردوان کے اعلان کے بعد امریکی ڈالر کی شرح میں 20 فیصد سے زیادہ کی کمی آئی ہے۔ صدر نے افراطِ زر کی زیادہ شرح اور کرنسی کے نرخوں میں تیزی سے آنے والی کمی بیشی کو روکنے کے لیے ترکی کے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد ڈالر ترک لیرا کے مقابلے میں گر کر 12.90 پر جبکہ یورو 14.60 پر آ گیا ہے۔

صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ترکی اب درآمدات پر انحصار نہیں کرے گا۔

ایوان صدر میں کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے زور دیا تھا کہ ترکی اپنے نئے اقتصادی ماڈل سے منسلک رہے گا جو کم شرحِ سود، روزگار کے زیادہ مواقع اور زیادہ سرمایہ کاریوں کو ترجیح دیتا ہے۔

صدر ایردوان نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ترکی فری مارکیٹ معیشت سے وابستہ ہے۔ ترکی اپنے عوام کو معمولاتِ زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت سے بچانے سے محفوظ کرنے کا عہد بھی رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی ترک شہری اپنی بچت ترک لیرا سے غیر ملکی کرنسی میں نہیں رکھے گا۔

صدر ایردوان نے یہ بھی کہا کہ ترک حکومت شہریوں کے لیے ایک نیا مالیاتی متبادل لا رہی ہے تاکہ شرح تبادلہ کے معاملات درست ہوں کہ جو حالیہ دنوں میں بلند ترین مقام تک جا پہنچی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "برآمدی اداروں کے لیے جو غیر ملکی زر مبادلہ میں کمی بیشی کی وجہ سے قیمت طے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں مرکزی بینک کے ذریعے ایک مستقل شرح تبادلہ دی جائے گی۔”

حال ہی میں صدر ایردوان نے یہ بھی کہا کہ وہ ترکی کی افراطِ زر کو 4 فیصد تک لائے تھے اور دوبارہ ایسا ہی کرنے کا عزم ظاہر کیا کیونکہ ملک میں افراطِ زر کی شرح 21 فیصد تک جا پہنچی ہے اور جس کی وجہ ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی گرتی ہوئی قدر تھی۔

لیرا کے مقابلے میں ڈالر اچانک کیسے گرا؟

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: