دریلش ارطغرل کا ڈرامہ[Review] – علی عمران

0 1,970

اس پورے سیریز کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ یہ ترکوں کے جد کی تاریخ ہے، بلکہ اس کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس سیریز نے موجودہ دور میں بھی ترکوں کو لازوال طریقے سے اپنی ماضی کیساتھ جوڑنے کا فریضہ یوں انجام دیا کہ اردوگان کے خلاف اٹھنے والی تحریک کو دبانے میں ارتغرل کی فکر نے پوری نوجوان نسل کو متأثر کیا ..اس سیریز کی خصوصی موسیقی ان کی مجالس میں بڑے شوق سے سنی جاتی تھی .اردوغان نے اس ٹیم کا دورہ بھی کیا، ان کے کام کو بھی دیکھا اور ان کیساتھ تصاویر بھی کھینچیں.
ہم کہ عام حالات میں سکرین کو خرافات کا مجموعہ سمجھتے ہیں اور ان سے دور رہنے کی ہی ترغیب دیتے ہیں، مگر وہ کہ جن کو سکرین کے ساتھ تعلق ہے اور جو اس میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کو چاہیئے کہ ضرور اسے دیکھے.

ابھی تک اس کے چار سیزن گذرے ہیں.ہر سیزن میں ستر سے اوپر اقساط ہیں، اردو ڈبنگ یا اردو سب ٹائٹلز کے اعتبار سے..

اس کا پہلا سیزن ایک ہرن کے شکار سے شروع ہوتا ہے، جو بھاگتے بھاگتے ارتغل کو ایک غزال آنکھوں والی لڑکی کے پاس لے جاتا ہے اور یہ ملاقات چرواہوں کے ایک قبیلے کے سردار کے بیٹے اور خود قبیلے کی زندگی بدل دیتی ہے.

کیونکہ یہ بچی سلجوق خاندان کی شہزادی ہوتیہے، جس کے پیچھے صلیبی لگے ہوتے ہیں.پھر جلد ہی یہ ایوبیوں کی پسند بن جاتی ہے.یوں ارتغل کو ایک ساتھ ہی قبیلے، صلیبیوں اور ایوبیوں کی مخالفت مول لینی پڑجاتی ہے اور تب ہی اس کا امتحان اور تربیت شروع ہوجاتی ہے.اور تب ہی کچھ تکوینی قوتیں اس کے ہمراہ ہوکر اسے خیر کے ایک نمائندے کے طور پر دیکھنے، سنبھالنے، تربیت کرنے اور ہمت دلانے لگ جاتی ہیں.ارتغل پہلے قبیلے کے سازشیوں پر قابو پاتا ہے، ایوبیوں کو رام کرتا ہے اور حسن بن صباح کی طرز پر خونی کارروائیاں کرنے والے صیلبیوں کے سروں پر ان کے قلعے کو ڈھا دیتا ہے.
یہ پورا سیزن انہی واقعات پر مشتمل ہے.

چوہتر اقساط پر مشتمل یہ سیزن میرے خیال میں پچاس میں آسانی سے نمٹ سکتا تھا، مگر اسے کچھ زیادہ ہی پھیلا دیا گیا ہے.

بہرحال اس سیریز کی جان دوسرا سیزن ہے.
جب ارتغل کا خانہ بدوش قبیلہ اناطولیہ ہجرت کرتے وقت منگولوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور خود ارتغل اور اسی کی بیوی قبیلے سے باہر گھوڑوں کو پانی پلاتے ہوئے منگولوں کے سامنے آجاتے ہیں. ارتغل بیوی کو بھاگنے کا کہتا ہے اور خود مقابلہ کرنے لگ جاتا ہے، مگر منگول جو اپنے سردار سے اس کے زندہ پکڑے جانے کا حکم لے کر آئے ہوتے ہیں، اس کو زندہ ہی پکڑ لے جاتے ہیں اور یوں ارتغل کو تکالیف اور عذابوں کے جان گسل سلسلے سے گذرنا پڑتا ہے.

اس سیزن میں بھی پہلی دس اقساط بھرپور ہیں، اس کے بعد قبائلی چپقلشوں کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوجاتاہے، جوپچیس اقساط تک چلا جاتا ہے. پینتس سے آگے پھر ارتغل قبیلے سے جڑ جاتا ہے اور منگولوں کیساتھ طویل ترین جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے. منگولوں کا سربراہ نویان ہے، جو چنگیز خان کا قریبی اور معتمد ساتھی رہا ہے.
ارطغل کو بالاخر اشارہ مل جاتا ہے کہ وہ اپنا قبیلہ بازنطینی ریاست کی سرحد پر لے جائے، مگر اس کے بھائی اس کا انکار کرتے ہیں.تاہم ارتغل اپنی ہٹ کا پکا ہوتا ہے، سو وہ اپنے اعتماد کی ایک جماعت کیساتھ روانہ ہوجاتاہے. رستے میں جھڑپوں کے ایک سلسلے کے بعد بالاخر وہ محفوظ ہوجاتاہے.

تیسرا سیزن تب شروع ہوتا ہے، جب ارتغل اور اس کا قبیلہ اپنے مقام پر پہنچ کر دو تین سال گذار چکا ہوتا ہے.

وہ سخت تنگی اور عسرت کا شکار ہوتا ہے.مگر ارتغل اور س کے جانباز آہستہ آہستہ ہانلی بازار پر قبضہ کرلیتے ہیں، یوں ان کی معاشی حالت تو مضبوط ہوجاتی ہے، مگر ایک بار پھر اس کے عیسائی حریفوں اور حلیف قبیلے کی غداری کے مسائل چھڑ جاتے ہیں ..یہ سیزن بڑی جھڑپوں کا ایک شاہکار ہے.پہلے دو سیزنوں میں چند مواقع چھوڑ کر باقی جگہوں پر ارتغل کے اپنے تین جانباز ہی ساتھ ہوتے ہیں، لیکن اب جب ارتغل قبیلے کا سردار بن چکا ہے، تو بہت سے نئے قابل جنگجو بھی سامنے آجاتے ہیں..تاہم ارتغل کی اپنے جانبازوں کیساتھ مل کر جو لڑائی کا ایک خاص انداز ہوتا تھا کہ "ایدر اللہ (الحی اللہ) ” اور "حق اللہ ” کے نعروں میں جب وہ میدان میں کودتے ہیں، تو بیمار جسم میں بھی بجلی پیدا ہوجاتی ہے، وہ منظر واقعی بےمثال ہوتا ہے.

ارتغل کے تین خصوصی جانباز ہوتے ہیں.ان میں سے ایک کلہاڑی استعمال کرتا ہے، دوسرا دونوں ہاتھوں میں تلوار اور تیسرا ڈھال اور تلوار، جبکہ ارتغل بائیں ہاتھ سے تلوار اور دائیں ہاتھ میں ساتھ ہی خنجر استعمال کرتا ہے.

چوتھے سیزن میں ارتغل کاراجا حصار پر بھی قبضہ کرلیتاہے اور صلیبیوں کی بھی گردن مروڑ دیتا ہے اور سوغت کی طرف مراجعت بھی کرجاتا ہے، جو اس سیزن کا اختتام ہوتا ہے.

ارتغل کا کردار ایک بہت مضبوط ایمان، اخلاق اور بہادری کا حامل ایک ایسا نوجوان ہے، جس کا دل جہاد کی محبت سے لبریز ہے، شہادت جس کی منزل ہے اور قبیلے کی روایات کا تحفظ جس کا فریضہ ہے، ایسا کردار کہ جو بھی دل میں ٹھان لیتا ہے، اسے پورا کرکے ہی دم لیتا ہے.

اس کی بیوی حلیمہ کا کردار بھی ایک بہت مثبت اور مثالی کردار ہے، محبت، حلم اور بردباری کا شاہکار، جو ہماری ماؤں بہنوں کو ایک بہترین رستہ دکھا سکتا ہے.

اس کی ماں حائمہ کا کردار شاید سب سے زیادہ مؤثر ہے.ان خاتون نے جس طرح اپنے کردار میں ڈوب کر اس کو ادا کیا ہے، وہ بےمثال ہے.
اگر بات اداکاری کی ہو، تو صرف مثبت ہی نہیں، منفی کرداروں نے بھی بہت اچھی پرفارمنس دے کر اس سیریز کو زندہ جاوید بنا دیا ہے.
اس سیریز میں سب سے اہم رخ ترکوں کا وہ جذبہ ہے، کہ وہ کس طرح عثمانیوں کی سلطنت کو عالم کے لئے رحمت بنا کر پیش کررہے.

ظلم، زیادتی اور جبر کے ماحول میں قدرت کی طرف سے بار بار اشارات کا اظہار کہ بس اب اس سلطنت کا ظہور ہونے ہی والا ہے ، جو اس جبر اور زیادتی کے طوفان کو لگام ڈال دے گی.

اس کے لئے انہوں نے ابن عربی اندلسی کے نام سے ایک قطب کا کردار تخلیق کیا ہے، جو تکوینی امور اور اشارات کی وجہ سے ارتغل کے ہر مشکل میں روحانی طور پر مددگار رہتا ہے اور تنگی کے وقت میں اس کے کام آتا ہے

ترک اسلام اور جہاد کو قومی عصبیت کے ساتھ ملا کر "بحالیء عروج ” کا جو خواب دیکھ رہے، دراصل ارتغل اس کا ایک مجسم ثبوت ہے. یہ ان کی ماضی سے زیادہ ان کے مسقبل کا پروگرام لگتا ہے. اللہ ان کے نیک ارادوں میں ان کو کامیابی نصیب فرماوے
آمین

اللہ کریم ان کے کرداروں کو اس بہترین کام کی وجہ سے دنیا میں کامل ہدایت اور آخرت میں اپنا خصوصی قرب نصیب فرماوے

آمین.

میں تو ان کے لئے بہت ساری دعائیں کرتا ہوں. آج اگر سکرین سے امت کو بچانا ممکن نہیں، تو کم از کم امت کو اچھی چیز تو دی جاسکتی ہے نا.!
المختصر جس نے نسیم حجازی کے ناول اور التمش کی "داستان ایمان فروشوں ” کی نہ پڑھی ہو، تو یہ سیریز ہر دو عنوانات کی طرف سے کافی شافی بن سکتی ہے.

اگر چہرے کے پردہ کو اختلاف علماء کی وجہ سے اجازت دی جائے اور چند عیسائی لڑکیوں کی طرف نہ دیکھا جائے، جن کے سر کے بال نظر آتےہیں، تو پوری سیریز میں شرعی بنیادوں پر ایک ہی چیز قابل اشکال ٹھہرتی ہے اور وہ ہے کرداروں کا واپسی کے بعد اپنی نام نہاد بیویوں سے معانقہ کرنا …

بہرحال یہ ترکوں کی طرف سے ایک ایسے دور میں جب جہاد کا نام لینا ہی دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے، بہت بڑا اقدام ہے-

تبصرے
Loading...